• ☚ شہنائی مارکی کا کام آخری مراحل میں، جلد افتتاح ہوگا‘ چوہدری غضنفر جمشید
  • ☚ لسانی و ثقافتی ترقی میں ترجمہ کی اہمیت ناگزیر ہے : ڈاکٹر غلام علی
  • ☚ انٹرنیشنل فرنیچر نمائش گجرات کے صنعتکاروں کو عالمی سطح پر متعارف کرایگی ‘ حاجی محمد افضل
  • ☚ عطائی ڈاکٹروں کیخلاف کریک ڈاؤن کیلئے حکمت عملی مرتب ‘ گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل
  • ☚ معظم علی کے صاحبزادے کو LLBکی ڈگری ملنے پر ممتاز شخصیات کی مبارکبادیں
  • ☚ PTIایک مضبوط جماعت بن کر سامنے آرہی ہے: ملک جاوید
  • ☚ دی پنجاب سکول ‘ قطب آباد کیمپس کی 17ویں تقریب تقسیم ا نعامات
  • ☚ ایم ایم اے کی تنظیم سازی ‘‘ جے یو پی نورانی گروپ کے ضلعی صدر حکیم افتخار چوہدری فیاض کی ‘ ڈاکٹر طارق سلیم سے ملاقات
  • ☚ گلیانہ چوک میں ٹریفک اہلکار کی تعیناتی احسن اقدام ہے
  • ☚ محکمہ تعلیم کا کوئی معاملہ نیب میں زیر سماعت نہیں ‘ سی ای او ایجوکیشن
  • ☚ نیب کی ڈرویاں ہلانے والا ابھی کوئی پیدا نہیں ہوا ‘ جاوید اقبال
  • ☚ امریکی ہونے کا مطلب نہ نہیں کہ پاکستانیوں کو کچلتے پھریں ‘ ہائی کورٹ
  • ☚ طیبہ تشدد کیس: راجا خرم اور اہلیہ کو ایک، ایک سال قید کی سزا
  • ☚ پاکستان میں خواتین کو ہراساں کرنے سے بچاؤ کی ایپ تیار
  • ☚ صدر نے سپریم اور پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ کار کو فاٹا تک بڑھانے کی منظوری دیدی
  • ☚ 3 ہزار سے زائد ایپس غیر قانونی طور پر ڈیٹا جمع کرنے میں مصروف
  • ☚ فیس بک، واٹس ایپ میں مصروف رہنے پر شوہر کے ہاتھوں بیوی قتل
  • ☚ دنیا بھر میں ٹوئٹر سروس عارضی معطلی کے بعد بحال
  • ☚ وفاقی حکومت کے کھاتوں میں 82 کھرب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف
  • ☚ سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کرنیوالے 15 وکلاء گرفتار
  • ☚ امریکہ میں مرچوں کا شوقین اسپتال پہنچ گیا
  • ☚ صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے پر فیس بک کا معاوضہ دینے کا اعلان
  • ☚ شادی 70 سال کی عمر سے پہلے نہیں کرنی چاہئے، جمائما
  • ☚ کینیڈا میں بس کوحادثہ، 14 افراد ہلاک
  • ☚ جرمنی:منی بس نے درجنوں افراد کو کچل دیا،4 ہلاک
  • ☚ کامن ویلتھ گیمز؛ ویٹ لفٹر طلحہ طالب نے پاکستان کیلئے پہلا میڈل جیت لیا
  • ☚ اوبرکا یونانی دارلحکومت میں اپنی سروس معطل کرنے کا اعلان
  • ☚ فیس بک نے صارفین کی جاسوسی کا اعتراف کرلیا
  • ☚ لندن نے جرائم میں نیویارک کو پیچھے چھوڑدیا
  • ☚ روسی صدر پیوٹن کل سے ترکی کا دورہ کریں گے
  • ☚ مرکزی نہیں جاندار کردار کا شوق ہے جسے لوگ یاد رکھیں، عروہ حسین
  • ☚ پریانکا کی 146بھارت145 میں انٹری پرسلمان خان کا طنز
  • ☚ ماہرہ خان کی 146146سات دن محبت ان145145 کا ٹیزر جاری
  • ☚ بیٹے کی کامیابی پرجیکی شروف خوشی سے سرشار
  • ☚ عامر خان نے فلم 146 ٹھگ آف ہندوستان 145 میں اپنے کردار سے پردہ اٹھادیا
  • ☚ جاوید میانداد کے تاریخی چھکے کو 32 سال بیت گئے
  • ☚ فواد عالم کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ فرد واحد انضمام الحق نے کیا
  • ☚ قومی ٹیم کی مصروفیات، فہیم اشرف کو کاؤنٹی معاہدے کی قربانی دینا پڑ گئی
  • ☚ بنگلادیشی کرکٹ کوچ نے باتھ روم میں دفتر بنالیا
  • ☚ نئے ہتھیار تیز دھار بنانے کی مہم کا آغاز آج سے ہوگا
  • آج کا اخبار

    اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کر کے جیو

    Published: 01-03-2018

    Cinque Terre

    ابن فہیم ؒ سے منسوب ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ جس حیوان سے آدمی کو پیار ہو اس حیوان کی عادتیں غیر شعوری طور پر اس میں آجاتی ہیں اور جب اس کا گوشت کھاتے لگے تو حیوان کے ساتھ مشابہت میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ عرب اونٹ کھانے کے شوقین ہوتے ہیں اس لئے ان کی طبیعت میں نحوت، میرث اور اکڑ پن کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے اس طرح انگریز سور کا گوشت پسند کرتے ہیں اس لئے ان میں فحاشی کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے ہمارے ہاں جب سے فارمی مرغی کھانے کا رواج آیا ہے تب سے ہم بحیثیت قوم چوں چوں شور شرابا تو بہت کرتے ہیں لیکن مقابلہ کرنے کی قوت ہم میں ختم ہو گئی ہمارے سامنے ایک سے ایک غلط کام ہوتا ہے ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے ہمارے سیاستدان ہیں جی بھر کے لوٹتے ہیں ہمارے سامنے وہ اربوں ، کھربوں میں کھیلنے لگتے ہیں ان کی اولادیں غریبوں کو بھیڑ بکریاں سمجھتی ہیں وہ ہمارے خدا بن بیٹھتے ہیں ہم پھر بھیان کے آگے دم بھرتے رہتے ہیں ایک گلی، ایک سڑک یا بریانی کی ایک پلیٹ پر اپنی ووٹ کیط اقت کو نہ سمجھتے ہوئے دوبارہ اسی کرپٹ اشرافیہ کو ووٹ ڈال آتے ہیں اور پھر روتے بھی ہیں کہ ہمارے ملک کاب یڑہ غرق ہو گیا ہے جعلی پیر، عامل روز نئے جال کے ساتھ آتے ہیں ہم جانتے ہوئے ان کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں میرا ایک دوست ایک بابے سے لاٹری کے نمبر پوچھتا تھا پاگل کو میں نے اتنا سمجھایا کہ اگر بابا نمبر جانتا ہوتا تو وہ اپنے لئے نکال لیتا پر اس کی سمجھ میں نہیں آیا۔ عامل لوگ ایک ایک شعبدہ بازی سے لاکھوں کماتے ہیں ان کے دعوے ایسے ہوتے ہیں کہ بندہ عقل سے سوچے تو کبھی یقین نہ کرے مگر لوگ ہزاروں لٹا دیتے ہیں ہمیں پتہ چل جائے کہ فلاں دکان دار فراڈیا ہے دھوکہ باز ہے ۔ ملاوٹ کرتا ہے ہم نے سو دوسو کی چیز خریدنی ہوتی ہے مگر ہم اس دکان دار کے پاس دوبارہ نہیں جاتے مگر سیاستان، جھوٹے عامل، جھوٹے پیر ہمیں پتہ ہونے کے باوجود لوٹتے رہتے ہیں مگر ہم فارمی مرغی کی طرح خود ذبح ہونے کے لئے تیار رہتے ہیں روز ہم نوجوان بیٹیوں کے جنازے اٹھا رہے ہیں ایک دو دن روکر تھوڑا سا شور ڈال کر چپ کر جاتے ہیں معاشرہ تو ویسے ہی سرنڈر کر گیا ہے کہ میرے تو اپنے ہی سیاپے ختم نہیں ہو رہے۔ میں پرائی آگ میں کیوں چھلانگ لگاؤں ہم پر تو فارمی مرغی کا اتنا اثر ہو گیا ہے کہ روز ٹریفک حادثات ون ویلنگ کی وجہ سے ہمارے پیارے ہم سے جدا ہو رہے ہیں پر ہم نہ تو اس کا کوئی حل تلاش کررہے ہیں اور تو اور ہم اپنی اولاد کو بھی نہیں روک رہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے موٹر سائیکل گھر لے کر آتا ہے جو ون ویلنگ یا ریس کے لئے تیار کی گئی ہوتی ہے کیا ہمیں نظر نہیں آرہا ہوتا یا ہم فارمی مرغی کی طرح اتنی سستی اتنی کاہلی،ا تنی بزدلی آگئی ہوئی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بھی کنٹرول نہیں کر پا رہے۔ خدا کے لئے بحیثیت معاشرہ کے فرد کے بحیثیت گھر کے سربراہ کے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ پوری قوت سے پورے وسائل کے ساتھ جہالت کے خلاف آواز اٹھائیں یہ گیم نہیں خود کشی ہے۔ میری نوجوان نسل سے بھی گزارش ہے کہ دنیامیں سب سے بھاری چیز ایک بوڑھے باپ کے لئے نوجوان بیٹے کا جنازہ ہوتا ہے باپ کو یہ بوجھ نہ اٹھوائیں۔ ماؤں، بہنوں کو آپ سے بڑی امیدیں ہیں ان کی امیدوں کو نہ توڑیں رب کریم سے دعا ہے کہ وہ سب کی حفاظت فرمائے۔ ہمارے حق میں خیر والے فیصلے فرمائے۔ لوگوں کے لئے امید بنیں خوش رکھیں۔ خوش رہیں۔