• ☚ NA70قمر زمان کائرہ کی حمایتوں کا سلسلہ زور پکڑ گیا‘جگہ جگہ گاؤں اعلان حمایت کے بڑے اکٹھ
  • ☚ چوہدری مختار ڈھل کی چوہدری محمد الیاس ‘لیاقت بھدر کی حمایتی کمپین زور و شور سے جاری
  • ☚ لطیف قریشی کی جانب سے وارڈ11میں ن لیگ دفتر قائم ‘ چوہدری جعفر اقبال‘چوہدری شبیر احمد نے افتتاح کیا
  • ☚ چوہدری مبشرکی کامیابی کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دینگے:واصف رشید
  • ☚ سلیم سرور جوڑا کا نئی سبزی منڈی کا دورہ‘ تاجروں سے ملاقاتیں
  • ☚ اورنگزیب بٹ عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں کامیاب کرائینگے: صغیر وڑائچ
  • ☚ پائیدار ترقی کیلئے قدرتی وسائل کی اہمیت پر گجرات یونیورسٹی میں مذاکرہ
  • ☚ ڈینگی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے تمام محکمہ جات کو الرٹ جاری
  • ☚ حسین الٰہی کے حق میں ریلی :کونسلرز سمیت 120کارکنوں کیخلاف مقدمہ درج
  • ☚ توصیف عبد اللہ ‘ مرزا شاہکار سمیت اہم شخصیات کا سلیم سرور جوڑا کی حمایت کا اعلان
  • ☚ مونس الٰہی کا مختلف دیہاتوں کا دورہ‘ وفود کی پرویز الٰہی سے ملاقاتیں
  • ☚ سلیم سرور جوڑا کے ہاتھوں تھانہ اے ڈویژن کے بالمقابل دفتر کا افتتاح
  • ☚ جھوٹے اور کھوکھلے وعدوں کے عادی نہیں چوہدری ظہور الٰہی خاندان نسل در نسل عوامی خدمت کر رہا ہے‘مونس الٰہی
  • ☚ احتساب عدالت کے فیصلے سے نئی تاریخ رقم ہوئی ہے: نعمان احمد
  • ☚ نواز شریف، مریم اور کیپٹن صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ محفوظ
  • ☚ عمران خان اقربا پروری اور جنسی ہراسگی میں ملوث ہیں، ریحام خان کا الزام
  • ☚ چین میں خام لوہے کی کان میں دھماکے سے 12 کان کن ہلاک
  • ☚ سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ کی نگراں وزیر اعظم ناصر الملک سے ملاقات
  • ☚ ریحام خان کی کتاب برطانیہ سے شائع ہوئی توہتک عزت کا دعویٰ کروں گی، جمائما
  • ☚ نگراں وزیراعظم کا توانائی شعبے کی بہتری کیلیے جامع منصوبہ مرتب کرنے کا حکم
  • ☚ تحریک انصاف کا منشور لفاظی کے سوا کچھ نہیں، الطاف شاہد
  • ☚ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فہد ملک کیس میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ بحال کر دی
  • ☚ نیٹو اتحادیوں کا دفاعی اخراجات میں 41 بلین ڈالر اضافے کا فیصلہ
  • ☚ نواز شریف اور مریم نے پاکستان واپسی کیلئے ٹکٹ بک کرالئے، استقبال کی تیاریاں تیز
  • ☚ لندن، ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے باہر پھر احتجاج، ہاتھاپائی، 3 افراد گرفتار
  • ☚ بورس جانسن کے استعفیٰ کے بعد تھریسامے نے جیرمی ہنٹ کو نیا وزیرخارجہ مقرر کردیا
  • ☚ برطانیہ میں 2016۔17 کے دوران تیزاب گردی کے 398 واقعات پیش آئے، شیڈومنسٹرافضل خان
  • ☚ برطانیہ میں 2016۔17 کے دوران تیزاب گردی کے 398 واقعات پیش آئے، شیڈومنسٹرافضل خان
  • ☚ نوازشریف کی وطن واپسی سے جمہوریت مستحکم ہوگی، عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں، کمیونٹی رہنماؤں کی مختلف آراء
  • ☚ ٹرمپ، پیوٹن مجوزہ ملاقات پر نیٹواتحاد اندیشوں کا شکار
  • ☚ فنکار ملک میں جمہوریت کے فروغ کے خواہشمند ہیں
  • ☚ سنجو اور طیفا ان ٹربل کا بے چینی سے انتظار!!
  • ☚ ممبئی: بالی ووڈ اداکار سنجے دت کی اپنی پروڈکشن میں بننے والی پہلی فلم ’پراس تھانم‘ کا پوسٹر جاری کردیا گیا۔
  • ☚ راجیو گاندھی کیلیے نامناسب زبان استعمال کرنا نوازالدین کو مہنگا پڑگیا
  • ☚ پاکستان سینما انڈسٹری پہلے سے بہتر ہورہی ہے،علی ظفر
  • ☚ قومی ہاکی کیمپ کیلئے مدعو کھلاڑیوں سے سندھ مکمل نظرانداز
  • ☚ سرد موسم میں علی الصبح میچز سرفراز کیلئے پریشانی کا سبب
  • ☚ ون ڈے سیریز کا آج سے آغاز،سال میں پہلی فتح کے متلاشی پاکستان اور زمبابوے مدمقابل
  • ☚ ہرارے،پاکستانی کرکٹرزنے ون ڈے سیریز کی تیاری شروع کردی
  • ☚ حشیش کا استعمال ثابت،احمد شہزاد کو چارج شیٹ جاری،جواب طلب
  • آج کا اخبار

    سیاسی استحکام کیلئے شہری آزادیوں کے صحیح استعمال کی ضرورت

    Published: 09-03-2018

    Cinque Terre

    جمہوری ماحول میں یہ بات بہت اہم ہے کہ افراد یا سماجی و سیاسی تنظیمیں اپنی شہری آزادیاں کیسے استعمال کرتی ہیں اور ان کے پیش نظر کیامفادات ہوتے ہیں ۔ وطن عزیز کی گذشتہ پانچ سالہ سیاسی صورت حال پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم سیاسی و سماجی معاملات میں الجھ کر رہ گئے ہیں ملک میں ایک منتخب حکومت کی موجودگی کے باوجود ایک بحران کی سی کیفیت ہے حکومت کوکام کرنے میں بہت رکاوٹیں ہیں اہم ریاستی اداروں پرمختلف دباؤ ہیں۔ہماری قومی سلامتی خطرات سے دوچارہے۔اپوزیشن میں ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت نے شروع دن سے حکومت کے خاتمہ کی سیاست تو بہت زور دار انداز میں کی ہے لیکن حکومت کی کمزوریوں ، سیاسی کلچر کی خرابیوں اور کرپشن اور بے انصافی کے اسباب کو سامنے رکھ کروہ سیاست نہیں کی جس کے رائے عامہ پر مثبت اثرات مرتب ہوتے۔ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کا جامع اور مقابلتاً بہتر پروگرام پیش کیاجاتاااور حکومت کواس کی آئینی مدت پوری ہونے پر کارکردگی، ناقص فیصلوں اور دیگر کوتاہ اندیشیوں کی بناپر الیکشن میں چیلنج کیاجاتا تو شایدحالات ایسے نہ ہوتے جو آج ہیں یعنی گورننس کی خرابیوں، پانامہ لیکس، عدالتی فیصلوں اوروزیراعظم کی نااہلی کا رائے عامہ پرقطعی کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا ۔ ذی شعور پاکستانیوں اوراہل فکر کیلئے یہ نہایت غور طلب ہے کہ آیا اس کیذمہ داری عوام پر ڈالی جائے یاسیاسی قیادت کی معاملہ فہمی، بصیرت اور سیاسی مقاصدہی کچھ ایسے تھے کہ عوام متاثر نہیں ہوئے۔ 2013ء کے انتخابات میں حکمران پاکستان مسلم لیگ (ن) نے واضح اکثریت حاصل تھی اس میں کچھ تو پاکستان پیپلزپارٹی کی اپنے دور اقتدار میں کارکردگی اور کچھ میاں محمد نواز شریف سے ہمدردی کاعنصر بھی شامل تھا چونکہ وہ جلاوطنی کے بعد پاکستان کی سیاست میں واپس آئے تھے اور 2013ء کے انتخابات میں عوام نے انہیں بھاری مینڈیٹ دے کر ان کے زخموں کو بھرا تھااور لوگ توقع کر رہے تھے کہ وہ ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے۔ دوسری طرف لوگ اپوزیشن میں پاکستان تحریک انصاف کیشمولیت کوبڑا مثبت خیال کر رہے تھے اور توقع کی جارہی تھی کہ حکومت کارکردگی دکھانے پر مجبور ہوگی۔ لیکن ہواکیاکہ انتخابات کے اگلے ہی سال پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خاں نے یوم آزادی پر تبدیلی مارچ اوراس کے ساتھ پاکستان عوامی تحریک نے انقلاب مارچ اور پھر دھرنے دیئے ، الیکشن 2013ء کو مکمل دھاندلی قرار دے کر وزیراعظم کے استعفیٰ اور گونواز گو کے نعرے بلند کردیئے ۔ اس منظر کوعوام کی اکثریت تعجب کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی چونکہ جس وزیراعظم سے استعفیٰ کامطالبہ کیاجارہاتھااس کی قومی اسمبلی میں ایک سو نوے نشستیں تھیں اور اتحادیوں کی نشستیں ملاکر دوتہائی اکثریت حاصل تھی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس قومی اسمبلی میں چالیس سے کچھ زائد نشستیں اور پاکستان عوامی تحریک کی قومی اسمبلی میں کوئی نمائندگی نہ تھی۔ پاکستان عوامی تحریک کادھرناپینسٹھ یاچھیاسٹھ دن اور پاکستان تحریک انصاف نے چار ماہ تک دھرناجاری رکھااور میاں نوازشریف کی حکومت نہ گرائی جاسکی۔ پھر 2016ء میں پانامہ لیکس نے جہاں پوری دنیامیں ہلچل مچائی وہاں پاکستان میں بھی بہت سے اہم سیاسی و کاروباری لوگوں کے نام اس میں شامل تھے جن میں شریف فیملی کا نام بھی تھا۔یوں تو مجموعی طور پر ملک میں سیاسی عدم استحکام کے تناظر میں کسی کا سرمایہ باہر لے جانا کوئی بہت غیرمتوقع بات بھی نہ تھی البتہ اخلاقاً لازم تھا کہ وزیر اعظم اس کی وضاحت کرتے کہ وہ اپنی فیملی کاکاروبار کیوں خفیہ رکھنے پر مجبور تھے چونکہ اس کار ناپسندیدہ میں وزیراعظم اکیلے نہ تھے اور ان کی فیملی دس سال کیلئے ملک سے ہی نکال دی گئی تھی لہٰذا یہاں موقع تھاکہ وہ اپنی پارلیمانی اکثریت کواپنے اور ملک کے حق میں استعمال کرتے اورآف شور بزنس کے حوالے سے قانون سازی ہوتی ، آف شور کمپنیوں کے مالکان کو کاروبار پاکستان میں لانے کی ترغیبات اور تحفظ فراہم کیا جاتاتو شریف فیملی یقیناًً عوام سے داد پاتی۔ لیکن ایسا کرنے میں سابق وزیراعظم نواز شریف ناکام رہے اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں ۔ دوسری طرف اپوزیشن کی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو صاف ظاہر ہے کہ اس پر دھرنوں کی ناکامی کاکوئی اثر نہیں پڑا ۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے سیاسی میدان میں پسپائی کے بعد عدالت کے پلیٹ فارم کو غنیمت جانااور اس میں وہ کامیاب ہوگئے۔ لیکن اس کامیابی کاانہیں کیافائدہ ہوا یہ تو آئندہ انتخابات کے نتائج سے پتہ چلے گا البتہ سیاسی معاملات میں اہم ریاستی اداروں کو شامل ہونے پر مجبور کیاگیاہے اور ان کیلئے مشکلات پیدا کی گئی ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) صرف سڑکوں کی تعمیر،میٹر وبس سروس اورسابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی نااہلی اور مینڈیٹ کی توہین کی بناپر2018ء کے انتخابات میں جیت کی توقعات کے ساتھ اتر رہی ہے ۔ گذشتہ پانچ سال سیاست دانوں اور پاکستان کے عوام کیلئے یقیناً بہت بڑی دعوت فکر ہیں ۔