• ☚ چوہد ری اخلاق وڑائچ کا گرین گجرات مہم کے پائلٹ پراجیکٹ کا دورہ
  • ☚ اسد عمر کا مستعفی ہونا حکومتی نااہلی کا ثبوت ہے : عبد الغنی سندھو
  • ☚ چوہدری سلیم سرور جوڑا کا کڈنی سنٹر کا دورہ‘ پرتپاک خیر مقدم
  • ☚ میاں محمد ارشد بانٹھ کی وفات پر مختلف مکاتب فکر کا اظہار تعزیت
  • ☚ چوہدری طاہر مانڈہ کی کامیابی ن لیگ پر اعتماد کا اظہار ہے:جاویدبٹ
  • ☚ کنجاہ :سیٹھ فضل حسین کی اہلیہ کا ختم قل‘ ممتاز شخصیات کی شرکت
  • ☚ گجرات بار کے سابق صدر چوہد ری رخسار کے بھائی چوہدری افضال بیدری سے قتل
  • ☚ چوہدری برادران گجرات کی تعمیرو ترقی کے ضامن ہیں:نصر اللہ کھوکھر
  • ☚ کرپشن سے جڑ سے اکھاڑے بغیر ترقی ممکن نہیں: حسین عباس
  • ☚ اسمال اسٹیٹ ایریا کیساتھ سوتیلا پن بند کیا جائے:یاسر طارق بٹ
  • ☚ سری لنکا میں گرجا گھروں اور ہوٹل دھماکوں میں 207 افراد ہلاک، کرفیو نافذ
  • ☚ ایمنسٹی یا کریک ڈائون، کابینہ کے دوسرے اجلاس میں بھی اسکیم پر اختلافات برقرار، متعدد ارکان FBR سے ناراض، ذائع
  • ☚ ہیموفیلیا کے عالمی دن کے موقع پرخصوصی تقریب کا انعقاد
  • ☚ فیض آباد دھرنا کیس، فیصلے سے افواج پاکستان کے حوصلے پر منفی اثرات مرتب ہوئے، وزارت دفاع
  • ☚ گجرات میں 5 افراد سے منشیات اور اسلحہ برآمد کر کے مقدمات درج کر لیے گئے
  • ☚ عمران خان چند برسوں میں اثاثے کئی گنا ہوجانےکا حساب دیں، سلیمان شہباز
  • ☚ IMF سے معاہدہ اسی ماہ،معاملات طے پاگئے، 6 سے 8 ارب ڈالر قرض ملے گا، کچھ چیزیں مہنگی ہوں گی،عام آدمی متاثر نہیں ہوگا، وزیرخزانہ
  • ☚ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاملات طے ‘ اربوں ڈالر کا پیکج ملے گا:کڑے معاشی بحران کا سامنا ہے: وزیر خزانہ
  • ☚ قیمتوں میں اضافہ، حکومت کا دواساز کمپنیوں کیخلاف کریک ڈائون
  • ☚ استعفیٰ دیا نہ کہیں جارہا ہوں، IMF سے اصولی اتفاق ہوگیا، اسدعمر
  • ☚ سکاٹش کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان چل بسے
  • ☚ معدومیت کے خلاف بغاوت،پولیس مظاہرین کے خلاف حرکت میں آگئی
  • ☚ تھریسامے کی ایم پیز کو ہدایت دینے کی بجائے10کے ریس میں شرکت
  • ☚ کوونٹری میں تارکین وطن مخالف بریگزسٹ پارٹی کا اجلاس، مقامی آبادی کا شدید احتجاج
  • ☚ لندن: مظاہرین کا مظفرآباد میں ماحولیات کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ
  • ☚ ماحولیاتی آلودگی کیخلاف احتجاج جاری، مرکزی شاہراہیں بند، عوام کو شدید مشکلات، 300 مظاہرین گرفتار
  • ☚ انگلینڈ میں لینڈلارڈز پر کسی غلطی کے بغیر کرایہ دار سے مکان خالی کرانے پر پابندی
  • ☚ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان مسئلہ کشمیر دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہے، عبدالرشید ترابی
  • ☚ برطانیہ میں بین المذاہب کمیونٹیز آباد ہیں، سب کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، افضل خان کیٹ گرین واجد خان
  • ☚ ہمارا نصب العین روشنی سب کیلئے، موتیا کے مفت آپریشنز کے ذریعے غریبوں کی دنیا روشن کرتے ہیں، عبدالرزاق ساجد
  • ☚ عائشہ عمر نے ٹی وی پر ایک بار پھر اداکاری کی ٹھان لی
  • ☚ سجل علی کی بہن اداکارہ صبورعلی نے خودکشی کی خبروں پر خاموشی توڑدی
  • ☚ لیجنڈ اداکار معین اختر کو مداحوں سے بچھڑے 8 برس بیت گئے
  • ☚ ہالی ووڈ فلم سیریز’ایونجرز‘ کے سپرہیروبڑے پردے پرانٹری کیلئے تیار
  • ☚ آصف رضا میر امریکی ٹی وی ڈرامے میں اداکاری کے جوہر دکھائیں گے
  • ☚ عرب امارات نے انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کر لیا
  • ☚ کسی کھلاڑی کو ٹرمپ کارڈ قرار نہیں دے سکتے،معین خان
  • ☚ میرا آخری ورلڈ کپ ہوگا، شعیب ملک، وسیم اکرم سے موازنہ درست نہیں، شاہین آفریدی
  • ☚ ایم ڈی مقرر کرنے کی منظوری نہیں لی،احسان مانی پر غلط بیانی کا الزام
  • ☚ گورننگ بورڈ کا اقدام چیئرمین پی سی بی کیخلاف اعلان عدم اعتماد،سیٹھی
  • آج کا اخبار

    فنکار ملک میں جمہوریت کے فروغ کے خواہشمند ہیں

    Published: 13-07-2018

    Cinque Terre

    پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے اہم ترین موڑ سے گزر رہا ہے۔ ملک میں دوسری جمہوری حکومت اپنی مدت کو کامیابی سے مکمل کر چکی ہے۔ پورا ملک انتخابات کی تیاریوں میں مصروف دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستانی عوام نے لاتعداد قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجہ میں جمہوری سفر میں تسلسل حاصل کیا ہے۔ اس جدوجہد میں ملک کے تمام طبقات اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے فنکار بھی اس جدوجہد میں پیش پیش رہے ہیں۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ فن کو پاکستانی معاشرے میں پنپنے اور ترقی کرنے میں کافی محنت کرنا پڑی ہے لیکن پاکستان میں فلم، تھیٹر، ٹی وی اور موسیقی سے وابستہ فنکاروں نے ہمیشہ بڑی محنت، لگن اور مستقل مزاجی کے ساتھ معاشرے میں اپنا مقام بنانے کے لیے کوشش کی اور اس کوشش کے نتیجہ میں آج پاکستان کے عوام ماضی اور حال کے فنکاروں سے اپنی محبت اور لگائو کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔پاکستانی فلمی صنعت، ڈرامہ اور موسیقی سے وابستہ فنکاروں نے تاریخ کے ہر موقع پر اپنی سماجی اور ثقافتی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا ہے۔ اس مقصد کے لیے نہ صرف انھوں نے اپنے فن کا استعمال کیا بلکہ انفرادی اور اجتماعی طور پر مختلف طرح کی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اگر پاکستانی معاشرے میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کے فروغ کی بات کی جائے تو اس میدان میں بھی فنکار برادری اپنی کوششوں کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ ملک میں آمریت کے خلاف جدوجہد میں اور جمہوری طاقتوں کے امور میں فنکاروں نے اپنی بساط کے مطابق ہمیشہ ہی کردار ادا کیا ہے۔ فنکاروں نے اپنے فنون لطیفہ کے ذریعے سے جمہوری اقدار کے فروغ اور معاشرے میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے اہم فریضہ انجام دیا ہے۔ علاوہ ازیں فنکار سیاست کے میدان میں بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔فلمی صنعت سے وابستہ فنکاروں کو جمہوریت کے فروغ کی جدوجہد میں حصہ لینے کا حوصلہ اور روایت ان تخلیق کاروں سے ورثہ میں ملی جنھوں نے پاکستان کی آزادی کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ قیام پاکستان میں اور آزادی کے بعد مہاجرین کی امداد کے لیے ان فنکاروں اور تخلیق کاروں کی کوششیں پاکستانی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ ملک میں ہونے والے تمام انتخابات میں فنکار ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔ کئی فنکاروں نے خود بھی بطور امیدوار انتخابات میں بھرپور حصہ لیا اور کچھ فنکار سیاسی جماعتوں کے ثقافتی ونگز اور دیگر شعبہ جات سے وابستہ رہے۔ اگر ماضی کے فنکاروں اور آج کے سینئرز کی بات کی جائے تو محمد علی، سنتوش، درپن، مصطفیٰ قریشی، شفیع محمد، کنول، غلام محی الدین، سدھیر، قوی خان، آصف خان اور دوسرے کئی اداکاروں نے سیاسی میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اگر موجودہ سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اداکار اور گلوکار اپنے تئیں اپنی پسندیدہ سیاسی جماعتوں کی سپورٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گلوکاروں کی اکثریت جو سیاسی حوالوں سے متحرک ہے اس نے ایسے نغمات کو ریکارڈ کیا ہے جس کے ذریعہ رائے عامہ کو ہموار کرنے کے علاوہ سیاسی جلسے اور جلوسوں میں سیاسی کارکنان کو سرگرم اور متحرک رکھنے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ کئی گلوکار سیاسی جلوس میں لائیو پرفارم بھی کرتے ہیں۔ ان گلوکاروں میں عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی، ابرار الحق، راحت فتح علی خان، وارث بیگ، سلمان احمد اور دوسرے گلوکار شامل ہیں۔ ابرار الحق تو سیاسی میدان میں باقاعدہ ایک جماعت کی جانب سے انتخابات میں حصہ بھی لے رہے ہیں۔ اسی طرح گلوکار جواد احمد نے اپنی سیاسی جماعت تشکیل دی ہے۔سوشل میڈیا کی مقبولیت کی وجہ سے فنکاروں کا سیاسی جماعتوں کو سپورٹ کرنے اور مخالفین پر تنقید کرنے کا انداز بھی بدل گیا ہے۔ اکثر اداکار اور اداکارائیں فیس بک، ٹویٹر، اور انسٹاگرام پر سیاسی موضوعات پر گفتگو کرتے اور اپنی آراء کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان فنکاروں کی سیاسی پوسٹس کو دیکھ کر اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے فنکار سماج کے ہر معاملہ پر اپنی رائے رکھتے ہیں اور اس کا برملا اظہار کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔فنکاروں کی سیاسی وابستگی ان کا بطور شہری ہونے کا حق ہے اور وہ اس حق کی بجا آوری بطریق احسن انجام دے رہے ہیں۔ لیکن سب سے اہم بات فنکاروں کا ملک میں جمہوریت کے سفر کے تسلسل پر مسرت کا اظہار کرنا اور اس حوالے سے اپنی سپورٹ کو شائقین تک پہنچانا ہے۔ اس حوالے سے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے اداکار و ہدایتکار شان کا کہنا تھا کہ ان کو ملک میں جاری سیاسی شعور کی بیداری کو دیکھ کر مسرت ہوتی ہے۔ شان نے کہا کہ پاکستان کے عوام باشعور ہیں اور ان کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ ملک کی ترقی کا اصل راز جمہوری سفر کے تسلسل میں پوشیدہ ہے۔ شان نے کہا کہ وہ ملک کے سیاسی حالات پر جلد ہی ایک فلم کا آغاز کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے والد ریاض شاہد کی فلمی روایت بھی سنجیدہ اور قومی ایشوز کو فلم کے میڈیم کے ذریعہ سے عوام تک پہنچانے کی ہے۔ شان نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ووٹرز الیکشن کے دن اپنے حق کا لازمی استعمال کریں۔ انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ ریما کا کہنا تھا کہ ان کو اس بات کی خوشی ہے کہ عام انتخابات کے حوالے سے عوام میں جوش و خروش موجود ہے۔ ریما نے کہا کہ وہ بھی انتخابات والے دن سب سے پہلے اپنے ووٹ کا استعمال کریں گی۔ ریما نے کہا کہ سب سے اہم بات پاکستانی نوجوانوں کا ملک کے سیاسی معاملات میں دلچسپی کا اظہار کرنا ہے۔ چونکہ ملک کے مستقبل کا انحصار نوجوانوں پر ہے اس لیے ان کا باشعور اور ذمہ دار ہونا ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اداکار ندیم کا کہنا تھا کہ ملک کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ عوام انتخابات میں کن کو ووٹ دیکر کامیاب کرتے ہیں۔ ندیم نے کہا کہ جب کسی ملک کے عوام ووٹ کی طاقت کے حقیقی استعمال کو جان لیں تو اس ملک کو ترقی کرنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ انتخابات کے حوالے سے اداکارہ ریشم کا کہنا تھا کہ ملک میں بیدار سیاسی شعور اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستانی اپنے حقوق سے آگاہ ہیں۔ نئی نسل کے فنکار احسن خان نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ انتخابات کے نتیجہ میں قائم ہونے والی حکومت عوام کے مسائل کو بہتر انداز سے حل کرنے میں کامیاب ہوگی تاکہ پاکستانی عوام کا معیار زندگی بلند ہو سکے۔اس وقت اگر فنکاروں کے سوشل میڈیا اکائونٹس کا جائزہ لیا جائے تو تمام فنکار سیاسی عمل کے تسلسل اور جمہوریت کے فروغ کے لیے ابلاغ کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کے ثقافتی شعبہ سے منسلک افراد کا سیاسی عمل میں حصہ لینا اور اپنے شائقین کو اپنے ووٹ کے حق کا درست استعمال کرنے کی ترغیب دینا ایک خوش آئند عمل ہے۔