• ☚ پاک فوج کی زیر نگرانی NA69 میں ضمنی انتخابات پر امن ماحول میں جاری رہے
  • ☚ 32سال میں ہاتھ سے تیارکیاگیاقرآنی نسخہ خاتون نےمدینہ منورہ کےقرآن میوزیم میں رکھ دیا
  • ☚ پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار چوہدری مونس الٰہی بھاری اکثریت سے کامیاب
  • ☚ اراکین چیمبر کیلئے پاسپورٹ دفتر میں خصوصی سروس فراہم کرنیکا اعلان
  • ☚ گجرات :15روزہ انسداد خسرہ مہم کے انتظامات مکمل376ٹیمیں تشکیل
  • ☚ مسلم لیگ ن کے جنرل کونسلر سجاد احمد ٹونی کی ق لیگ میں شمولیت
  • ☚ جٹووکل کے قریب پولیس کی کاروائی ‘ 2مبینہ ڈاکو گرفتار کر لیے گئے
  • ☚ گجرات: ضمنی الیکشن کے بعد تجاوزات کیخلاف آپریشن کی تیاریاں مکمل
  • ☚ ڈنگہ میں خاتون کے گھر کا صفایا‘ سرائے عالمگیر میں مکان پر قبضہ
  • ☚ نواز شریف پارک کے باہر مسلح افراد کا مزدور پر تشدد‘ لہولہان کردیا
  • ☚ شہری کے مرنے کے بعد بینک اکاؤنٹ کھل گئے، اربوں روپے کا لین دین
  • ☚ لاہور: نوازشریف شناختی کارڈ نہ ہونے کے باعث ووٹ نہ ڈال سکے
  • ☚ ضمنی انتخابات: پہلی بار بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی انتخابی عمل کا حصہ بن گئے
  • ☚ کراچی میں 2 مبینہ پولیس مقابلے، اہلکار زخمی، 3 ڈکیت گرفتار
  • ☚ حکومت کی نیا پاکستان ہاوٴسنگ سکیم میں گھر کی کل قیمت اور ماہانہ قسط کتنی ہو گی؟ غریب عوام کیلئے انتہائی اچھی خبر آ گئی
  • ☚ جسٹس شوکت عزیز صدیقی عہدے سے فارغ
  • ☚ سستا گھر اسکیم کا سب سے بڑا فائدہ۔۔۔ نوکریاں ہی نوکریاں! وزیر اعظم عمران خان نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • ☚ گجرات فسادات : بھارتی جنرل کا’ ضمیر‘ 16 سال بعد جاگ گیا
  • ☚ نادان لوگ وقت سے پہلے پاؤں پر کلہاڑی ماررہے ہیں ، نواز شریف
  • ☚ عمران خان تمہاری اپناہر شوق پورا کر لو جب تم گرو گے تو تمہارے ساتھ کیا ہوگا؟خواجہ سعد رفیق نے دھمکی دیدی،معنی خیز انتباہ
  • ☚ ٹوری کی ویلفیئر سکیم سے لاکھوں افراد غربت کا شکار ہوجائیں گے،گورڈن براؤن
  • ☚ ٹومی رابنسن کے ساتھ فوجیوں کی تصویر پر آرمی نے تحقیقات شروع کر دی
  • ☚ چیف جسٹس ثاقب نثار مانچسٹر کے ڈیم فنڈ ریزنگ ایونٹ میں شرکت کرینگے
  • ☚ داعش30 ہزار جنونی دہشت گردوں کے سہاریمافیا کی شکل میں واپسی کیلئے تیار
  • ☚ سکاٹ لینڈ یارڈ نے جنید صفدراور زکریا شریف کو کلیئر کردیا
  • ☚ برطانیہ نے داعش سے تعلق رکھنے والے 9 برطانوی شہریوں کو واپس لینے سے انکار کردیا
  • ☚ پارلیمنٹری گروپ کے دورہ کشمیر سے مسئلہ اٹھانے میں مدد ملے گی، بیرسٹر عمران حسین ایم پی
  • ☚ مے کی لیبر ووٹرز سے اپیل کے ساتھ سینٹر گراؤنڈ حاصل کرنے کی کوشش
  • ☚ پاکستان سے باہر لندن میں تو کیا دنیا میں کہیں کوئی جائیداد نہیں، اسحاق ڈار
  • ☚ آرٹیکل35اے پر کشمیر ی ڈائسفرا اسٹیئر نگ گروپ کا قیام ، کمیٹی تشکیل
  • ☚ گہری رنگت کی وجہ سے بچپن میں بہت تنگ کیا جاتا تھا، پریانکا چوپڑا
  • ☚ اداکارہ میرا پر شہری کے گھر پر قبضہ کا الزام
  • ☚ امیتابھ بچن نے بھی جنسی ہراسانی پر خاموشی توڑ دی
  • ☚ ایشوریا بھی بالی ووڈ میں جنسی ہراسانی کے خلاف میدان میں آگئیں
  • ☚ ہراسانی سے متعلق ’’می ٹو‘‘ مہم سے لوگوں کی سوچ تبدیل نہیں ہوگی، سشمیتا
  • ☚ ’ڈرا‘ نے گرین کیپس کو ڈرا دیا، سیریز داؤ پر لگ گئی
  • ☚ پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی کیلئے وسیم اکرم اور مصباح الحق کے نام سر فہرست
  • ☚ آئی سی سی ٹی ٹوئینٹی اور ٹی ٹین لیگ کے بارے میں فیصلہ کریگا
  • ☚ دل برداشتہ لیفٹ آرم اسپنر عبدالرحمن انٹر نیشنل کرکٹ سے ریٹائر
  • ☚ دبئی ٹیسٹ، پاکستان جیت کی شاہراہ پر،محمد عباس کی7گیندوں پر 3وکٹ
  • آج کا اخبار

    سیاسی استحکام کیلئے شہری آزادیوں کے صحیح استعمال کی ضرورت

    Published: 09-03-2018

    Cinque Terre

    جمہوری ماحول میں یہ بات بہت اہم ہے کہ افراد یا سماجی و سیاسی تنظیمیں اپنی شہری آزادیاں کیسے استعمال کرتی ہیں اور ان کے پیش نظر کیامفادات ہوتے ہیں ۔ وطن عزیز کی گذشتہ پانچ سالہ سیاسی صورت حال پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم سیاسی و سماجی معاملات میں الجھ کر رہ گئے ہیں ملک میں ایک منتخب حکومت کی موجودگی کے باوجود ایک بحران کی سی کیفیت ہے حکومت کوکام کرنے میں بہت رکاوٹیں ہیں اہم ریاستی اداروں پرمختلف دباؤ ہیں۔ہماری قومی سلامتی خطرات سے دوچارہے۔اپوزیشن میں ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت نے شروع دن سے حکومت کے خاتمہ کی سیاست تو بہت زور دار انداز میں کی ہے لیکن حکومت کی کمزوریوں ، سیاسی کلچر کی خرابیوں اور کرپشن اور بے انصافی کے اسباب کو سامنے رکھ کروہ سیاست نہیں کی جس کے رائے عامہ پر مثبت اثرات مرتب ہوتے۔ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کا جامع اور مقابلتاً بہتر پروگرام پیش کیاجاتاااور حکومت کواس کی آئینی مدت پوری ہونے پر کارکردگی، ناقص فیصلوں اور دیگر کوتاہ اندیشیوں کی بناپر الیکشن میں چیلنج کیاجاتا تو شایدحالات ایسے نہ ہوتے جو آج ہیں یعنی گورننس کی خرابیوں، پانامہ لیکس، عدالتی فیصلوں اوروزیراعظم کی نااہلی کا رائے عامہ پرقطعی کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا ۔ ذی شعور پاکستانیوں اوراہل فکر کیلئے یہ نہایت غور طلب ہے کہ آیا اس کیذمہ داری عوام پر ڈالی جائے یاسیاسی قیادت کی معاملہ فہمی، بصیرت اور سیاسی مقاصدہی کچھ ایسے تھے کہ عوام متاثر نہیں ہوئے۔ 2013ء کے انتخابات میں حکمران پاکستان مسلم لیگ (ن) نے واضح اکثریت حاصل تھی اس میں کچھ تو پاکستان پیپلزپارٹی کی اپنے دور اقتدار میں کارکردگی اور کچھ میاں محمد نواز شریف سے ہمدردی کاعنصر بھی شامل تھا چونکہ وہ جلاوطنی کے بعد پاکستان کی سیاست میں واپس آئے تھے اور 2013ء کے انتخابات میں عوام نے انہیں بھاری مینڈیٹ دے کر ان کے زخموں کو بھرا تھااور لوگ توقع کر رہے تھے کہ وہ ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے۔ دوسری طرف لوگ اپوزیشن میں پاکستان تحریک انصاف کیشمولیت کوبڑا مثبت خیال کر رہے تھے اور توقع کی جارہی تھی کہ حکومت کارکردگی دکھانے پر مجبور ہوگی۔ لیکن ہواکیاکہ انتخابات کے اگلے ہی سال پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خاں نے یوم آزادی پر تبدیلی مارچ اوراس کے ساتھ پاکستان عوامی تحریک نے انقلاب مارچ اور پھر دھرنے دیئے ، الیکشن 2013ء کو مکمل دھاندلی قرار دے کر وزیراعظم کے استعفیٰ اور گونواز گو کے نعرے بلند کردیئے ۔ اس منظر کوعوام کی اکثریت تعجب کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی چونکہ جس وزیراعظم سے استعفیٰ کامطالبہ کیاجارہاتھااس کی قومی اسمبلی میں ایک سو نوے نشستیں تھیں اور اتحادیوں کی نشستیں ملاکر دوتہائی اکثریت حاصل تھی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس قومی اسمبلی میں چالیس سے کچھ زائد نشستیں اور پاکستان عوامی تحریک کی قومی اسمبلی میں کوئی نمائندگی نہ تھی۔ پاکستان عوامی تحریک کادھرناپینسٹھ یاچھیاسٹھ دن اور پاکستان تحریک انصاف نے چار ماہ تک دھرناجاری رکھااور میاں نوازشریف کی حکومت نہ گرائی جاسکی۔ پھر 2016ء میں پانامہ لیکس نے جہاں پوری دنیامیں ہلچل مچائی وہاں پاکستان میں بھی بہت سے اہم سیاسی و کاروباری لوگوں کے نام اس میں شامل تھے جن میں شریف فیملی کا نام بھی تھا۔یوں تو مجموعی طور پر ملک میں سیاسی عدم استحکام کے تناظر میں کسی کا سرمایہ باہر لے جانا کوئی بہت غیرمتوقع بات بھی نہ تھی البتہ اخلاقاً لازم تھا کہ وزیر اعظم اس کی وضاحت کرتے کہ وہ اپنی فیملی کاکاروبار کیوں خفیہ رکھنے پر مجبور تھے چونکہ اس کار ناپسندیدہ میں وزیراعظم اکیلے نہ تھے اور ان کی فیملی دس سال کیلئے ملک سے ہی نکال دی گئی تھی لہٰذا یہاں موقع تھاکہ وہ اپنی پارلیمانی اکثریت کواپنے اور ملک کے حق میں استعمال کرتے اورآف شور بزنس کے حوالے سے قانون سازی ہوتی ، آف شور کمپنیوں کے مالکان کو کاروبار پاکستان میں لانے کی ترغیبات اور تحفظ فراہم کیا جاتاتو شریف فیملی یقیناًً عوام سے داد پاتی۔ لیکن ایسا کرنے میں سابق وزیراعظم نواز شریف ناکام رہے اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں ۔ دوسری طرف اپوزیشن کی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو صاف ظاہر ہے کہ اس پر دھرنوں کی ناکامی کاکوئی اثر نہیں پڑا ۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے سیاسی میدان میں پسپائی کے بعد عدالت کے پلیٹ فارم کو غنیمت جانااور اس میں وہ کامیاب ہوگئے۔ لیکن اس کامیابی کاانہیں کیافائدہ ہوا یہ تو آئندہ انتخابات کے نتائج سے پتہ چلے گا البتہ سیاسی معاملات میں اہم ریاستی اداروں کو شامل ہونے پر مجبور کیاگیاہے اور ان کیلئے مشکلات پیدا کی گئی ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) صرف سڑکوں کی تعمیر،میٹر وبس سروس اورسابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی نااہلی اور مینڈیٹ کی توہین کی بناپر2018ء کے انتخابات میں جیت کی توقعات کے ساتھ اتر رہی ہے ۔ گذشتہ پانچ سال سیاست دانوں اور پاکستان کے عوام کیلئے یقیناً بہت بڑی دعوت فکر ہیں ۔