• ☚ سری لنکا کیخلاف کیریئر کی یادگار اننگز کھیلی، رحمت شاہ
  • ☚ غیر قانونی گیس سلنڈر نصب کرانیوالے ٹرانسپوٹروں کیخلاف کاروائیاں
  • ☚ نواز شریف کی رہائی سے افواہوں کی پٹاری بند‘چہ مگوئیاں دم توڑ گئیں
  • ☚ تحریک انصاف کے رہنما راجہ نواز نے بیوہ خاتون کی عزت تار تار کردی
  • ☚ یوم عاشورہ کے تمام جلوسوں اور مجالس کی ویڈیو ریکاڈنگ کے احکامات
  • ☚ انجمن حیدریہ ہریہ والا کے زیر اہتمام مجالس کا سلسلہ جاری
  • ☚ چوہدری وجاہت حسین کو ضلعی چیئرمین منتخب کرائینگے : امیر حسین شاہ
  • ☚ گجرات ٹریولز ایجنٹس ایسوسی ایشن کا اجلاس‘اہم مطالبات پیش کر دیے
  • ☚ اجر رہنما جاوید بٹ کی راجہ نعیم کی والدہ کی وفات پر تعزیت
  • ☚ کھاریاں سے منشیات کی بڑی کھیپ پکڑی گئی ‘ سپلائر بھی گرفتار
  • ☚ نواز شریف لاہور کے بعد جاتی امرا پہنچ گئے
  • ☚ سوئی گیس مہنگی، LPG سستی، قیمت میں 10 سے 143 فیصد اضافہ، LPG کے تمام ٹیکس ختم، صرف 10 فیصد GST لگے گا، بلوچستان،سندھ کیلئے CNG بھی مہنگی
  • ☚ ایشیا کپ: پاکستان فیورٹ ہے بھارت نہیں، سنجے منجریکر
  • ☚ وزیراعظم ہائوس کی 8 بھینسوں کی تفصیل سامنے آگئی
  • ☚ شریف خاندان کے پیرول میں توسیع کا نوٹیفیکیشن جاری
  • ☚ ’شریف خاندان کو مفروضے پر دی گئی سزا برقرار نہیں رہ سکتی‘
  • ☚ جمہوریت مضبوط،مزیدمستحکم ہوگی،نئے صدر کی حلف برداری جمہوری عمل کے تسلسل کیلئے اہم ہے، آرمی چیف
  • ☚ جمہوریت مضبوط،مزیدمستحکم ہوگی،نئے صدر کی حلف برداری جمہوری عمل کے تسلسل کیلئے اہم ہے، آرمی چیف
  • ☚ شہباز شریف نےخود کو احتساب کے لئے پیش کردیا
  • ☚ بہت جلدنوازشریف کی رہائی کیلئے تحریک شروع کرینگے،مسلم لیگ ن
  • ☚ برطانیہ پاکستان کی سیاسی حساسیت سے واقف
  • ☚ بریگزٹ کے بعد انتقام کا خدشہ، ای یو مائیگرنٹس کو برطانوی ویزے دینے پر غور
  • ☚ سکھوں کا علیحدہ مملکت کیلئے خالصتان ایڈمنسٹریشن کا تاریخی اعلان
  • ☚ لندن: منی لانڈرنگ کے الزام میں پاکستانی سیاسی شخصیت اہلیہ سمیت گرفتار
  • ☚ بریگزٹ: یورپی یونین تھریسامے کو اپنی تجاویز پر قائل کرنے میں ناکام
  • ☚ ایم پیز کو میرے پلان یا پھر کوئی ڈیل نہیں کا انتخاب کرنا ہوگا، تھریسا مے
  • ☚ برطانیہ: منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار پاکستانی کا نام سامنےآگیا
  • ☚ پاکستان کیلئے سرمایہ کاری کی کوشش کرتا رہا ہوں گا، صاحبزادہ جہانگیر
  • ☚ تھریسامے کا اپنی لیڈرشپ پر بحث سے پریشان ہونے کا اعتراف
  • ☚ بریگزٹ ،برطانیہ ای یو سے علیحدگی کا بل ادا کئے بغیر نہیں رہ سکتا
  • ☚ شاہد کپور بھی اقربا پروری کے خلاف میدان میں آگئے
  • ☚ ابھیشیک بچن کی فلم ’من مرضیاں‘ مشکلات کا شکار
  • ☚ ریمو ڈی سوزا نے فلم ’ریس تھری‘ کی ناکامی کی وجہ بتا دی
  • ☚ عالیہ کی والدہ بھی رنبیرکے ساتھ بیٹی کے رشتے پرخوش
  • ☚ پریانکا چوپڑا دمہ کے مرض میں مبتلا
  • ☚ کلب میں جھگڑنے والے بین اسٹوکس اور ہیلز پرفرد جرم عائد
  • ☚ پاکستانی فیلڈنگ میں بہتری، ہیڈ کوچ نے ٹیم کو ورلڈ کلاس بنادیا
  • ☚ پاکستان کی بھارت پر چار فاسٹ بولرز سے ہلہ بولنے کی تیاری
  • ☚ ایشیاکپ، پاک بھار ت ٹکراؤ کیلئے ٹیمیں تیار
  • ☚ بابر اعظم کے ون ڈے کیریئر میں دو ہزار رنز مکمل
  • آج کا اخبار

    وفاقی حکومت کے کھاتوں میں 82 کھرب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

    Published: 18-04-2018

    Cinque Terre

    اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) جاوید جہانگیر نے دعویٰ کیا ہے کہ سال 18۔2017 کے درمیانی عرصے میں وفاقی حکومت کے کھاتوں میں 82 کھرب 76 ارب روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت کے کھاتوں میں بے ضابطگیوں کی مذکورہ رقم مالی سال کے وفاقی بجٹ سے دگنی ہے، وفاق کا بجٹ 47 کھرب 50 ارب روپے تھا۔اے جی پی نے مزید دعویٰ کیا کہ 11 کھرب 56 ارب روپے کی بے ضابطگیاں صرف صوبائی حکومتوں کے اکاؤنٹس میں پائی گئیں۔جاوید جہانگیر نے محکمہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (ڈی اے جی پی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز تک پہنچا بہت ضروری ہے اور شراکت داری کا عمل کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اداروں کو چاہیے کہ وہ حکومتی ایجنڈے کے تحت اپنے اسٹیک ہولڈرز سے رابطے کو بہتر بنائیں تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکیں۔اس سے قبل بورڈ کے اجلاس میں ڈی اے جی پی میں اصلاحات کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی تھی جس میں تجویز سامنے آئی تھی کہ پیشہ وارانہ اکاؤنٹنگ اور آڈیٹینگ اداروں سے رابطے کیے جائیں اور آڈٹ کے دوران این جی اوز کو بھی شامل کیا جائے۔اجلاس میں پلک سیکٹر آڈٹ پلان 19۔2018 کی سفارشارت پر بھی زیر بحث ا?ئیں، جس میں اظہار خیال کیا گیا کہ ڈی اے جی پی کی جانب سے آڈٹ پلاننگ کو حتمی شکل دینے سے پہلے اسٹیک ہولڈرز کی رائے بھی طلب کی جائے۔اے جی پی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمے کی ہمیشہ کوشش رہی کہ اپنے صارف اور پارلیمنٹ کی جانب سے ابھرتے ہوئے چیلنجز کو اصلاحات کے ذریعے حل کیا جائے اور اس مد میں گزشتہ برسوں کے دوران متعدد اقدامات اٹھائے گئے۔اس حوالے سے ڈی اے جی پی کی جانب سے بڑا اقدام اس وقت سامنے آیا جب آکاؤنٹس کے تمام پرانے کوڈز کو نئے کوڈز اور مینول میں تبدیل کردیا گیا اور فنانشنل آڈٹ اور رپورٹنگ کے نئے طریقے متعارف کرائے گئے جو بین الااقوامی معیار کے مطابق ہیں۔جاوید جہانگیر نے واضح کیا کہ بہتری کا عمل مسلسل جاری رہنے سے ممکن ہے اور محکمہ اصلاحات کے مراحلے میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔