• ☚ معروف نعت خواں قاری غلام سرور نقشبندی کا صاحبزادہ ماکو کی پہاڑیوں میں سیکورٹی گارڈز کی فائرنگ سے جاں بحق
  • ☚ ون ڈش کی خلاف وزری پر جلالپورجٹاں کے میرج ہال میں چھاپے ،رنگ برنگے کھانے قبضہ کرلئے گئے
  • ☚ پالتوکتے کوچھریاں مارکرقتل کرنیکامعاملہ،واقعہ کاسخٹ نوٹس لے لیاگیا
  • ☚ ناروالی سنٹر میں پانچویں جماعت کا امتحان پر امن طریقہ سے ہو رہا ہے
  • ☚ ککرالی ہلاکت کیس ،DSPکھاریاں میاں محمد ارشد کومعطل کردیاگیا
  • ☚ علی بٹ اور فیصل بٹ کی سید مصطفی گیلانی کو ایس پی انویسٹی گیشن تعینات ہونے پر مبارکباد
  • ☚ جھیورنوالی سے 87پتنگیں برآمد ،کنجاہ پولیس کامیاب آپریشن
  • ☚ پنجاب پولیس نے اپنا ویب ٹی وی چینل بنانیکافیصلہ کرلیا،میگزین بھی شائع ہوگا
  • ☚ فاران انسٹی ٹیوٹ کی قابل قدرکاوشیں ہیں،طارق جاوید چوہدری کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں:ڈاکٹراعجاز
  • ☚ ایس پی انویسٹی گیشن کے آتے ہی ایس پی ہیڈکوارٹر کاتبادلہ ،چارج چھوڑدیا
  • ☚ پاک بھارت کشیدگی، سعودی ولی عہد کے دورہ بھارت کی چکا چوند ماند پڑنے کا خطرہ
  • ☚ پی ٹی آئی کے پاس ہے کیا جو این آر او لیں، خواجہ آصف
  • ☚ قطرکی پاکستان کو ادھارLNGدینے سے معذرت، معاشی دباؤبڑھنے کاامکان
  • ☚ نیب نےن لیگ کے رہنما کامران مائیکل کو گرفتار کرلیا
  • ☚ ’’وزیر ِجھوٹ و خرافات نے جھوٹوں سے بھرپور پریس کانفرنس کی ‘‘
  • ☚ ’’وزیر ِجھوٹ و خرافات نے جھوٹوں سے بھرپور پریس کانفرنس کی ‘‘
  • ☚ عمران خان نے سہانے خواب دکھا کر عوام کو دھوکا دیا، احسن اقبال
  • ☚ ’’مڈٹرم الیکشن کی باتیں قیاس آرائیاں ہیں‘‘
  • ☚ سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے
  • ☚ اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے
  • ☚ عمران خان نے بھارتی دھمکیوں کا دو ٹوک جواب دے کر قوم کے دل جیت لئے، کمیٹی رہنما
  • ☚ تھریسامے کے ’’مخالفانہ ماحول‘‘میں 5 سال قبل گرفتار طالب علم اب تک زیرحراست
  • ☚ کلبھوشن بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کیلئے کام کر رہا تھا، پاکستانی اٹارنی جنرل
  • ☚ کشمیر میںانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے کیلئے یورپی و برطانوی ارکان پارلیمنٹ کو کردار ادا کرنا ہوگا، امجد بشیر ایم ای پی
  • ☚ زلفی بخاری کا ’’اوورسیز پاکستانی سوشل کونسل ‘‘ کے قیام کا اعلان
  • ☚ بریگزٹ، تھریسامے ایم پیز سے ڈیل میں تبدیلی کیلئے مزید وقت مانگیں گی
  • ☚ حکومت نو ڈیل بریگزٹ کی صورت میں سڑکوں پر فسادات کی تیاری کررہی ہے، لارڈ باب
  • ☚ لیورپول سٹی سینٹر کے قریب فائرنگ سے 30سالہ شخص ہلاک
  • ☚ عوامی مینڈیٹ کی تکمیل حکومت کی ذمہ داری، یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کا عمل بروقت مکمل کرلوں گی، تھریسامے
  • ☚ عوامی مینڈیٹ کی تکمیل حکومت کی ذمہ داری، یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کا عمل بروقت مکمل کرلوں گی، تھریسامے
  • ☚ کرینہ کپور کی پریانکا چوپڑا کو ماضی نہ بھولنے کی تلقین
  • ☚ سدھو کو کپل شرما شو سے نکالنے میں سلمان خان ملوث نکلے
  • ☚ علی ظفر کی ٹوئٹ پر بھارتی آپے سے باہر ہوگئے
  • ☚ کرن جوہرکی چہیتی کہنے پرکنگنا کوعالیہ کا کرارجواب
  • ☚ فلم کے سیٹ پررنبیر کو دیکھ کر عالیہ ڈائیلاگ کیوں بھول جاتی ہیں؟ اداکارہ کا اہم انکشاف
  • ☚ آسٹریلیا سے سیریز،حارث رئوف سلیکٹرز کی نظر میں آگئے
  • ☚ سپرلیگ پاکستان کیلئے مفید، اچھے کرکٹر ملیں گے، شاہد آفریدی، ٹیلنٹ کو پرکھا جائے
  • ☚ چیئرمین احسان مانی اور ایم ڈی وسیم خان آج دبئی روانہ ہونگے
  • ☚ پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم نے تاریخ رقم کردی
  • ☚ آئی سی سی T20 رینکنگ، پاکستان کی پہلی پوزیشن برقرار
  • آج کا اخبار

    آرٹیکل35اے پر کشمیر ی ڈائسفرا اسٹیئر نگ گروپ کا قیام ، کمیٹی تشکیل

    Published: 07-10-2018

    Cinque Terre


    لوٹن: جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سفارتی شعبہ کے انچارج ظفر خان نے آرٹیکل 35اے کے حوالیسے بھارتی سازش کو بے نقاب کرنیکے لیے ایک اجلاس کا اہتمام کیا جس میں متعدد تنظیموں سے متعلق کمیونٹی کے مختلف طبقات سے متعلق رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس الخدمت سنٹر لوٹن میں منعقد ہوا۔ شرکاء کو جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے برطانیہ کے صدر صابر گل، جنرل سیکرٹری سید تحسین گیلانی، ملک اعجاز اور صدر لوٹن راجہ کمان افسر نیخوش آمدید کیا۔اس موقع پر 5 رکنی کشمیری ڈائیسفرا سٹیرنگ گروپ آن 35 اے کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں سید نذیر گیلانی، ظفر خان ، عتیق ملک، طاہر بوستان اور صادق سبہانی کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ گروپ اس بات کا جائزہ لے گا کہ کیا سپریم کورٹ آف بھارت میں پہلے سے دائر پٹیشن کشمیری عوام کے حق میں ہے یا بھارت کے حق میں ہے اور کیا ڈائیسفرا کے کشمیری اس کیس میں ایک پارٹی بن سکتے ہیں اجلاس کے بعد فرنٹ کے سینئر اور دیرینہ رہنما ملک اعجاز نے جنگ کو بتایا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی اس بھارتی سازش کو اجلاس میں تفصیل سے ڈسکس کیا گیا، کشمیری رہنماوں نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہارکیا ہے کہ بھارت رائے شماری کے عمل کو متاثر کرنے کے لیے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہاہے اور اس حوالے سے آرٹیکل 35 اے کی کلیدی اہمیت ہے۔ مگر برطانیہ میں کشمیری ڈائیسفرا اس بات کا عزم کرتی ہے کہ وہ اپنے قومی تشخص ، پہچان اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ فرنٹ کے بزرگ رہنما ملک اعجاز نے کہا کہ یہ امر خوش آئندہے کہ جے کے ایل ایف کی کال پر نہ صرف آزادی پسند قوم پرست کشمیری رہنما بھی اجلاس میں شریک ہوئے بلکہ مختلف الفکر عمائدین نے شرکت کی۔ یہ پروگرام مکمل طور پر غیر سیاسی تھا۔ شرکاء میں کشمیر میں لندن سے کشمیر میں حقوق انسانی کے حوالے کام کرنے والی معروف شخصیت سید نذیر گیلانی، لوٹن کی ابھرتی ہوئی سیاسی شخصیت عتیق ملک، چیئرمین بلڈنگ راجہ اکبرداد خان ، سابق میئر لوٹن چوہدری مسعود اختر ، کونسلر راجہ وحید اکبر، کونسلر طاہر ملک، پی پی ایکشن کمیٹی کے اعظم خان راجہ، صدر کشمیر تحریک انصاف لوٹن چوہدری محمد شفاعت پوٹھی، ملک رفیق، برمنگھم سے چیئرمین جموں کشمیر لبریشن الائنس نجیب افسر ، چوہدری جاوید ملک، قوم پرست کشمیری طاہر بوستان،راجہ منور خان اور صادق سبہانی شرکاء میں شامل تھے۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ بھارتی سپریم کورٹ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیر میں مداخلت کا کوئی اختیار ہی نہیں اس لیے اگر آرٹیکل 35 اے کے حوالے کوئی بھی فیصلہ کیا گیا تو اسے انٹرنیشل کورٹ آف جسٹس میں چیلنج کیا جائے گا۔ اس ایشو پر تمام کشمیری متحد ہیں اور کشمیری ڈائیسفر ہر پلیٹ فارم سے بھارت کی اس سازش کے خلاف آواز بلند کرے گی کشمیری رہنماوں نے کہا کہ کشمیر کی مسلم اکثریتی ریاست کو اقلیت میں تبدیلی کی کوشش، ہر سطح پر مذمت کرتے ہیں۔ مختلف رہنماؤں نے کہا کہ آرٹیکل 35 اے کے حوالے سے برطانیہ کے ہر شہر میں کشمیری سخت ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ برطانیہ کے سنیئر رہنماء ملک اعجاز نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی سازش کو وسیع سطح پر بے نقاب کیا جائے گا یہ کشمیر کے خصوصی سٹیٹس کو ختم کرنیکی ناپاک جسارت ہے کشمیر کے مسئلہ کے حل سے دلچسپی رکھنے والے تمام احباب کو اس حوالے سے متحد ہو کر اس سازش پر آواز اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹکل 35A کے باریمیں واضح تھا کہ بھارتی حکومت اور عدلیہ کو اسے ختم کرنے یاترمیم کرنے کا کوئی اختیار نہیں اس سے کشمیر کی خصوصی حیثیت قائم ہے۔انہوں نے جنگ سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ 1927 سے بیرون ریاست لوگوں کو ریاستی زمین خریدنے یا اسے حاصل کرنے پر پابندی عائد کرکے کشمیرکے عوام کے خصوصی اختیارات اور ان کے مالکانہ حقوق کا تحفظ کیا گیا تھا مگر اتنے سال گزرنے کے بعد اس پر شب خون مارنے کی کوشش کی جارہی ہے مودی سرکار ریاستی مسلم اکثریت کو ختم کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہی ہے لیکن برطانیہ کے کشمیری بیدار ہیں اور وہ بھارت کی اس طرح کی کوشش کو ہر سطح پر ایکسپوز کریں گے انہوں نے کہا اس حوالے سے آزادکشمیر حکومت اور وہاں کے سیاسی زعماء کا کردار بھی قابل غور ہے جو اپنے حصے کا کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت ہر حربہ استعمال کرنے کے بعد اب عدالتی طریقے سے ہماری شناخت ختم کرنے کے درپے ہے اور برطانوی کشمیری متنبہ کرتے ہیں کہ اگر کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی ساش کو بند نہ کیا گیا تو برٹش کشمیری اعلی سطح پر احتجاج کریں گے انہوں نے کہا کہ بھارت کی سپریم کورٹ کو اس قانون کو کالعدم کرنے یا اس میں ترمیم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور سٹیٹ سبجکٹ قانوں پر اثر انداز ہونے کی ہر سازش کا تمام کشمیری مل کر توڑ کریں گے۔ اس حوالیسے کشمیر کی مزاحمتی تحریک کی جانب سے احتجاج کال کی برطانیہ کے کشمیری مکمل حمایت کرتے ہیں۔