• ☚ مسلم حکمران حضرت علی المرتضیٰؓ و دیگر خلفاء راشد ین کے طریقے پر حکومت کریں تو اُمت مسلمہ کی عزت رفتہ بحال ہو سکتی ہے ‘ پیر افضل قادری
  • ☚ میئر گجرات نے کراچی کے بعد گجرات کو گندا ترین شہر بنا دیا ‘ حاجی اورنگ زیب بٹ
  • ☚ کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا دوسرا ‘ 180امیدوار میدان میں 2ہیجڑے شامل
  • ☚ شہباز شریف نے 4ارب خرچ کر دیئے ‘ مگر صاف پانی پھر نہ ملا ‘ چوہدری پرویزالٰہی
  • ☚ بھٹو خاندان کو ناچ کر خوش کرنیوالا اب نواز شریف کا مجاور بن بیٹھا ‘ اسکا ہر حربہ ناکامی سے دو چار ہوگا ‘ چوہدری وجاہت حسین
  • ☚ غزوہ بدر حق وباطل کا معرکہ جس میں 313اصحاب نے ہزاروں کے لشکر کو شکست دی ‘ مفتی نعیم اللہ
  • ☚ پی پی 33سے چوہدری ناصر ٹکٹ کے اصل حقدار ہیں ‘ حلقہ عوام انکے شانہ بشانہ ہیں ‘ چوہدری اصغر علی
  • ☚ سحرویلفیئر لوگوں کی خدمت کابے مثال ادارہ ہے :کاشف محی الدین
  • ☚ شہباز ریحانیہ ،نوا زریحانیہ کیطرف سے 1200مستحق گھرانوں میں راشن کی تقسیم
  • ☚ موجودہ ملکی صورتحال کے پیش نظر ہر محب وطن پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہے ‘ مولانا فیاض حسین
  • ☚ عمران خان اقربا پروری اور جنسی ہراسگی میں ملوث ہیں، ریحام خان کا الزام
  • ☚ چین میں خام لوہے کی کان میں دھماکے سے 12 کان کن ہلاک
  • ☚ سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ کی نگراں وزیر اعظم ناصر الملک سے ملاقات
  • ☚ ریحام خان کی کتاب برطانیہ سے شائع ہوئی توہتک عزت کا دعویٰ کروں گی، جمائما
  • ☚ نگراں وزیراعظم کا توانائی شعبے کی بہتری کیلیے جامع منصوبہ مرتب کرنے کا حکم
  • ☚ نگراں وزیراعظم کا توانائی شعبے کی بہتری کیلیے جامع منصوبہ مرتب کرنے کا حکم
  • ☚ ہمیں الیکشن جیتنے کے لیے کسی کتاب یا اسکینڈل کی ضرورت نہیں، احسن اقبال
  • ☚ عمران خان کو ریحام کی کتاب سے بے نقاب ہونے کا ڈر ہے، عائشہ گلالئی
  • ☚ مکہ ، آخری عشرے کے دوران سیکورٹی انتظامات مزید سخت
  • ☚ مکہ، ہوٹلز اور اپارٹمنٹس کے کرایوں میں 80فیصد تک اضافہ
  • ☚ امریکی صدر اور کم جونگ اُن کے درمیان ملاقات کا مقام طے ہوگیا
  • ☚ ارجنٹینا نے اسرائیل سے میچ منسوخ کردیا
  • ☚ ڈچ وزیراعظم نے پونچھا لگا کر سب کو حیران کردیا
  • ☚ لیڈز میں مسجد اور گردوارے کو آگ لگا دی گئی
  • ☚ بلجیئم میں فائرنگ، 2پولیس اہلکاروں سمیت 4افراد ہلاک
  • ☚ اٹلی کے صدر اور نومنتخب وزیراعظم کے درمیان محاذ آرائی، انتخابات کالعدم ہونے کا خدشہ
  • ☚ پیرس؛ بچے کو بچانے والے مسلمان تارک وطن کو فرانسیسی شہریت دیدی گئی
  • ☚ برطانوی وزیرخارجہ بورس جانسن کو روسی مسخروں نے بیوقوف بنا دیا
  • ☚ سرفراز احمد نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے جرمانہ قبول کر لیا
  • ☚ سعید شاہ گجراتی کی نیویارک میں سلیم سرور جوڑا سے خصوصی ملاقات
  • ☚ فلم سنجو میں سنجے دت کو اپنا کردار خود ادا کرنا چاہیے تھا، سلمان خان
  • ☚ سلمان خان اپنے بھائی اربازخان سے متعلق سوال سے بچنے لگے
  • ☚ سوناکشی کے ہاتھوں کرینہ فلم سے آؤٹ
  • ☚ سنجے دت کی بھی فلم ہاؤس فل فور میں انٹری
  • ☚ خدیجہ کیس کا ملزم بری ہونے پر پاکستانی فنکاروں کی شدید مذمت
  • ☚ فلسطینیوں کے احتجاج پر ارجنٹائن اور اسرائیل کے درمیان دوستانہ فٹبال میچ منسوخ
  • ☚ ہاکی چیمپئنزٹرافی ؛ پلیئرزکیلیے مزید غیرملکی کوچزکی کمک تیار
  • ☚ آئی سی سی بولنگ ایکشن قوانین پر تنقید، پی سی بی نے محمد حفیظ کو معافی دیدی
  • ☚ پی آئی اے حاضری نہ لگانے والے کھلاڑیوں کو تنخواہ نہیں دے گی
  • ☚ ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ؛ پاکستان نے سری لنکا کو23 رنز سے ہرا دیا
  • آج کا اخبار

    سیاسی استحکام کیلئے شہری آزادیوں کے صحیح استعمال کی ضرورت

    Published: 09-03-2018

    Cinque Terre

    جمہوری ماحول میں یہ بات بہت اہم ہے کہ افراد یا سماجی و سیاسی تنظیمیں اپنی شہری آزادیاں کیسے استعمال کرتی ہیں اور ان کے پیش نظر کیامفادات ہوتے ہیں ۔ وطن عزیز کی گذشتہ پانچ سالہ سیاسی صورت حال پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم سیاسی و سماجی معاملات میں الجھ کر رہ گئے ہیں ملک میں ایک منتخب حکومت کی موجودگی کے باوجود ایک بحران کی سی کیفیت ہے حکومت کوکام کرنے میں بہت رکاوٹیں ہیں اہم ریاستی اداروں پرمختلف دباؤ ہیں۔ہماری قومی سلامتی خطرات سے دوچارہے۔اپوزیشن میں ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت نے شروع دن سے حکومت کے خاتمہ کی سیاست تو بہت زور دار انداز میں کی ہے لیکن حکومت کی کمزوریوں ، سیاسی کلچر کی خرابیوں اور کرپشن اور بے انصافی کے اسباب کو سامنے رکھ کروہ سیاست نہیں کی جس کے رائے عامہ پر مثبت اثرات مرتب ہوتے۔ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کا جامع اور مقابلتاً بہتر پروگرام پیش کیاجاتاااور حکومت کواس کی آئینی مدت پوری ہونے پر کارکردگی، ناقص فیصلوں اور دیگر کوتاہ اندیشیوں کی بناپر الیکشن میں چیلنج کیاجاتا تو شایدحالات ایسے نہ ہوتے جو آج ہیں یعنی گورننس کی خرابیوں، پانامہ لیکس، عدالتی فیصلوں اوروزیراعظم کی نااہلی کا رائے عامہ پرقطعی کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا ۔ ذی شعور پاکستانیوں اوراہل فکر کیلئے یہ نہایت غور طلب ہے کہ آیا اس کیذمہ داری عوام پر ڈالی جائے یاسیاسی قیادت کی معاملہ فہمی، بصیرت اور سیاسی مقاصدہی کچھ ایسے تھے کہ عوام متاثر نہیں ہوئے۔ 2013ء کے انتخابات میں حکمران پاکستان مسلم لیگ (ن) نے واضح اکثریت حاصل تھی اس میں کچھ تو پاکستان پیپلزپارٹی کی اپنے دور اقتدار میں کارکردگی اور کچھ میاں محمد نواز شریف سے ہمدردی کاعنصر بھی شامل تھا چونکہ وہ جلاوطنی کے بعد پاکستان کی سیاست میں واپس آئے تھے اور 2013ء کے انتخابات میں عوام نے انہیں بھاری مینڈیٹ دے کر ان کے زخموں کو بھرا تھااور لوگ توقع کر رہے تھے کہ وہ ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے۔ دوسری طرف لوگ اپوزیشن میں پاکستان تحریک انصاف کیشمولیت کوبڑا مثبت خیال کر رہے تھے اور توقع کی جارہی تھی کہ حکومت کارکردگی دکھانے پر مجبور ہوگی۔ لیکن ہواکیاکہ انتخابات کے اگلے ہی سال پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خاں نے یوم آزادی پر تبدیلی مارچ اوراس کے ساتھ پاکستان عوامی تحریک نے انقلاب مارچ اور پھر دھرنے دیئے ، الیکشن 2013ء کو مکمل دھاندلی قرار دے کر وزیراعظم کے استعفیٰ اور گونواز گو کے نعرے بلند کردیئے ۔ اس منظر کوعوام کی اکثریت تعجب کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی چونکہ جس وزیراعظم سے استعفیٰ کامطالبہ کیاجارہاتھااس کی قومی اسمبلی میں ایک سو نوے نشستیں تھیں اور اتحادیوں کی نشستیں ملاکر دوتہائی اکثریت حاصل تھی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس قومی اسمبلی میں چالیس سے کچھ زائد نشستیں اور پاکستان عوامی تحریک کی قومی اسمبلی میں کوئی نمائندگی نہ تھی۔ پاکستان عوامی تحریک کادھرناپینسٹھ یاچھیاسٹھ دن اور پاکستان تحریک انصاف نے چار ماہ تک دھرناجاری رکھااور میاں نوازشریف کی حکومت نہ گرائی جاسکی۔ پھر 2016ء میں پانامہ لیکس نے جہاں پوری دنیامیں ہلچل مچائی وہاں پاکستان میں بھی بہت سے اہم سیاسی و کاروباری لوگوں کے نام اس میں شامل تھے جن میں شریف فیملی کا نام بھی تھا۔یوں تو مجموعی طور پر ملک میں سیاسی عدم استحکام کے تناظر میں کسی کا سرمایہ باہر لے جانا کوئی بہت غیرمتوقع بات بھی نہ تھی البتہ اخلاقاً لازم تھا کہ وزیر اعظم اس کی وضاحت کرتے کہ وہ اپنی فیملی کاکاروبار کیوں خفیہ رکھنے پر مجبور تھے چونکہ اس کار ناپسندیدہ میں وزیراعظم اکیلے نہ تھے اور ان کی فیملی دس سال کیلئے ملک سے ہی نکال دی گئی تھی لہٰذا یہاں موقع تھاکہ وہ اپنی پارلیمانی اکثریت کواپنے اور ملک کے حق میں استعمال کرتے اورآف شور بزنس کے حوالے سے قانون سازی ہوتی ، آف شور کمپنیوں کے مالکان کو کاروبار پاکستان میں لانے کی ترغیبات اور تحفظ فراہم کیا جاتاتو شریف فیملی یقیناًً عوام سے داد پاتی۔ لیکن ایسا کرنے میں سابق وزیراعظم نواز شریف ناکام رہے اور اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں ۔ دوسری طرف اپوزیشن کی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو صاف ظاہر ہے کہ اس پر دھرنوں کی ناکامی کاکوئی اثر نہیں پڑا ۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے سیاسی میدان میں پسپائی کے بعد عدالت کے پلیٹ فارم کو غنیمت جانااور اس میں وہ کامیاب ہوگئے۔ لیکن اس کامیابی کاانہیں کیافائدہ ہوا یہ تو آئندہ انتخابات کے نتائج سے پتہ چلے گا البتہ سیاسی معاملات میں اہم ریاستی اداروں کو شامل ہونے پر مجبور کیاگیاہے اور ان کیلئے مشکلات پیدا کی گئی ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) صرف سڑکوں کی تعمیر،میٹر وبس سروس اورسابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی نااہلی اور مینڈیٹ کی توہین کی بناپر2018ء کے انتخابات میں جیت کی توقعات کے ساتھ اتر رہی ہے ۔ گذشتہ پانچ سال سیاست دانوں اور پاکستان کے عوام کیلئے یقیناً بہت بڑی دعوت فکر ہیں ۔