• ☚ رکشہ ڈرائیور کی چھٹی جماعت کی طالبہ کو اغوا کرنیکی کوشش ناکام
  • ☚ کنجاہ و لالہ موسی میں چور گینگ متحرک 3 یتیم بہنوں کا جہیز لوٹ لیا گیا
  • ☚ ملہو کھوکھر میں قتل ہونیوالے محمد شریف کا قاتل آلہ قتل سمیت گرفتار
  • ☚ سرائے عالمگیر کے گاؤں سے 15سالہ لڑکی اغوا‘ملزمان غائب
  • ☚ ٹریفک حادثات میں آڑھتی کا جوانسالہ بیٹا جاں بحق4افراد زخمی
  • ☚ چوہدری محمد الیاس کی وفات پر چوہدری سلیم اختر کا اظہار تعزیت
  • ☚ گجرات:عمرہ کیلئے جانیوالے زائرین کی واپسی کا سلسلہ جاری
  • ☚ شادی میں جانے کیلئے لی گئی لاکھوں روپے مالیت کی گاڑی ہتھیا لی گئی
  • ☚ میونسپل کا رپوریشن اندرون شہر تجاوزات کیخلاف آپریشن شروع نہ کر سکی
  • ☚ شادی میں جانے کیلئے لی گئی لاکھوں روپے مالیت کی گاڑی ہتھیا لی گئی
  • ☚ ننھی زینب کے قاتل عمران کو آج پھانسی دی جائے گی
  • ☚ کراچی میں پی ٹی آئی کے دو ارکانِ اسمبلی لڑپڑے
  • ☚ کراچی: مبینہ پولیس مقابلہ، 3 ملزمان ہلاک
  • ☚ شہری کے مرنے کے بعد بینک اکاؤنٹ کھل گئے، اربوں روپے کا لین دین
  • ☚ لاہور: نوازشریف شناختی کارڈ نہ ہونے کے باعث ووٹ نہ ڈال سکے
  • ☚ ضمنی انتخابات: پہلی بار بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی انتخابی عمل کا حصہ بن گئے
  • ☚ کراچی میں 2 مبینہ پولیس مقابلے، اہلکار زخمی، 3 ڈکیت گرفتار
  • ☚ حکومت کی نیا پاکستان ہاوٴسنگ سکیم میں گھر کی کل قیمت اور ماہانہ قسط کتنی ہو گی؟ غریب عوام کیلئے انتہائی اچھی خبر آ گئی
  • ☚ جسٹس شوکت عزیز صدیقی عہدے سے فارغ
  • ☚ سستا گھر اسکیم کا سب سے بڑا فائدہ۔۔۔ نوکریاں ہی نوکریاں! وزیر اعظم عمران خان نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • ☚ آف شور دولت پر ٹیکس چوری روکنےکے یورپی یونین رولز میں لوپ ہولز کا انکشاف
  • ☚ ٹوری کی ویلفیئر سکیم سے لاکھوں افراد غربت کا شکار ہوجائیں گے،گورڈن براؤن
  • ☚ ٹومی رابنسن کے ساتھ فوجیوں کی تصویر پر آرمی نے تحقیقات شروع کر دی
  • ☚ چیف جسٹس ثاقب نثار مانچسٹر کے ڈیم فنڈ ریزنگ ایونٹ میں شرکت کرینگے
  • ☚ داعش30 ہزار جنونی دہشت گردوں کے سہاریمافیا کی شکل میں واپسی کیلئے تیار
  • ☚ سکاٹ لینڈ یارڈ نے جنید صفدراور زکریا شریف کو کلیئر کردیا
  • ☚ برطانیہ نے داعش سے تعلق رکھنے والے 9 برطانوی شہریوں کو واپس لینے سے انکار کردیا
  • ☚ پارلیمنٹری گروپ کے دورہ کشمیر سے مسئلہ اٹھانے میں مدد ملے گی، بیرسٹر عمران حسین ایم پی
  • ☚ مے کی لیبر ووٹرز سے اپیل کے ساتھ سینٹر گراؤنڈ حاصل کرنے کی کوشش
  • ☚ پاکستان سے باہر لندن میں تو کیا دنیا میں کہیں کوئی جائیداد نہیں، اسحاق ڈار
  • ☚ ساجد خان کا رویہ قابل نفرت ہے، دیا مرزا
  • ☚ فرحان سعید کی ’کراچی سے لاہور 3‘ کے ساتھ فلموں میں انٹری؟
  • ☚ خواتین کو ہراساں کرنے والوں کو اس کی قیمت بھی چکانی پڑے گی، سیف علی خان
  • ☚ گہری رنگت کی وجہ سے بچپن میں بہت تنگ کیا جاتا تھا، پریانکا چوپڑا
  • ☚ اداکارہ میرا پر شہری کے گھر پر قبضہ کا الزام
  • ☚ وہاب ریاض اور عثمان صلاح الدین کو وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ
  • ☚ ابوظہبی ٹیسٹ کا پہلا دن ختم، آسٹریلیا کے 2 وکٹوں پر 20 رنز
  • ☚ سرفراز مچل اسٹارک کی گیند لگنے سے زخمی، میچ سے باہر ہونے کا خدشہ
  • ☚ ’ڈرا‘ نے گرین کیپس کو ڈرا دیا، سیریز داؤ پر لگ گئی
  • ☚ پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی کیلئے وسیم اکرم اور مصباح الحق کے نام سر فہرست
  • آج کا اخبار

    فنکار ملک میں جمہوریت کے فروغ کے خواہشمند ہیں

    Published: 13-07-2018

    Cinque Terre

    پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے اہم ترین موڑ سے گزر رہا ہے۔ ملک میں دوسری جمہوری حکومت اپنی مدت کو کامیابی سے مکمل کر چکی ہے۔ پورا ملک انتخابات کی تیاریوں میں مصروف دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستانی عوام نے لاتعداد قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجہ میں جمہوری سفر میں تسلسل حاصل کیا ہے۔ اس جدوجہد میں ملک کے تمام طبقات اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے فنکار بھی اس جدوجہد میں پیش پیش رہے ہیں۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ فن کو پاکستانی معاشرے میں پنپنے اور ترقی کرنے میں کافی محنت کرنا پڑی ہے لیکن پاکستان میں فلم، تھیٹر، ٹی وی اور موسیقی سے وابستہ فنکاروں نے ہمیشہ بڑی محنت، لگن اور مستقل مزاجی کے ساتھ معاشرے میں اپنا مقام بنانے کے لیے کوشش کی اور اس کوشش کے نتیجہ میں آج پاکستان کے عوام ماضی اور حال کے فنکاروں سے اپنی محبت اور لگائو کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔پاکستانی فلمی صنعت، ڈرامہ اور موسیقی سے وابستہ فنکاروں نے تاریخ کے ہر موقع پر اپنی سماجی اور ثقافتی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا ہے۔ اس مقصد کے لیے نہ صرف انھوں نے اپنے فن کا استعمال کیا بلکہ انفرادی اور اجتماعی طور پر مختلف طرح کی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اگر پاکستانی معاشرے میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کے فروغ کی بات کی جائے تو اس میدان میں بھی فنکار برادری اپنی کوششوں کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ ملک میں آمریت کے خلاف جدوجہد میں اور جمہوری طاقتوں کے امور میں فنکاروں نے اپنی بساط کے مطابق ہمیشہ ہی کردار ادا کیا ہے۔ فنکاروں نے اپنے فنون لطیفہ کے ذریعے سے جمہوری اقدار کے فروغ اور معاشرے میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے اہم فریضہ انجام دیا ہے۔ علاوہ ازیں فنکار سیاست کے میدان میں بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔فلمی صنعت سے وابستہ فنکاروں کو جمہوریت کے فروغ کی جدوجہد میں حصہ لینے کا حوصلہ اور روایت ان تخلیق کاروں سے ورثہ میں ملی جنھوں نے پاکستان کی آزادی کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ قیام پاکستان میں اور آزادی کے بعد مہاجرین کی امداد کے لیے ان فنکاروں اور تخلیق کاروں کی کوششیں پاکستانی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ ملک میں ہونے والے تمام انتخابات میں فنکار ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔ کئی فنکاروں نے خود بھی بطور امیدوار انتخابات میں بھرپور حصہ لیا اور کچھ فنکار سیاسی جماعتوں کے ثقافتی ونگز اور دیگر شعبہ جات سے وابستہ رہے۔ اگر ماضی کے فنکاروں اور آج کے سینئرز کی بات کی جائے تو محمد علی، سنتوش، درپن، مصطفیٰ قریشی، شفیع محمد، کنول، غلام محی الدین، سدھیر، قوی خان، آصف خان اور دوسرے کئی اداکاروں نے سیاسی میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اگر موجودہ سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اداکار اور گلوکار اپنے تئیں اپنی پسندیدہ سیاسی جماعتوں کی سپورٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گلوکاروں کی اکثریت جو سیاسی حوالوں سے متحرک ہے اس نے ایسے نغمات کو ریکارڈ کیا ہے جس کے ذریعہ رائے عامہ کو ہموار کرنے کے علاوہ سیاسی جلسے اور جلوسوں میں سیاسی کارکنان کو سرگرم اور متحرک رکھنے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ کئی گلوکار سیاسی جلوس میں لائیو پرفارم بھی کرتے ہیں۔ ان گلوکاروں میں عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی، ابرار الحق، راحت فتح علی خان، وارث بیگ، سلمان احمد اور دوسرے گلوکار شامل ہیں۔ ابرار الحق تو سیاسی میدان میں باقاعدہ ایک جماعت کی جانب سے انتخابات میں حصہ بھی لے رہے ہیں۔ اسی طرح گلوکار جواد احمد نے اپنی سیاسی جماعت تشکیل دی ہے۔سوشل میڈیا کی مقبولیت کی وجہ سے فنکاروں کا سیاسی جماعتوں کو سپورٹ کرنے اور مخالفین پر تنقید کرنے کا انداز بھی بدل گیا ہے۔ اکثر اداکار اور اداکارائیں فیس بک، ٹویٹر، اور انسٹاگرام پر سیاسی موضوعات پر گفتگو کرتے اور اپنی آراء کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان فنکاروں کی سیاسی پوسٹس کو دیکھ کر اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے فنکار سماج کے ہر معاملہ پر اپنی رائے رکھتے ہیں اور اس کا برملا اظہار کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔فنکاروں کی سیاسی وابستگی ان کا بطور شہری ہونے کا حق ہے اور وہ اس حق کی بجا آوری بطریق احسن انجام دے رہے ہیں۔ لیکن سب سے اہم بات فنکاروں کا ملک میں جمہوریت کے سفر کے تسلسل پر مسرت کا اظہار کرنا اور اس حوالے سے اپنی سپورٹ کو شائقین تک پہنچانا ہے۔ اس حوالے سے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے اداکار و ہدایتکار شان کا کہنا تھا کہ ان کو ملک میں جاری سیاسی شعور کی بیداری کو دیکھ کر مسرت ہوتی ہے۔ شان نے کہا کہ پاکستان کے عوام باشعور ہیں اور ان کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ ملک کی ترقی کا اصل راز جمہوری سفر کے تسلسل میں پوشیدہ ہے۔ شان نے کہا کہ وہ ملک کے سیاسی حالات پر جلد ہی ایک فلم کا آغاز کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے والد ریاض شاہد کی فلمی روایت بھی سنجیدہ اور قومی ایشوز کو فلم کے میڈیم کے ذریعہ سے عوام تک پہنچانے کی ہے۔ شان نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ووٹرز الیکشن کے دن اپنے حق کا لازمی استعمال کریں۔ انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ ریما کا کہنا تھا کہ ان کو اس بات کی خوشی ہے کہ عام انتخابات کے حوالے سے عوام میں جوش و خروش موجود ہے۔ ریما نے کہا کہ وہ بھی انتخابات والے دن سب سے پہلے اپنے ووٹ کا استعمال کریں گی۔ ریما نے کہا کہ سب سے اہم بات پاکستانی نوجوانوں کا ملک کے سیاسی معاملات میں دلچسپی کا اظہار کرنا ہے۔ چونکہ ملک کے مستقبل کا انحصار نوجوانوں پر ہے اس لیے ان کا باشعور اور ذمہ دار ہونا ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اداکار ندیم کا کہنا تھا کہ ملک کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ عوام انتخابات میں کن کو ووٹ دیکر کامیاب کرتے ہیں۔ ندیم نے کہا کہ جب کسی ملک کے عوام ووٹ کی طاقت کے حقیقی استعمال کو جان لیں تو اس ملک کو ترقی کرنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ انتخابات کے حوالے سے اداکارہ ریشم کا کہنا تھا کہ ملک میں بیدار سیاسی شعور اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستانی اپنے حقوق سے آگاہ ہیں۔ نئی نسل کے فنکار احسن خان نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ انتخابات کے نتیجہ میں قائم ہونے والی حکومت عوام کے مسائل کو بہتر انداز سے حل کرنے میں کامیاب ہوگی تاکہ پاکستانی عوام کا معیار زندگی بلند ہو سکے۔اس وقت اگر فنکاروں کے سوشل میڈیا اکائونٹس کا جائزہ لیا جائے تو تمام فنکار سیاسی عمل کے تسلسل اور جمہوریت کے فروغ کے لیے ابلاغ کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کے ثقافتی شعبہ سے منسلک افراد کا سیاسی عمل میں حصہ لینا اور اپنے شائقین کو اپنے ووٹ کے حق کا درست استعمال کرنے کی ترغیب دینا ایک خوش آئند عمل ہے۔