• ☚ مریضو ں کی سہولیات کیلئے بی ایچ یوز چوبیس گھنٹے کھلے رکھنے کا فیصلہ
  • ☚ میونوال :بینک کی اقساط نہ دینے پر رکشہ ڈرائیور کو گولیاں مار دی گئیں
  • ☚ پولیس کو ایمرجنسی کال پر گمراہ کرنیوالے کی سختی ‘گرفتاری کیلئے چھاپے
  • ☚ واپڈا نے بجلی چوروں کا گھیرا تنگ کر دیا‘ گجرات اور کنجاہ میں آپریشن
  • ☚ گجرات پولیس کا اسلحہ برداروں اور منشیات فروشوں کیخلاف آپریشن
  • ☚ طلبا گروپوں میں تصادم اور فائرنگ ‘ تعلیمی اداروں میں سرچ آپریشن کا فیصلہ
  • ☚ ٹریفک حادثات میں نوجوان جاں بحق‘ خاتون سمیت نصف درجن افراد زخمی
  • ☚ حکومت کی نئی لیبر پالیسی کے مثبت اثرات مرتب ہونگے:دلدار جٹ
  • ☚ ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونیوالا نوجوان سفیان سپردخاک
  • ☚ ریسکیو 1122کے زیر اہتمام نجی سکول میں تربیتی ورکشاپ کا انعقاد
  • ☚ عمران خان کے 6 غیر ملکی دوروں کے اخراجات سامنے آگئے
  • ☚ نیب نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو 13 دسمبر کو طلب کرلیا
  • ☚ کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کی محفل میلاد میں دھماکا، 6 زخمی
  • ☚ صدر مملکت کا ٹیلی فون لگوانے کیلئے رشوت کا انکشاف
  • ☚ میڈیا 6 ماہ صرف ترقی دکھائے، آگے وقت بہت اچھا یا بہت خراب، آج پرانی فوج نہیں، ایک ایک اینٹ لگاکر پاکستان دوبارہ بنارہے ہیں، فوجی ترجمان
  • ☚ ’’مریم اورنگزیب جھوٹی ہیں، کسی سے مخلص نہیں‘‘
  • ☚ قطری شہزادے کو نئے پاکستان میں بھی ’تلور‘ کے شکار کی اجازت
  • ☚ ہوسکتا ہے کچھ وزراء کو ہٹا دیں، وزیراعظم
  • ☚ شاہ محمود قریشی کا سشما سوراج کو کرارا جواب
  • ☚ لاڈلے کوکھیلنے کیلئے ملک دیدیاگیا، یوٹرن لینا اچھا ہے تو بجلی، گیس کی بڑھائی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی پرلیں، بلاول بھٹو
  • ☚ معاشی و سیاسی دبائو،فرانس کی طرح برسلز میں بھی احتجاجی مظاہرے،نوجوانوں کی بھر پور شرکت
  • ☚ دہشت گرد کیمیائی حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں، برطانوی حکام کا انتباہ
  • ☚ بریگزٹ ڈیل مسترد کی تو غیر معمولی خطرناک صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے،تھریسامے
  • ☚ فواد چوہدری کی برطانوی اور ہالی ووڈ اداکاروں کو پاکستان آنے کی دعوت
  • ☚ ناروے پلس تھریسا مے پلان کا معقول متبادل آپشن ہو سکتا ہے، امبر رڈ
  • ☚ فواد چوہدری لندن میں پکنک پر ہیں،وزیر اعظم نے وزارت اطلاعات میں آنے کی پیشکش کی ہے،شیخ رشید
  • ☚ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر امن کا خواب بلا جواز ہے،بیرسٹر عبدالمجید ترمبو
  • ☚ منی لانڈرنگ سے نمٹنے کی برطانوی کوشش قابل تعریف ہیں، ایف اے ٹی ایف
  • ☚ ایم پیز کو بیک سٹاپ پر اختیار دینے کی تجویز پر تھریسامے کو تنقید کا سامنا
  • ☚ پاکستان نے فائنل اپیل رد کرکے18 فلاحی تنظیموں کوملک سے نکال دیا
  • ☚ ’دیپیکا اور رنویر‘ شادی کی تقاریب کا احوال
  • ☚ انسٹا گرام 2018 میں زیادہ فالو کی جانے والی سیلیبرٹیز
  • ☚ ’مائیکل جیکسن‘ دنیا کا مشہور ترین پاپ اسٹار
  • ☚ میکسیکو کی حسینہ مس ورلڈ منتخ
  • ☚ فواد اورماہرہ کی ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ ‘ کب ریلیز ہوگی؟ تاریخ کا اعلان ہوگی
  • ☚ ایمر جنگ ایشیا کپ ، پاکستان کو شکست
  • ☚ لاہور قلندرز نے محمد حفیظ کو کپتان مقرر کردیا
  • ☚ بیرون ملک سے افسران کو لانے کا مقصد بورڈ کو پروفیشنل خطوط پر چلانا ہے،احسان مانی
  • ☚ قومی ٹیم کو نئے اسٹارز پی ایس ایل سے نہیں ملے، باسط عل
  • ☚ صرف میری وجہ سےٹیم ہار رہی ہوگی تو قیادت چھوڑ دوں گا، سرفراز احمد
  • آج کا اخبار

    برطانوی کابینہ کا 5 گھنٹے طویل اجلاس، بریگزٹ ڈیل کی منظوری دیدی گئی

    Published: 16-11-2018

    Cinque Terre

    لندن : بریگزٹ پر برطانوی کابینہ کے 5 گھنٹے طویل اجلاس کے بعد بریگزٹ ڈیل کی منظوری دے دی گئی، جس کے مسودے کو آئندہ ماہ برطانوی پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔ اس کا اعلان برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے کابینہ اجلاس کے بعد بدھ کی شب اپنی سرکاری رہائش گاہ 10ڈائوننگ سٹریٹ کے باہر منتظر کھڑے صحافیوں سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسودے کی منظوری میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں تاکہ پرامید ہوں کہ وہ مشکل وقت بھی کامیابی سے نکال لیں گے۔ بدھ کو بریگزٹ منصوبے کے مخالفین اور حمایتیوں نے پارلیمنٹ بلڈنگز اور 10ڈائوننگ سٹریٹ کے باہر علیحدہ علیحدہ مظاہرے بھی کئے۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیراعظم اپنے اقتدار کیلئے خطرے کا باعث بنے بریگزٹ ڈیل میں پہلی خطرناک رکاوٹ پار کرنے میں اس وقت کامیاب ہوگئیں جب 5 گھنٹے کے طویل اجلاس کے بعد کابینہ نے انہیں بریگزٹ ڈیل کیلئے مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ڈیل کو آگے بڑھانے کیلئے سگنل دے دیا۔ وزیراعظم نے اپنی رہائش گاہ کے بعد کہا کہ اس مسودے کیمنظوری میں انہیں پارلیمنٹ میں زیادہ شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم وہ پرامید ہیں کہ وہ اس مزاحمت کیخلاف بھی کامیاب ہوجائیں گی۔ قبل ازیں گزشتہ روز ڈیڑھ سال کے مذاکرات کے بعد طے پانے والی ڈیل کے حوالے سے اپنے پہلے کھلے تبصرے میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک ڈرافٹ بالآخر طے پا گیا ہے، برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کا یہ فیصلہ کم وبیش 46 سالہ رفاقت کا خاتمہ ہے، اس رفاقت کا خاتمہ عالمی مالیاتی بحران کے دوران پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال اور مائیگرنٹس کے سیلاب کے خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے، جون 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم میں52 فیصد برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی جبکہ 48 فیصد نے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیئے تھے، کابینہ سے منظوری کے بعد برطانیہ اوریورپی یونین کے درمیان حتمی معاہدے کیلئے 25 نومبر کو بریگزٹ سربراہ اجلاس ہونے کا امکان ہے۔ منگل کو بریگزٹ کے بارے میں ہونے والے اعلان کے بعد، جو یورپی یونین کی جانب سے 29 مارچ کو بغیر کسی ڈیل کے علیحدگی کے حوالے سے اقدامات شروع کئے جانے کے بعد کیا گیا تھا، پونڈ کی قدر میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ ادھر مے کی جانب سے اپنے وزرا کو راضی کرنے کی کوششوں کے دوران ان کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر ناراض بریگزٹ حمایتی اور تنقید نگار ریلیاں بھی نکال رہے ہیں۔ اخراج کیلئے لندن گروپ بنانے والی لوسی ہیرس نے اس موقع پر کہا کہ ملک کو مکمل طور پر فروخت کردیا گیا، ہم اس کے نتیجے میں یورپین یونین کی بے کار ریاست میں بدل جائیں گے۔ برطانیہ کی سب سے بڑی اپوزیشن کی پارٹی لیبر کے قائد جیرمی کوربن قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں، مذاکرات کے اس پور ےعمل کو شرمناک قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایک بری ڈیل کیلئے مذاکرات میں 2 سال ضائع کردیئے اور اس ڈیل نے ملک کو منجھدار میں پھنسا دیا ہے۔ سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر، جو یورپی یونین کے کٹر حامی ہیں، کا کہنا ہے کہ برطانیہ برسلز میں اپنی حیثیت کھو رہا ہے اور اس کے عوض اسے کچھ نہیں ملا۔ انھوں نے کہا کہ یہ مصالحت نہیں بلکہ مشروط اطاعت کا معاہدہ ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ پیٹر بون نے تھریسا مے پر بریگزٹ کے حق میں ووٹ دینے والوں کو مایوس کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم تھریسا مے کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ بہت سے کنزرویٹو ارکان پارلیمنٹ اور لاکھوں ووٹروں کی حمایت سے محروم ہوچکی ہیں