• ☚ میاں برادران نے ملک و قوم کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا ہے ‘ ہارون وائیں
  • ☚ میر فہیم اقبال ہی جلالپورجٹاں کی تاجر برادری کے حقیقی لیڈر ہیں ‘ مستقیم احمد کنٹھ
  • ☚ نواز شریف کی مخاذ آرائی نے نئے انتخابات کو خطرے میں ڈال دیا ہے : سجاد اقبال بٹ
  • ☚ سستے رمضان بازار کے انعقاد سے مہنگائی کے ستائے عوام کو بھر پور ریلیف مل رہا ہے : مرزا ریاض ابراہیم
  • ☚ نواز شریف کا بمبئی حملوں کے متعلق بیان ملک و قوم سے غداری کے مترادف ہے : مرزا ریاض
  • ☚ مخلوق خدا کی خدمت و تابعداری کر کے دل کو حقیقی سکون ملتا ہے : چوہدری شیراز وڑائچ
  • ☚ نیب سمیت تمام اداروں میں انصاف یا احتساب بلا تفریق ہونا چاہیے ‘ شہباز شریف
  • ☚ ماسٹر محمد آصف رضائے الٰہی سے وفات پاگئے
  • ☚ گجرات: سماجی تنظیم فدا ویلفیئر فاؤنڈیشن معین الدین پور سیداں کی طرف سے راشن کی تقسیم
  • ☚ منشیات فروشوں اور ناجائز اسلحہ برداروں کیخلاف کاروائیاں جاری
  • ☚ جنوبی ایران میں مظاہرے 2 افراد ہلاک
  • ☚ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر نئے انتخابات کی تاریخ اکتیس جولائی دو ہزار اٹھارہ درج
  • ☚ پہلے دھرتی پھر پاور ہوتی ہے، زرداری
  • ☚ ن لیگ مشاورتی اجلاس ، سعد رفیق اور آصف کرمانی الجھ پڑے
  • ☚ اسد درانی کو سیاسی انجینئرنگ میں گھسیٹنے سے منع کیا تھا، اسلم بیگ
  • ☚ آڈیٹر جنرل نے پا کستان کرکٹ بورڈ سے پی ایس ایل کا ریکارڈ مانگ لیا
  • ☚ لاہور:پاکستان میں باکسنگ کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے‘باکسرعامر خان
  • ☚ اقتدار سنبھالنے والے کو مسائل میں گھیرا پاکستان ملے گا : عمران خان
  • ☚ نوازشریف جمعے کو احتساب عدالت میں پیش ہوں گے
  • ☚ احسن اقبال پر حملے کا ملزم 14 روزہ ریمانڈ پرجیل بھیج دیا گیا
  • ☚ کیوبا میں مسافر طیارہ گر کرتباہ، 110 افراد ہلاک
  • ☚ امریکی سفارت خانہ کی یروشلم منتقلی سے ہی فلسطینیوں کی خونریزی کے لیے اسرائیلی فوج کے حوصلے بلند ہوئے:ترکی
  • ☚ ہوائی کے آتش فشاں سے لاوے کا اخراج جاری، سڑکوں پر دراڑیں
  • ☚ ترکی نے غزہ تشدد پر اسلامی ممالک کی ہنگامی اجلاس بلایا
  • ☚ امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے گردے کی رسولی کی کامیاب سرجری
  • ☚ کڑیانوالہ:باؤمحمدشفیق بٹ کی ق لیگ میں شمولیت اختیار کرنے والوں کو دلی مبارکباد
  • ☚ پی ٹی آئی ملک بھر سے کلین سویپ کرے گی:چوہدری پرویزریاض
  • ☚ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں امریکی شہریوں کی جاسوسی میں اضافہ
  • ☚ آسٹریلوی سائنسدان کا 10 مئی کو رضاکارانہ طور پر موت کو گلے لگانے کا اعلان
  • ☚ شمالی کوریا نے اپنا وقت جنوبی کوریا سے ملالیا
  • ☚ وینا ملک نے شوہر سے خلع کی تصدیق کردی
  • ☚ شادی کے بعد سونم کپور کے شوہر نےبھی نام تبدیل کرلیا
  • ☚ آنجہانی سری دیوی کو کانز فیسٹیول میں فلم آئیکون کے ایوارڈ سے نوازدیاگیا
  • ☚ میشا شفیع کا ایک بار پھر علی ظفر پر جنسی ہراسانی کاالزام
  • ☚ سری دیوی کی موت حادثاتی نہیں قتل تھا، سابق اسسٹنٹ کمشنر دہلی
  • ☚ سپاٹ فکسنگ کیس، ناصر جمشید کے وکیل نے جواب جمع کروا دیا
  • ☚ ٹیسٹ چیمپئن شپ، آئی سی سی نے جدت طرازی کی ٹھان لی
  • ☚ ڈی ویلیئرز کےاسپائیڈر مین کیچ نے سب کو حیران کر دیا
  • ☚ شاہد آفریدی ورلڈالیون کی جانب سے میچ کھیلنے کیلیے پرعزم
  • ☚ آئرلینڈ سے ٹیسٹ میں فتح پاکستانی پلیئرز کی عالمی رینکنگ میں بہتری کا ذریعہ بن گئی
  • آج کا اخبار

    ج سے جمہوریت

    Published: 25-04-2018

    Cinque Terre

    جب ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں معاشرتی انصاف ہے تمام لوگ قانون کی نظر میں برابر ہیں جمہوریت میں اقتدار اعلیٰ اعوام کے ہاتھوں میں ہوتا ہے یعنی ایک ایسی حکومت جس میں ایک حکمران جماعت پوری قوم کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہوتی ہے ۔ لیکن جمہوریت کی کامیابی کی پہلی شرط بنیادی تعلیم ہے ۔ کیونکہ تعلیم ہی افراد میں سیاسی شعور پیدا کرتی ہے اور اسی کی بدولت وہ اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہ ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنماؤں کا قابل ، لائق، دوراندیش اور تعلیم یافتہ ہونا بھی نہایت ضروری ہے لیکن افسوناک پہلو یہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد صرف اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں اس کے ذریعے ایک اچھے اور قابل لیڈر کا انتخاب نہیں کرتے ۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت ہمیشہ خطرے میں ہی نظر آتی ہے ۔ اسی وجہ سے جمہوریت کے اصل ثمرات عوام تک نہیں پہنچتے جمہوریت کے حق میں عام طور رپ یہ نعرہ لگایا جاتا ہے کہ آج تک غور و فکر کے ذریعے انسان نے حکومت چلانے کے لیے جتنے نظام وضع کیے ہیں جمہوریت ان سب میں سے بہتر ہے اگر واقع جمہوریت اب تک وضع کردہ تمام نظاموں سے بہتر ہے تو ہمارے ملک میں اور تیسری دنیا کے بہت سے اور ملکوں میں یہ نظام وہ نتائج کیوں نہیں سامنے لاتا جس سے دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک بہرہ ور ہو رہے ہیں اس کا صرف کا ایک ہی جواب ہے جب کوئی نظام وہ بنیادی شرائط ہی پوری نہ کرتا ہو جس پر اس کی پرفارمنس اور ترقی کا انحصار ہو تو اس سے نتائج کس طرح برآمد ہو سکتے ہیں برادری سسٹم ، مذہبی عقائد ، فیوڈلزکے غلبے کی وجہ سے دیہی آبادی جو کل آبادی کا 60%ہے ۔ مجموعی طور پر اپنے ووٹ کا صحیح استعمال نہیں کر پاتی ۔ جمہوریت کی دو اقسام ہیں :


    بلاواسطہ جمہوریت، بالواسطہ جمہوریت


    1۔ بلاواسطہ جمہوریت کا آج کے دور میں تصور ممکن نہیں اس لیے کہ ریاستیں وسیع علاقے پر مشتمل ہوتی ہیں اور آبادی بھی زیادہ ہوتی ہے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ کسی ریاست کے تمام افراد ایک جگہ اکٹھے ہو کر ریاست کے معاملات میں حصہ لیں ایسا ممکن نہیں ۔

    2۔ بالواسطہ جمہوریت : اس قسم کی جمہوریت میں حکمران جماعت عوامکی رائے کے مطابق حکومت چلاتی ہے ۔ آج کل کی تمام جمہوری حکومتیں در حقیقت بالواسطہ جمہوری طرز کی ہیں اگرچہ ان دونوں اقسام میں عوام کی رائے کے مطابق طرز حکومت چلائی جاتی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود عوام کی ایک بڑی تعداد جمہوری حکومت سے نالاں نظر آتی ہے ۔ اس کی وجہ سے اس نظام میں پائی جانے والی دو خامیاں ہیں۔

    1۔ اس نظام کے تحت معاشرہ دو گروہوں امیر اور غریب میں تقسیم ہو کر رہ جاتا ہے اقتدار کو حاصل کرنے کے لیے سرمایہ دار لوگ پیسہ پانی کی طرح بہا کر اور ووٹروں کو مختلف قسم کے لالچ دے کر اقتدار حاصل کرلیتے ہیں اور قابل تعلیم یافتہ نوجوان کو صرف مالی حیثیت کی وجہ سے لیڈر بننے کے قابل نہیں سمجھا جاتا ۔ اس میں تمام تر فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ لہٰذا معاشرے کی اقلیتی لوگ ہمیشہ اکثریت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اس نظام کی دوسری خامی جمہوریت قوم کو مختلف پارٹیوں میں تقسیم کرتی ہے ۔ جس کی وجہ سے ہر پارٹی اپنے مفاد کو مد نظر رکتھی ہے بجائے ملکی بقاء اور سا لمیت کے باقی رہی سہی کسرموروثی سیاست نکال دیتی ہے جمہوریت کا سیدھا سادھا فلسفہ ہے کہ نظام معاشرہ پر کسی طاقت ور فرد ، خاندان، قبیلے برادری طبقے ،علاقے کی اجارہ داری کو ختم کرکے اس اقتدار اور اختیار کو عوام الناس کی سطح تک کسی متفقہ معاہدہ کے تحت بانٹ دیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ جمہوری نظام میں موجود تضادات کو حل کیے بغیر اس نظام کو مؤثر، فعال اور تعمیری نہیں بنایا جاسکتا۔ ریاست آئین کی بالا دستی ، عدلیہ کی آزادی اور شفاف احتساب کو یقینی بنائیں۔ عوام کو صحت، تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور اس جمہوری نظام کو لاگو کیا جائے جسے عوامی ووٹ سے لایا جاتا ہے ۔ تاکہ جمہوریت ملک اور قوم کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ جمہوریت میں عوام کی حکمرانی ہوتی ہے مگر ہمارے جمہوری نظام میں عوام کی حیثیت صرف اس مہر کی ہے جس سے ووٹ کی پرچی پر نشان لگایا جاتا ہے ۔ شخصیت پرسی جمہوری اصولوں کے ہی منافی ہے ۔ مگر ہمارے سیاسی لیڈ ر تا حیات پارٹی کے چیئر مین بن جاتا ہیں۔ سیاسی اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تمام اداروں کا اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہے ہوئے کام کرنا ضروری ہے ۔ پاکستان میں جمہوریت کو پھلنے پھولنے کے لیے عوام کی زندگیوں میں ایک صاف ستھرے اور شفاف انداز میں تھوڑی سی بہتری لانے کی ضرورت ہے اور جب تک ایسا نہیں ہوتا لانگ مارچز اور انقلاب کے نعرے کے ذریعے نظام کو بدلنے کا مطالبہ بجائے ایسی اصطلاحات کے جو موجودہ جمہوری نظام میں زیادہ شفافیت اور احتساب کی روایات لائے۔ پاکستان میں جمہوریت کے لیے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ہے ۔