• ☚ جعلی ڈگری کیس : حاجی ناصر محمود تاحیات نااہل قرار
  • ☚ تھانہ لاری اڈا کی مصالحتی کمیٹی کا اجلاس‘عرفان اسحاق بانٹھ کنونیئر منتخب
  • ☚ معمولی رنجش پر نوجوان کو موت کے گھاٹ اتارنیوالا سفاک قاتل گرفتار
  • ☚ حسین کالونی میں دو بہنوں سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس لے لیا گیا
  • ☚ محمد امین سیال کے بیٹے وحید سیال اور بھتیجے زاہد سیال کی دعوت ولیمہ
  • ☚ گجرات اور منڈی بہاؤالدین میں بجلی چوروں کیخلاف کریک ڈاؤن
  • ☚ گجرات اور منڈی بہاؤالدین میں بجلی چوروں کیخلاف کریک ڈاؤن
  • ☚ شاہدولہ روڈ پر لکڑی کے گودام میں آتشزدگی‘ لاکھوں کا سامان جل گیا
  • ☚ کنجاہ : بجلی چوروں کا گھیرا تنگ‘ نصف درجن چوروں کیخلاف مقدمات درج
  • ☚ چوہدری اخلاق وڑائچ کو چیف آفیسر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد
  • ☚ وزیراعلیٰ جس جھونپڑی میں رہتے ہیں اُس کا پتا بتادیں، مریم اورنگزیب
  • ☚ ’سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہوئے تو ایوان نہیں چلے گا‘
  • ☚ عمران خان کے 6 غیر ملکی دوروں کے اخراجات سامنے آگئے
  • ☚ نیب نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو 13 دسمبر کو طلب کرلیا
  • ☚ کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کی محفل میلاد میں دھماکا، 6 زخمی
  • ☚ صدر مملکت کا ٹیلی فون لگوانے کیلئے رشوت کا انکشاف
  • ☚ میڈیا 6 ماہ صرف ترقی دکھائے، آگے وقت بہت اچھا یا بہت خراب، آج پرانی فوج نہیں، ایک ایک اینٹ لگاکر پاکستان دوبارہ بنارہے ہیں، فوجی ترجمان
  • ☚ ’’مریم اورنگزیب جھوٹی ہیں، کسی سے مخلص نہیں‘‘
  • ☚ قطری شہزادے کو نئے پاکستان میں بھی ’تلور‘ کے شکار کی اجازت
  • ☚ ہوسکتا ہے کچھ وزراء کو ہٹا دیں، وزیراعظم
  • ☚ برطانوی پارلیمنٹ بھی ’’یوٹرن‘‘ ’’لیڈی ٹرن‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھی
  • ☚ یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کا جنگ بندی پر اتفاق
  • ☚ فرانس: کرسمس بازار پر حملہ کرنے والا ملزم مارا گیا
  • ☚ یورپی یونین کا بریگزٹ معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہ کرنے کا اعلان
  • ☚ بریگزٹ معاہدے کو بچانے کیلئے یورپی رہنمائوں سے تھریسامے کی ملاقاتیں
  • ☚ وزیراعظم تھریسامے کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام
  • ☚ معاشی و سیاسی دبائو،فرانس کی طرح برسلز میں بھی احتجاجی مظاہرے،نوجوانوں کی بھر پور شرکت
  • ☚ دہشت گرد کیمیائی حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں، برطانوی حکام کا انتباہ
  • ☚ بریگزٹ ڈیل مسترد کی تو غیر معمولی خطرناک صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے،تھریسامے
  • ☚ فواد چوہدری کی برطانوی اور ہالی ووڈ اداکاروں کو پاکستان آنے کی دعوت
  • ☚ تازہ بہ تازہ: ناکامی سے کیا ڈرنا...
  • ☚ نئی نسل کے گلوکاروں نے فلم انڈسٹری کو نئی زندگی دی
  • ☚ ٹی وی ڈراموں کا سنہرا دور
  • ☚ کترینہ نے فلم ’’ٹھگس آف ہندوستان‘‘ کی ناکامی کی ذمہ داری تسلیم کرلی
  • ☚ ’’اے آر رحمان‘‘ موسیقی کی دنیا کی ایک سحر انگیز شخصیت
  • ☚ بھارتی کرکٹ بورڈنےپاکستان سے 15کروڑ روپے مانگ لیے
  • ☚ ورلڈکپ میں شکست خوردہ ہاکی ٹیم آج وطن لوٹے گی
  • ☚ دلیری دکھائیں، نیچرل گیم کھیلیں، سرفراز کا کھلاڑیوں کو پیغام، کرکٹ ٹیم آج جنوبی افریقا روانہ
  • ☚ ویسٹ انڈیز نے بنگلہ دیش کو ہرادیا
  • ☚ قومی ٹی20، کراچی کوملتان سے شکست،پشاور نے فاٹا کو ہرادیا
  • آج کا اخبار

    عزیز بھٹی شہید ہسپتال گجرات میں انتظامات میں بہتری کی ضرورت

    Published: 01-03-2018

    Cinque Terre

    حال ہی میں عزیز بھٹی شہید ہسپتال میں ایک افسوس ناک واقعہ میڈیا کاکی توجہ کامرکزبناہے جس میں ایک خاتوں نے ہسپتال کے عملہ کے غیرذمہ دارانہ رویے اور بے حسی کی وجہ سے ہسپتال کی حدود میں ہی بچے کوجنم دیاہے ۔ رپورٹ کے مطابق خاتون کوحالت زچگی میں ہسپتال لایاگیاتھا جس کو متعلقہ شعبہ نے داخل کرنے سے معذرت کرلی تھی اورمشیت الٰہی سے خاتون کے ہاں ہسپتال کے اندر ہیبچے کی پیدائش ہوگئی ۔ اس کے بعدمیڈیاکے ذریعے ڈاکٹروں کی غفلت جب خواص وعوام کے نوٹس میں آئی تو خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے بھی حسب معمول اس کانوٹس لیاپھر ہسپتال کی انتظامیہ کی کھینچاتانی بھی ہوئی اور متعلقہ خواتین ڈاکٹروں کی معطلیاں عمل آئیں ۔ انکوائری کمیٹی قائم کی گئی جس کی رپورٹ بھی آچکی ہے جس میں معطل شدہ تین خواتین ڈاکٹرز کی برطرفی کی سفارش کی گئی ہے ۔ انکوائری کمیٹی جس میں عزیز بھٹی شہید ہسپتال کے اے ایم ایس ڈاکٹر عابد ملک بطور کمیٹی کے سربراہ اور ان کے ساتھ سرجن ڈاکٹر زاہد مقصود، سنیئر ڈاکٹر اعزاز بشیر اور ڈپٹی نرسنگ سپرنٹنڈنٹ خنسہ اقبال شامل تھیں چوبیس گھنٹے میں انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کردی ہے ۔رپورٹ کے مطابق 16فروری کوجس دن یہ واقعہ پیش آیاگائنی وارڈ میں خواتین ڈاکٹرزمدیحہ اور ہماکی ڈیوٹی پر تھیں اور تیسری خاتون ڈاکٹر ڈیوٹی سے غیر حاضر تھیں۔ ڈیوٹی پر موجود دوڈاکٹرز میں سے ایک ڈیوٹی کاوقت ختم ہونے سے قبل ہی جاچکی تھیں ۔ عملہ کی طرف سے جب ڈاکٹر سے رابطہ کیاگیاتو انہوں نے ٹیلیفون پر کیس کو ریفر کرنے کی ہدایت کردی۔یہ واقعہ ہے جو اتفاق سے عام ہوگیااور اس سے ڈاکٹرز کی بے حسی، ہسپتال کے ناقص نظم و ضبط اور غریب پاکستانی شہری کی قدروقیمت اور حیثیت کاعکس سامنے آگیا مگر اس طرح کے واقعات عام ہوتے ہیں اور غریب لوگوں کے پاس صبر کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ایک مزدور عبدالرحمٰن ولد محمد شفیع فیکٹری میں کام کے دوران ا پنی انگلیزخمی کربیٹھا اسے ساتھی دن تقریباً بارہ بجے عزیز بھٹی شہید ہسپتال میں لے آئے ایمرجنسی میں اس کی انگلی پر پٹی باندھ کر اسے وارڈ میں بھیج دیاگیااور رات تین بجے اسے اپریشن تھیٹر لے جاکر اس کی انگلی کاٹ دی گئی جولواحقین کیلئے ایک غیر متوقع بات تھی ہسپتال کے عملہ نے جواز یہ پیش کیاکہ انگلی کالی ہوگئی تھی اور اسے کاٹنے کے سواکوئی چارہ نہ تھا۔ لواحقین یہ ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر بروقت علاج ہوتاتو ایسانہ کرناپڑتا۔اسی طرح بہت سے غریب مریضوں کو جنہیں فوری اپریشن کی ضرورت ہوتی ہے انہیں لمبی تاریخ دے دی جاتی ہے انہیں ٹیسٹ کرانے کیلئے بڑاانتظاکرناپڑتاہے اور اکثر باہر سے ٹیسٹ کرانے کاکہاجاتاہے۔
    صحت اور تعلیم انسانی معاشرے کی بنیادی ضرورتیں ہیں،مہذب اور ترقی یافتہ معاشروں اور فلاحی ریاستوں میں ان دو شعبوں کوبہت اہمیت حاصل ہوتی ہے چونکہ کسی ملک کی تعمیروترقی، دفاع اور شہریوں میں شعور بیدارکرنے اورمعاشرے سے غربت اور پسماندگی دور کرنے کیلئے صحت اورتعلیم کاکلیدی کردار ہوتاہے اور ان بنیادی سہولتوں کابہم پہنچانا ریاست کی اولین ذمہ داری خیال کی جاتی ہے ۔ مذکورہ بالاسہولتیں شہریو ں میں حب الوطنی پیداکرنے، جرائم کی روک تھام ، ملکی قوانین کااحترام اور ملک میں معاشی، معاشرتی وسیاسی استحکام لانے کیلئے ضروری ہیں اوران تک ہر کسی کی رسائی کوممکن بنانا بھی ضروری ہے ۔ ہمارے ہاں سرکاری ہسپتال آبادی کے تناسب سے ناکافی ہیں ان میں ضروت کے مطابق سہولتیں میسر نہیں ہیں اور ان میں مریضوں کااتنا رش ہوتاہے کہ بسااوقات علاج معالجے کی صحیح سروس عملہ کیلئے مہیاکرنا ناممکن بھی ہوتا ہے اور انتظامی مسائل بھی پیداہوتے ہیں ۔ اگرچہ ہمارے ہاں اب نہ ڈاکٹرز کی کمی ہے اور نہ ہی پیرمیڈیکل سٹاف کی لیکن ارباب اختیار کیلئے ایک انتظامی چیلنج ضرور ہے۔عزیز بھٹی شہید ہسپتال میں انجمن بہبود مریضاں کی بہت مدد حاصل ہے وہ غریب مریضوں کو دوائیاں بھی مفت فراہم کررہی ہے اور ہسپتال کی دوسری ضرورتیں بھی پوری کرتی ہے۔ لیکن مسائل پھر بھی ہیں ۔ اچھے ہسپتال اور سہولتیں بھی عوام کو مطمئن نہیں کر سکتیں جب تک کہ ڈاکٹرز اور دیگر سٹاف احساس ذمہ داری کے ساتھ کام نہ کرے۔ سرکاری شعبہ میں نئے ہسپتالوں کاقیام اور ہسپتالوں میں نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ جرائم کی روک تھام کیلئے کئی طرح کے نئے محکمے وجود میں آچکے ہیں جن پر کروڑوں ، اربوں روپے خرچ آتاہے لیکن جرائم کے بنیادی اسباب پر کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔ سرکاری شعبہ کے ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی ناقص کارکردگی نے غریب عوام کو نجی شعبہ کامرہون منت کردیاہواہے جس کی سہولتوں سے عام طور پر محض خوشحال لوگ ہی استفادہ کر سکتے ہیں۔ارباب اختیار ہسپتال کے مسائل اور ڈاکٹروں میں احساس ذمہ داری پیداکرنے کیلئے اقدامات کریں تاکہ آئندہ کسی بچے کی پیدائش ہسپتال کی انتظارگاہ یاباہرپڑے بنچوں پر نہ ہو۔