• ☚ وزیراعلی پنجاب کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس
  • ☚ پاک ‘ سعودی عرب دوستی لا زوال ہے:صادق سنجرانی
  • ☚ راولاکوٹ کو سیاحتی ترقی کا مرکز بنائیں گے ‘بین الاقوامی سیاحت کے لیے یہ علاقہ موزوں ترین ہےراجہ فاروق حیدر
  • ☚ کنجاہ:شراب کی چالو بھٹی پر چھاپہ‘بدنام زمانہ منشیات فروش گرفتار
  • ☚ ضعیف العمر خاتون پر بھتیجے کا بدترین تشدد
  • ☚ میر شکیل احمد کے ایصال ثواب کیلئے ختم قل‘ ممتاز شخصیا ت کی شرکت
  • ☚ فتح پور میں شیشہ فلیورز برآمد ہونے پر صابر حسین کیخلا ف مقدمہ درج
  • ☚ کنجاہ پولیس نے ناجائز اسلحہ بردار گرفتار کر لیا ‘ پستول برآمد
  • ☚ ڈنگہ چوک کنجاہ سے منشیات فروش محمد احسن گرفتار‘ مقدمہ در ج
  • ☚ ڈپٹی کمشنر گجرات آج ایگریکلچرایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرینگے
  • ☚ سی ایس ایس امتحان رولز میں تبدیلی کا معاملہ : نظرثانی پٹیشن بحال
  • ☚ چاہے وقت لگے ملک لوٹنے والوں کو نشان عبرت بنائوں گا، عمران خان
  • ☚ سری لنکا میں گرجا گھروں اور ہوٹل دھماکوں میں 207 افراد ہلاک، کرفیو نافذ
  • ☚ ایمنسٹی یا کریک ڈائون، کابینہ کے دوسرے اجلاس میں بھی اسکیم پر اختلافات برقرار، متعدد ارکان FBR سے ناراض، ذائع
  • ☚ ہیموفیلیا کے عالمی دن کے موقع پرخصوصی تقریب کا انعقاد
  • ☚ فیض آباد دھرنا کیس، فیصلے سے افواج پاکستان کے حوصلے پر منفی اثرات مرتب ہوئے، وزارت دفاع
  • ☚ گجرات میں 5 افراد سے منشیات اور اسلحہ برآمد کر کے مقدمات درج کر لیے گئے
  • ☚ عمران خان چند برسوں میں اثاثے کئی گنا ہوجانےکا حساب دیں، سلیمان شہباز
  • ☚ IMF سے معاہدہ اسی ماہ،معاملات طے پاگئے، 6 سے 8 ارب ڈالر قرض ملے گا، کچھ چیزیں مہنگی ہوں گی،عام آدمی متاثر نہیں ہوگا، وزیرخزانہ
  • ☚ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاملات طے ‘ اربوں ڈالر کا پیکج ملے گا:کڑے معاشی بحران کا سامنا ہے: وزیر خزانہ
  • ☚ انگلینڈ کے ایک تہائی شہریوں کو یقین ہے کہ سکاٹش بنک نوٹ جعلی ہیں
  • ☚ تحریک آزادی کشمیر کو سفارتی محاذ پر اجاگر کرنے کیلئے قومی کونسل بنائی جائے، راجہ نجابت حسین
  • ☚ تبدیلی کیلئے مل کر کوششیں کی جائیں، ہمیں علامہ محمد اقبال ؒکی فکر اپنانا ہوگا، کمیونٹی رہنما
  • ☚ شہباز شریف کا جمعرات کو دوبارہ چیک اپ ہوگا، رائل فری ہسپتال کی تصدیق
  • ☚ برطانیہ مذہبی آزادی کی حمایت کرتا رہے گا، ایسٹر پر تھریسامے کا پیغام
  • ☚ تحفظ ماحولیات مظاہروں کا چھٹا دن، مزید 200 پولیس افسران طلب
  • ☚ سکاٹش کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان چل بسے
  • ☚ معدومیت کے خلاف بغاوت،پولیس مظاہرین کے خلاف حرکت میں آگئی
  • ☚ تھریسامے کی ایم پیز کو ہدایت دینے کی بجائے10کے ریس میں شرکت
  • ☚ کوونٹری میں تارکین وطن مخالف بریگزسٹ پارٹی کا اجلاس، مقامی آبادی کا شدید احتجاج
  • ☚ فلم ’’باجی‘‘ سے میرا کی شوبز میں دھماکے دار واپسی
  • ☚ میشا شفیع کا لکس اسٹار ایوارڈ سے اپنا نام نکالنے کا مطالبہ
  • ☚ عاطف اسلم ننھے گلوکاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے میدان میں آگئے
  • ☚ گلوکارہ حمیرا ارشد اوراحمد بٹ کے درمیان طلاق
  • ☚ گلوکار علی گل پیر نے والدین کی علیحدگی سے متاثرہ بچوں کے نام ویڈیو جاری کردی
  • ☚ پاکستان کےپاس دنیا کی مہنگی ترین کوچنگ ٹیم
  • ☚ ایشٹن ٹرنر مسلسل پانچ بار صفر پر آؤٹ
  • ☚ پاکستانی کرکٹ ٹیم دورہ انگلینڈ اور ورلڈ کپ کیلئے لندن پہنچ گئی
  • ☚ عامر خان کوعالمی ویلٹر ویٹ فائٹ میں کرافورڈ نے ہرا دیا
  • ☚ ایشین ویٹ لفٹنگ، طلحہ طالب آٹھویں پوزیشن پر
  • آج کا اخبار

    حکمرانو!خُدارا گھاٹے کا سودا مت کرو

    Published: 09-03-2018

    Cinque Terre

    ٹیلی فون کہ بہت بڑا محکمہ ہے کو اونے پونے داموں بیرون ملک کی کمپنی "اتصالات"کوبیچ ڈالا گیا تھا یہ وہ محکمہ تھاجس کا ریونیو ہمارے ملک کے سالانہ بجٹ کا بیشتر حصہ پورا کرتا تھاکمپنی نے پہلی قسط کے بعد سے آج تک بقیہ70ارب روپے ادا نہیں کیے جو بھی حکمران آیا وہ اپنا"حصہ"وصول کر لیتا ہے اور کمپنی اصل رقم دینے سے ٹالم مٹول کرتی رہتی ہے غرضیکہ انکار ہی سمجھیں بلڈنگز اور محکمہ کی تنصیبات جس ریٹ پر بکیں وہ حکمرانوں سمیت ہم سب کے لیے شرم کا مقام ہے یعنی اصل قیمت سے دسواں حصہ بھی قیمت نہ لگی راوی بتاتے ہیں کہ حکمرانوں کا اس میں ایک خاص تناسب سے حصہ ہے زرداری لیتے رہے اور شریفین بھی وصول کر رہے ہیں اب جب کہ موجودہ حکومت کے چل چلاؤ میں تقریباً تین ماہ رہ گئے ہیں تو گیس کمپنیوں ،واپڈا اور سٹیل ملز کی فروختگی کا ان پر بھوت سوار ہے اس کو بھی اونے پونے داموں نجکاری کے بہانے فروخت کرکے اربوں روپے نقد کسی بیرونی لیکس میں جمع کروالیں گے جو کہ آمدہ عام انتخابات2018میں ووٹوں کی خرید و فروخت کے کام آسکے گا ویسے تو کسانوں کو ادھار رقم دینے کی سکیم کے اربوں روپے بھی اپنے من پسند افراد کو اپنے ہی کارکنوں کے ذریعے "حلف نامہ برائے ووٹ " لیکر کسانوں کوادائیگی جاری ہے اس طرح سے اپوزیشن خواہ جتنا بھی چیخے چلائے الیکشن سے پہلے بھی پری پول دھاندلی تو ہو رہی ہے جسے روکنے کا کوئی طریقہ دیگر جماعتوں کے پاس نہ ہے پھر کئی سال سے تو ایم این ایز ،ایم پی ایز ووزراء کو منہ تک نہ لگا یا ہے اور اب انہیں فی ممبر عوامی سکیموں کے لیے کروڑوں روپے بانٹے جارہے ہیں تاکہ انتخابات کے دوران جس چک گوٹھ محلہ میں جائیں وہیں ان کی عوامی نام نہاد کمیٹیاں بنوا کر سکیموں کی رقوم ان کی نظر کردیں وہ سکیمیں کل کو مکمل ہوں یا نہ پیسے تو ووٹ ڈلوانے والی " مشینوں (کارکنوں)" کے پاس حصہ بقدر جسہ پہنچ جائیں گے ایسے جی حضوریے کارکنوں کو ووٹ بذریعہ نوٹ کا طریقہ پہلے ہی خوب آتا ہے سندھ میں پی پی پی کے پی کے میں پی ٹی آئی اور ن لیگ اب ایسے ہتھکنڈوں سے خوب واقف ہو چکی ہیں جس کا اظہار انہوں نے سینٹ کے انتخابات میں خوب کیا ہے ملکی عدالتیں ،الیکشن کمیشن ،کہاں کہاں ٹانگ پھنسائیں؟ کہ جب سبھی سیاسی افراد ٹھگ ڈکیت کا روپ دھار لیں تو وہ کس کس کو پکڑ سکتے ہیں؟کہ" جمع پونجی" سے اعلیٰ فیسیں وکلاء کی نظر کرکے بالآخر مقدمات ہی التوا میں چلے جائیں گے اور سزا تو ہو ہی نہیں سکتی کہ ساری عدلیہ کے ججز بھی تو دووھ دھلے نہ ہیں غرضیکہ ان کم قیمتوں پر گیس کمپنیوں سٹیل ملز اور واپڈا کی نجکار ی بھی کسی اپنے ہی "چیلے چانٹے " کے نام کردیں گے اور اس سے اصل رقم کا خاصا حصہ وصول بھی کر لیں تو کون پوچھتا ہے سارے الیکشن کا خرچہ گیس کمپنیوں واپڈا اورسٹیل ملز کی فروختگی /نجکاری سے حاصل ہو جائے گا اور ذاتی بیرونی ممالک کی مختلف لیکس میں پہلے سے جمع پونجی ویسے ہی ہنگامی حالات کے لیے محفوظ پڑی رہے گی زرادری صاحب کو بہرحال ذاتی جمع پونجی خرچ کرنا پڑے گی تبھی سندھ کے اندر سیاسی حالات جوں کے توں برقرار رہ سکیں گے جس کا انہیں سینٹ کے موجودہ انتخابات میں مکمل تجربہ حاصل ہو چکا ہے وہ جہاندیدہ سیاستدان ہیں اور زمانے کی سرد و گرم کو بخوبی سمجھتے ہیں اور سینٹ کے انتخابات کی طرح جہاں کے پی کے میں صرف سات ممبرز تھے وہاں سے بھی دو سینٹ کی سیٹیں اڑاکر لے گئے ہیں ان کے "فرستادہ فرشتے "قابل ہیں اور خرید و فروخت کے سبھی ہتھکنڈوں سے بخوبی واقف بھی۔ "مال لگاؤ اور "تگنا چوگنا" کماؤکے فارمولے سے بخوبی واقف ہیں آخر ملک کے دوسرے بڑے سرمایہ دار یوں ہی نہیں بن گئے وہ دوستوں کو بھی نوازتے رہتے ہیں اور اپنا گھر بھی پورا کر لیتے ہیں شریفین بھی اب ان سے کسی طرح کم نہ ہیں کہ وہ بھی تھوڑے ممبر رکھنے کے باوجود کے پی کے سے دو سینٹ کی سیٹیں "جیت" گئے اب ٹیلی فون کی طرح ہمارے مذکورہ قیمتی اثاثے بھی بک گئے تو ہمارے پلے کوئی اہم ادارہ باقی نہیں رہے گا پہلے ہی ائیر پورٹس اور سڑکیں تک قرضوں کی مد میں گروی پڑی ہیں عوام شک و شبہ میں مبتلا ہیں کہ کوئی پتہ نہیں پورا ملک ہی آہستہ آہستہ گروی رکھ کر کسی مودی نما دوست کے پاس انڈیایا دوسرے ملک کو نہ بھاگ جائیں مگر یاد رکھیں کہ شہنشائے ایران اربوں ڈالرز ،زیورات /نوادرات بھاگتے وقت ساتھ نہ لے جاسکا تھا بقیہ زندگی لوگوں کے ٹکڑوں پر گزاری اور موت پر کوئی ملک لاش دفنانے کو تیار نہ تھا اسی طرح صدام اور قذافی و دیگر آمروں کا حشر بھی ہمارے سامنے ہے کہ حرام ذرائع سے جمع پونجی بھی انہیں عبرتناک/ شرمناک موت سے نہ بچا سکی ۔"ہر کمالے رازوالے " کے مصداق اب بھی وقت ہے کے تاریک مستقبل سے بچنے کے لیے قیمتی اداروں کی اونے پونے داموں فروختگی/ نجکاری قطعاً بند کردو کہ یہی ہمارے بچوں اور نئی پود کے کام آئیں گے پھر یہ بھی تو سونچیں کہ بلیو لائن وزیر اعظم کی ملکیت میں منافع بخش ہے مگر پی آئی اے سرکاری ملکیت میں خسارے میں جارہی ہے شریفوں کی ذاتی سٹیل ملز منافع میں اور سرکاری ہاتھوں میں موجود سٹیل ملز خسارے میں ہیں محسوس یہی ہوتا ہے کہ کم از کم یہ دو ادرے خود ہی کسی جعلی نام سے حکمرانوں کے پالتو تابعدار افراد ہی خرید لیں گے اور ہم منہ دیکھتے رہ جائیں گے کہ ہم عوام بدھو جو ہوئے کہ ان کی تابعداریاں کرنے کے لیے زندہ ہیں خواہ حکمران ہماری کھالوں کے جوتے ہی کیوں نہ تیار کرکے پہن لیں خدا دیکھ رہا ہے!
    آخری فیصلہ وہیں سے آئے گا خدائے عز وجل اپنی نظر کرم کریں گے اور ملک کے تمام مسالک فرقوں ،برادریوں ،علاقائی گروہوں کی پسندیدہ اللہ اکبر تحریک چلے گی جو انتخابات میں سبھی جغادری سیاستدانوں کا پولنگ اسٹیشنوں پر تیا پانچا کرڈالے گی اور ملک خوشحال ہو کر رہے گا ۔انشاء اللہ۔