• ☚ شہباز پور پل پرروکنے کی سزا‘گاڑی سوارو ں نے سیکیورٹی گارڈ کچل ڈالا
  • ☚ چوہدری محمد ارشد چیچیاں کی اہلیہ کے ایصال ثواب کیلئے ختم قل
  • ☚ حاجی محمد بشیر کو حج بیت اللہ کی سعادت پر اہم شخصیات کی مبارکباد
  • ☚ بشیر احمد کو حج کی سعادت پر اہم شخصیات کی مبارکبادیں
  • ☚ گجرات:رجسٹریشن نہ کرانے پر مالک مکان کرایہ دار سمیت گرفتار
  • ☚ موجوکی میں سسرالیوں کا بہو پر بدترین تشدد‘ ہڈی پسلی ایک کردی
  • ☚ پاکستانی قومی بھار تی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیگی:مہر فاروق
  • ☚ لالہ موسی میں گرانفروشی کا بازار گرم‘پرائس کنٹرول کمیٹیاں غیر فعال
  • ☚ مجلس قادریہ حضرت دیوان حضوری الکویت کے زیر اہتمام روحانی محفل
  • ☚ امام حسین کی شہا دت دنیا کے لیے مشعل راہ ہے:چوہدری عظمت
  • ☚ متحدہ اپوزیشن ، ن لیگ کا پی پی قیادت سے رابطہ ،ذرائع
  • ☚ فرانسیسی جنگی طیاروں کے سودے میں اربوں کی کرپشن، مودی حکومت خطرے میں
  • ☚ نواز شریف لاہور کے بعد جاتی امرا پہنچ گئے
  • ☚ سوئی گیس مہنگی، LPG سستی، قیمت میں 10 سے 143 فیصد اضافہ، LPG کے تمام ٹیکس ختم، صرف 10 فیصد GST لگے گا، بلوچستان،سندھ کیلئے CNG بھی مہنگی
  • ☚ ایشیا کپ: پاکستان فیورٹ ہے بھارت نہیں، سنجے منجریکر
  • ☚ وزیراعظم ہائوس کی 8 بھینسوں کی تفصیل سامنے آگئی
  • ☚ شریف خاندان کے پیرول میں توسیع کا نوٹیفیکیشن جاری
  • ☚ ’شریف خاندان کو مفروضے پر دی گئی سزا برقرار نہیں رہ سکتی‘
  • ☚ جمہوریت مضبوط،مزیدمستحکم ہوگی،نئے صدر کی حلف برداری جمہوری عمل کے تسلسل کیلئے اہم ہے، آرمی چیف
  • ☚ جمہوریت مضبوط،مزیدمستحکم ہوگی،نئے صدر کی حلف برداری جمہوری عمل کے تسلسل کیلئے اہم ہے، آرمی چیف
  • ☚ برطانوی نیو کلیئر ڈیٹرنٹ انفراسٹرکچر مقصد کیلئے فٹ نہیں، ایم پیز
  • ☚ برطانیہ کا بریگزٹ پلان مسترد،تھریسامے کو ہزیمت کاسامنا
  • ☚ برطانوی سیاست میں ساجدجاویدکے عروج پر برٹش ایشیائی باشندوں کاجشن
  • ☚ برطانیہ پاکستان کی سیاسی حساسیت سے واقف
  • ☚ بریگزٹ کے بعد انتقام کا خدشہ، ای یو مائیگرنٹس کو برطانوی ویزے دینے پر غور
  • ☚ سکھوں کا علیحدہ مملکت کیلئے خالصتان ایڈمنسٹریشن کا تاریخی اعلان
  • ☚ لندن: منی لانڈرنگ کے الزام میں پاکستانی سیاسی شخصیت اہلیہ سمیت گرفتار
  • ☚ بریگزٹ: یورپی یونین تھریسامے کو اپنی تجاویز پر قائل کرنے میں ناکام
  • ☚ ایم پیز کو میرے پلان یا پھر کوئی ڈیل نہیں کا انتخاب کرنا ہوگا، تھریسا مے
  • ☚ برطانیہ: منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار پاکستانی کا نام سامنےآگیا
  • ☚ ایسی فلم میں کام نہیں کروں گا جسے دیکھ کر بیٹی شرمندہ ہوجائے، ابھیشیک بچن
  • ☚ دپیکا رنویر کی شادی تاخیر کا شکار
  • ☚ شلپا شیٹھی کو سڈنی ایئرپورٹ پر نسل پرستی کا سامنا
  • ☚ شعیب ملک کی تعریف کے دوران غلطی پر ماورا مذاق کا نشانہ بن گئیں
  • ☚ ایشیا کپ ،آج پاکستان روایتی حریف بھارت کو ہرانے کے لئے پرعزم
  • ☚ فخر زمان نے کس طرح خود اپنی وکٹ ضائع کی ؟
  • ☚ پاکستان کو 9 وکٹ سے شکست،بھارت فائنل میں
  • ☚ ایشیاکپ کے شیڈول میں توازن نہیں، پی سی بی
  • ☚ روتے ہوئےافغان بولر آفتاب کو شعیب ملک نےگلے لگا لیا
  • ☚ شعیب ملک نےسینئر ہونےکا حق ادا کردیا، سرفرازاحمد
  • آج کا اخبار

    آسٹریلوی سائنسدان کا 10 مئی کو رضاکارانہ طور پر موت کو گلے لگانے کا اعلان

    Published: 06-05-2018

    Cinque Terre

    سڈنی: آسٹریلیا کے مشہور ماہر نباتات اور ایکلوجسٹ ڈاکٹر ڈیوڈ گُوڈال 10 مئی کو موت کا انجیکشن لگا کر ابدی نیند سو جائیں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوئٹزر لینڈ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں انتہائی علیل، ذہنی و جسمانی طور پر معذور طویل العمر اور لاغر بوڑھے افراد کو سہل مرگی (رضاکارانہ موت) فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی بے قرار اور تنگ زندگی کا خاتمہ آسانی سے کرسکیں اور اس حوالے سے سوئٹزر لینڈ کے شہر بازل کا کلینک ایٹرنل اسپرٹ انتہائی اہم مشہور و معروف تصور کیا جاتا ہے۔آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا کی پارلیمان نے بھی اسی طرح کا ایک قانون منظور کیا ہے جس پر آئندہ سال جون تک عملدرآمد شروع ہوگا تاہم قانون کے مطابق وہی افراد موت کو منہ لگا سکیں گے جنہں ڈاکٹروں کی جانب سے شدید علیل ہونے کی وجہ سے 6 ماہ کی زندگی کا عندیہ دیا گیا ہوگا۔آسٹریلوی شہر پرتھ کی ایڈیتھ کوون یونیورسٹی سے اعزازی طور پر منسلک مشہور ماہر نباتات اور ایکلوجسٹ ڈاکٹر ڈیوڈ گُوڈال کو سوئٹرلینڈ کے ایٹرنل اسپرٹ کلینک میں رواں ماہ کی 10 تاریخ کو ایک انجیکشن لگا کر ابدی نیند سلا دیا جائے گا کیوں کہ وہ آئندہ برس کا انتظار نہیں کرسکتے۔ 104 سالہ سائنسدان ڈاکٹر گُوڈال نے آسٹریلیا کے سرکاری خبررساں ادارے کو اپنی ممکنہ موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ قطعی طور پر سوئٹزرلینڈ جانے کے خواہشمند نہیں ہیں تاہم آسٹریلین نظام میں رضاکارانہ طور پر موت اپنانے کی سہولت کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے انہیں آخری سفر کرنا پڑے گا۔دوسری جانب سوئس کلینک ایٹرنل اسپرٹ کے بانی رکن روئڈی ہابیگر نے آسٹریلوی سائنسدان کی رضاکارانہ موت کو ظالمانہ فعل قرار دیتے ہوئے بیان جاری کیا ہے کہ ایک ہوش و حواس میں چلتے پھرتے سائنسدان کا موت کی جانب بڑھنا سمجھ سے بالاترہے، ڈاکٹر گوڈال کو اپنے ملک میں اپنے بستر پر ہی رہتے ہوئے سوئس بوڑھوں کی طرح موت کا انتظار کرنا چاہئے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر ڈیوڈ گوڈال اب آسٹریلیا سے اپنے ابدی سفر کے پہلے مرحلے پر فرانس پہنچ چکے ہیں۔ وہ فرانس میں اپنے بیٹے اور باقی اہلِ خانہ کے ساتھ کچھ وقت گزاریں گے۔ اس کے بعد وہ اگلے ہفتے کے دوران کسی وقت سوئٹزر لینڈ کے شہر بازل کے نواح میں واقع کلینک 146ایٹرنل اسپرٹ145 منتقل ہو جائیں گے۔ اسی کلینک پر اگلی جمعرات کو وہ طبی معاونت کے ذریعے ہمیشہ کے لیے موت کو گلے لگا لیں گے۔