• ☚ گیس بحران بڑھتے ہی ایل پی جی گیس ری فلنگ کا دھندہ چمک اٹھا
  • ☚ گجرات: ڈی ایس پیز کے دفاتر میں ویڈیو لنک کانفرنس روم قائم
  • ☚ گجرات:ایف آئی اے کو 10سال سے مطلوب 2 انسانی اسمگلرگرفتار
  • ☚ راجہ ارشد محمود جماعت اسلامی کی فری لیگل کمیٹی کے صدر مقرر
  • ☚ گجرا ت پریس کلب اور بار کابینہ کے اعزاز میں ظہرانہ
  • ☚ ایلیٹ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے عہدیداران کا اجلاس‘ مختلف امور پر گفتگو
  • ☚ چوہدر ی بنگش خاں کی دعوت ولیمہ ‘ اہم شخصیات کے اکٹھ میں تبدیل
  • ☚ حاجی یوسف گل کا دورہ گجرات بار‘ نومنتخب کابینہ کیلئے نیک خواہشات
  • ☚ پنجاب گروپ آف کالجز کے زیر اہتمام طالبات کیلئے ایلیٹ ٹیسٹ
  • ☚ اقساط پرموٹر سائیکلیں فروخت کرنیوالوں نے وصولی کیلئے غنڈے پال لیے
  • ☚ عمران پانچ سال پورے نہیں کریں گے، اتنا دیوار سے نہ لگائو کہ عوام میرے ہاتھ میں نہ رہیں، آصف زرداری
  • ☚ گوشوارے جمع نہ کرنے پر،فواد چوہدری اور4وزراء سمیت332ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت معطل
  • ☚ آپ لوگ کام نہیں کرسکتے، ملک سے محبت بھی کم ہوگئی، چیف جسٹس اسد عمر پر برہم
  • ☚ قرضے آرمی چیف کی وجہ سے ملے، عمران کا کمال نہیں، فوجی عدالتوں سے دہشت گردی ختم ہوئی، شہبازشریف
  • ☚ شریف فیملی سے ایک اور خاتون کی سیاسی انٹری
  • ☚ ’دوائی نہ دینے والی حکومت نوکریاں کیا دے گی‘
  • ☚ بزم غنیمت وشریف کنجاہی کی نئی تنظیم سازی کردی گی صدرسخی کنجاہی جنرل سیکرٹری ڈاکٹرمحمدعبدالمالک ہونگے
  • ☚ عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب گئے،اسلام آباد پر چڑھائی کی توحکومتی تابوت میں آخری کیل ہوگی،بلاول بھٹو
  • ☚ ایف اے ٹی ایف نے پاکستانی موقف تسلیم کرلیا
  • ☚ علیمہ خان کی امریکی ریاست نیو جرسی میں بھی جائیداد نکل آئی
  • ☚ یورپ وا مریکہ میں شدید برف باری کا سلسلہ جاری
  • ☚ یوٹیوب نے متنازع ٹامی رابنسن کے اکائونٹ پر اشتہارات معطل کردیئے
  • ☚ برطانوی ڈرائیوروں کو نوڈیل بریگزٹ وارننگ دیدی گئی
  • ☚ 2افرادلوٹ مار کے دوران چاقو گھونپے جانے کے بعد اسپتال میں زیر علاج
  • ☚ یورپی یونین سے نکلنے کے متعلق نیا ریفرنڈم کرایا جائے،نکولا سٹرجن
  • ☚ برطانوی حکومت کو پارلیمنٹ میں شکست،یورپی یونین سے نکلنے کے متعلق نیا ریفرنڈم کرایا جائے،نکولا سٹرجن
  • ☚ تھریسامے اپنی حکومت بچانے میں کامیاب، تحریک عدم اعتماد 19ووٹوں سے ناکام
  • ☚ ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے 16 ہزار600 پرتشدد جرائم ریکارڈ ہی نہیں کئے
  • ☚ مانچسٹر،ابوظہی جانے والی پرواز کے کیبن میں سموک پر ایمرجنسی لینڈنگ
  • ☚ بریگزٹ پر حکومت کی ڈیل نامنظور، 3 دن میں پلان B پیش کرنا ہوگا
  • ☚ پاکستانی اداکارہ ایمان علی بھی شادی کی تیاریوں میں مصروف
  • ☚ ملک کے ناموراداکارگلاب چانڈیو انتقال کرگئے
  • ☚ کراچی میں میوزیکل کنسرٹس کا دور واپس آگیا
  • ☚ انوشکا شرما کو تمباکو کے اشتہار میں کام کرنا مہنگا پڑگیا
  • ☚ فلم سے کیوں نکالا؟ تاپسی پنو پھٹ پڑیں
  • ☚ ایشین جونیئر اسکواش، پاکستان کی کامیابی
  • ☚ خواتین کرکٹ ٹیم کا تربیتی کیمپ شروع
  • ☚ کراچی میں کھیلنے کا تجربہ ناقابل یقین تھا، ڈومینی
  • ☚ میراتھن ریس کے روٹ کی منظوری
  • ☚ نئے ہاکی عالمی چیمپئن بیلجیم پر میچز فکس کرنے کا شبہ
  • آج کا اخبار

    معاملات احتساب عدالت بھیجنا نہیں چاہئے تھا، چیف جسٹس، نوا زشریف فیملی کی رہائی کا فیصلہ ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، سپریم کورٹ

    Published: 07-11-2018

    Cinque Terre

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر ایون فیلڈ ریفرنس میں شریف خاندان کی رہائی ختم کرنے کے سواکوئی چارہ نہیں ہے، معطلی کے فیصلے نے ملک میں فقہ قانون تباہ کر دیا، ہائیکورٹ ضمانت کیس میں کیسے کہہ سکتی شواہد میں نقائص ہیں، ہائیکورٹ نے فیصلے میں سخت ترین الفاظ، قیاس آرائیوں اور شواہد کا ذکر کیا گیا، عدالت کو پہلے اپیل پر فیصلہ کرنا چاہیے تھا،جائزہ لینگے ہائیکورٹ کس حد تک جا سکتی ہے، یہ مقدمہ ایک فرد کا نہیں بلکہ عدالتی نظام میں بہتری کا معاملہ ہے، اسلئے آیا ہوں، یہ قانون کی تشریح کا معاملہ ہے ، اثاثے بنے کیسے،اڑ کر تو نہیں آگئے تھے، کہیں سے من و سلویٰ تو نہیں اتر آیا، پیسے درختوں پر تو نہیں اگتے، سپریم کورٹ نے تو بڑی مہربانی کی تھی کیس ٹرائل کورٹ بھیج دیا، معاملہ احتساب عدالت بھیجنا ہی نہیں چاہیے تھا، آپ نے قطری خط سمیت چار بار موقف تبدیل کیا،اثاثے جائز ثابت کرنا آپکی ذمہ داری ہے، ایون فیلڈ فلیٹس نواز شریف کے ہیں، کورٹ نے میرٹ پر فیصلہ دیا۔ خواجہ حارث نے بتایا کہ اثاثے نوازشریف کے بڑے بیٹے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملزم نے ثابت کرنا تھا اثاثے کس کے ہیں۔خواجہ حارث نے کہا سر ایسا نہیں ہے، یہ قانون نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا قانون وہ ہو گا جو ہم طے کرینگے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ کیسے ثابت ہوگا کہ اثاثے درست طریقے سے بنائے گئے یا نہیں؟ یہ مقدمہ مکمل تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 ؍ رکنی خصوصی بنچ نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کی سزا معطلی کیخلاف نیب کی اپیل پر سماعت کی۔ نیب پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ ہائی کورٹ میں دائر آئینی درخواستوں پر اعتراض کیا تھا کہ آئینی درخواست پر زیر سماعت کیس کے میرٹ پر بحث نہیں ہو سکتی، ملزم کی زندگی خطرے میں ہوتو ہی سزا معطل ہو سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمے کے دوران کہا کہ آپ اپنے تحریری نکات پہلے دے چکے ہیں، آپ کے نکات مد نظر رکھ کر ہی فریقین کو نوٹس جاری کیا تھا، نیب مقدمات میں عام طور پر ضمانت نہیں ہوتی، سزا معطلی میں شواہد کو نہیں دیکھا جاتا، کورٹ نے میرٹ اور شواہد پر فیصلہ دیا، پہلے کبھی ایسا فیصلہ نہیں دیکھا، بہتر ہو گا۔ خواجہ حارث کا موقف پہلے سن لیں۔ خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ 47؍ نہیں صرف 10؍ صفحات پر مشتمل ہے اور ہائی کورٹ نے باقی فریقین کی گزارشات لکھی ہیں،خواجہ حارث نے بتایا کہ سب سے پہلے بینکنگ قانون کے تحت ضمانت ختم کی گئی جس پر چیف جسٹس نے کہا اس کیس میں اپیلیں ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں، سزا معطلی رٹ پٹیشن پر فیصلہ کردیا گیا، نیب نے یہ چیز چیلنج کی؟ چیف جسٹس نے کہا ہم نے صرف رحم دلی کے تحت نیب کی درخواست مسترد کی تھی، سپریم کورٹ نے تو بڑی مہربانی کی ہے، ہائی کورٹ ضمانت کی درخواست کا فیصلہ کرتے ہوئے کیسے کہہ سکتی ہے کہ شواہد میں نقائص ہیں، ہم کیوں نہ یہ فیصلہ کالعدم کردیں، کوئی ایک ایسا فیصلہ بتا دیں جو اس طرح کا ہو۔ چیف جسٹس نے خواجہ حارث کو کہا ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے تھے یا نہیں یہ تو آپ کے مؤکل نے ثابت کرنا تھا، آپ مقدمے کے حکم کے وہ نکات بتائیں جن پر اعتراض ہے۔ خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ ایون فیلڈ کی جائیداد میری ہے جو میرے معلوم ذرائع آمدن سے زائد ہے، فیصلے میں نہ تو ذرائع آمدن کی تفصیل ہے اور نہ ہی جائیداد کی مالیت بتائی گئی جس پر چیف جسٹس نے کہا یہ بات نہیں ہے۔ ذرائع آمدن تو آپ نے بتانے تھے۔ چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا اثاثے بنے کیسے کہیں سے اڑ کر تو نہیں آگئے تھے، کہیں سے من و سلویٰ تو نہیں اتر آیا، پیسے درختوں پر تو نہیں اگتے، قطری خط سمیت اثاثوں کی کئی کہانیاں سنائی گئیں، اصول قانون میں ملزم نے ثابت کرنا تھا کہ اثاثے کس کے ہیں۔ خواجہ حارث نے کہا یہ نواز شریف کے بڑے بیٹے کے اثاثے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا اس کیس میں آپ کے 4 مؤقف آئے ہیں، تو آپ نے ثابت کرنا تھا کہ کن ذرائع سے جائیداد بنائی، خواجہ حارث نے کہا سر ایسا نہیں ہے، یہ قانون نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا قانون وہ ہو گا جو ہم طے کرینگے۔چیف جسٹس نے کہا یہ نہ ٹرائل کورٹ ہے نہ ہائیکورٹ، یہ سپریم کورٹ ہے۔ خواجہ حارث نے کہا میں عدالت کو آپکی ججمنٹس بتاتا ہوں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا ʼکیا یہ میری ذاتی ججمنٹس ہیں، ججمنٹس سپریم کورٹ کی ہوتی ہیں کسی کی ذاتی نہیں، آپ اس معاملے پر زیادہ دلائل دینا چاہتے ہیں تو کوئی اور دن رکھ لیتے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا سزا معطلی کیلئے عدالتی فیصلوں میں کہاں لکھا ہے کہ فشنگ کریں، آپ کے خیال میں احتساب عدالت کے فیصلے میں کیا نقائص ہیں۔نواز شریف کے وکیل نے کہا آمدن سے زائد اثاثوں کی فرد جرم عائد کی گئی۔ دوران سماعت نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے چیف جسٹس کو مشورہ کیا دیا کہ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں، بہتر ہو گا آپ آرام کر لیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹرز نے آرام کا مشورہ دیاہے اور کام سے روکا لیکن عدالتی ذمہ داریوں سے کیسے بری ہو سکتا ہوں، اہم ترین معاملہ ہونے کے باعث سماعت کر رہا ہوں، عدالت نے فریقین وکلا کے دلائل سننے کے بعد شریف خاندان کی سزا معطلی کیخلاف نیب کی اپیل پر سماعت 12 نومبر تک کیلئے ملتوی کردی۔