• ☚ 3افراد سے اسلحہ برآمد ،5بوتل شراب پکڑی گئی
  • ☚ چوہدری وجاہت حسین ‘چوہدری حسین الٰہی حلقہ پر بھر پور توجہ دے رہے ہیں ‘نعمان مظہر
  • ☚ چوہدری برادران نے اجنالہ خاندان کی عزت افزائی کی ‘چوہدری مظہر اقبال
  • ☚ سانحہ نیوزی لینڈ‘ ثابت ہوا دہشتگردوں کاکوئی مذہب نہیں ہوتا:زین مظہر
  • ☚ ڈائریکٹر صوفی بلڈرز عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے سعودی عرب روانہ
  • ☚ ایجوکیٹرز بارہ دری کیمپس میں میرٹ پر داخلے کیے جا رہے ہیں
  • ☚ چیمبر کی اینول شپ مہم‘مہر طارق سعید نے لالہ موسیٰ میں ڈیسک لگایا
  • ☚ نیوزی لینڈ میں شہادتیں‘مسلمانوں کیخلاف سازش تیار کی گئی ‘ نجیب اشرف چیمہ
  • ☚ سانحہ نیوزی لینڈ‘امت مسلمہ ایک پلیٹ فارم پرجمع ہوجائے:احمد ثناءاللہ
  • ☚ عید گاہ لڑکی اغوائ‘دس افراد نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
  • ☚ غداری کیس، عدالت کا ویڈیو لنک کے ذریعے مشرف کا بیان ریکارڈ کرنے پر غور
  • ☚ امن فاتح ، پاکستان زندہ باد، کراچی میں PSL کی خوبصورت اختتامی تقریب، صدر، آرمی چیف، وزیراعلیٰ، گورنر، وزراء سمیت نیشنل اسٹیڈیم میں اہم شخصیا
  • ☚ میلی آنکھ نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یورپ میں اسلام فوبیا دکھائی دے رہا ہے، وزیرخارجہ
  • ☚ بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بال بال بچ گئی، مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے والوں کی دہشت گردی، نیوزی لینڈ، مساجد میں نمازیوں پر فائرنگ، 49 شہید
  • ☚ وزیراعلیٰ، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر،وزررأ اور اراکین کی تنخواہوں،مراعات میں کئی گنا اضافہ، بل منٹوں میں منظور
  • ☚ پاک فضائیہ کا طویل فاصلے تک مارکرنے والے مقامی میزائل کا کامیاب تجربہ، جے ایف 17 تھنڈر رات میں بھی ہدف کو مار سکے گا
  • ☚ سندھ طاس معاہدے پر مذاکرات ملتوی، بھارت پانی نہیں روک سکتا، پاکستانی واٹر کمشنر
  • ☚ کشیدگی میں مزید کمی، پاکستانی اور بھارتی ہائی کمشنرز نے دوبارہ اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں
  • ☚ وزیراعظم نے اتنے جھوٹ بولے جتنے تمام وزرائے اعظم نے مل کر بھی نہ بولے ہوں گے، راہول
  • ☚ طاقت استعمال کرنے کا حق صرف ریاست کو ہے، آرمی چیف
  • ☚ سیکس آفنسز میں لارڈ احمد اور دو بھائیوں کی عدالت میں پیشی
  • ☚ پاکستان ہائی کمیشن لندن میں نیوزی لینڈ کے شہیدوں کیلئے دعائیہ اجتماع
  • ☚ بریگزٹ توسیع کیلئے برطانیہ واضح اور جامع تجاویز پیش کرے، فرانس اور جرمنی کا انتباہ
  • ☚ بریگزٹ پر باعزت کمپرومائز کیا جائے، ارکان پارلیمنٹ سے تھریسا مے کی اپیل
  • ☚ مقبوضہ کشمیر میں مظالم، لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ، کمیونٹی کی بھرپور شرکت
  • ☚ جیرمی کوربن نے یورپی یونین چھوڑنے کی حمایت کا اشارہ دیدیا
  • ☚ سوشل میڈیا فرمس اپنے پلیٹ فارمز صاف یا قانون کا سامنا کریں،ساجدجاوید
  • ☚ بریگزٹ : سینئر کنزرویٹیو ایم پی نک بولز کا سبکدوش کئے جانے سے قبل استعفیٰ
  • ☚ یورپی سفارتکاروں نے بریگزٹ موخر کرنے کیلئے شرائط اور رولز طے کرلئے
  • ☚ برمنگھم میں پولیس آپریشن کے دوران 50 سالہ شخص ہلاک
  • ☚ لیجنڈ اداکار محمد علی کو مداحوں سے بچھڑے 13 برس بیت گئے
  • ☚ وینا ملک کا بھارت میں کبھی بھی کام نہ کرنے کا اعلان
  • ☚ کامیڈی فلم ’رانگ نمبر ٹو‘ کا پہلا پوسٹر جاری
  • ☚ پاکستانی فنکارمہوش حیات کے حق میں نعرے بلند کرنے لگے
  • ☚ اداکارہ زارا شیخ کی طویل عرصے بعد فلموں میں واپسی
  • ☚ پاکستان آسٹریلیا سیریز ٹرافی کی رونمائی آج ہوگی
  • ☚ ٹاپ پاکستانی کرکٹرز قومی ون ڈے کپ میں شرکت نہیں کریں گے
  • ☚ ورلڈکپ کرکٹ، پاک بھارت مقابلے کے ٹکٹس کیلئے 4 لاکھ درخواستیں
  • ☚ جونٹی رہوڈز ہیوی موٹر سائیکل پر سندھ گورنر ہائوس پہنچے
  • ☚ ڈو مور کی ضرورت نہیں، پاکستان سپرلیگ انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے مثبت قدم، آئی سی سی
  • آج کا اخبار

    فنکار ملک میں جمہوریت کے فروغ کے خواہشمند ہیں

    Published: 13-07-2018

    Cinque Terre

    پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے اہم ترین موڑ سے گزر رہا ہے۔ ملک میں دوسری جمہوری حکومت اپنی مدت کو کامیابی سے مکمل کر چکی ہے۔ پورا ملک انتخابات کی تیاریوں میں مصروف دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستانی عوام نے لاتعداد قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجہ میں جمہوری سفر میں تسلسل حاصل کیا ہے۔ اس جدوجہد میں ملک کے تمام طبقات اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے فنکار بھی اس جدوجہد میں پیش پیش رہے ہیں۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ فن کو پاکستانی معاشرے میں پنپنے اور ترقی کرنے میں کافی محنت کرنا پڑی ہے لیکن پاکستان میں فلم، تھیٹر، ٹی وی اور موسیقی سے وابستہ فنکاروں نے ہمیشہ بڑی محنت، لگن اور مستقل مزاجی کے ساتھ معاشرے میں اپنا مقام بنانے کے لیے کوشش کی اور اس کوشش کے نتیجہ میں آج پاکستان کے عوام ماضی اور حال کے فنکاروں سے اپنی محبت اور لگائو کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔پاکستانی فلمی صنعت، ڈرامہ اور موسیقی سے وابستہ فنکاروں نے تاریخ کے ہر موقع پر اپنی سماجی اور ثقافتی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا ہے۔ اس مقصد کے لیے نہ صرف انھوں نے اپنے فن کا استعمال کیا بلکہ انفرادی اور اجتماعی طور پر مختلف طرح کی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اگر پاکستانی معاشرے میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کے فروغ کی بات کی جائے تو اس میدان میں بھی فنکار برادری اپنی کوششوں کے ساتھ دکھائی دیتی ہے۔ ملک میں آمریت کے خلاف جدوجہد میں اور جمہوری طاقتوں کے امور میں فنکاروں نے اپنی بساط کے مطابق ہمیشہ ہی کردار ادا کیا ہے۔ فنکاروں نے اپنے فنون لطیفہ کے ذریعے سے جمہوری اقدار کے فروغ اور معاشرے میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے اہم فریضہ انجام دیا ہے۔ علاوہ ازیں فنکار سیاست کے میدان میں بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔فلمی صنعت سے وابستہ فنکاروں کو جمہوریت کے فروغ کی جدوجہد میں حصہ لینے کا حوصلہ اور روایت ان تخلیق کاروں سے ورثہ میں ملی جنھوں نے پاکستان کی آزادی کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ قیام پاکستان میں اور آزادی کے بعد مہاجرین کی امداد کے لیے ان فنکاروں اور تخلیق کاروں کی کوششیں پاکستانی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ ملک میں ہونے والے تمام انتخابات میں فنکار ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔ کئی فنکاروں نے خود بھی بطور امیدوار انتخابات میں بھرپور حصہ لیا اور کچھ فنکار سیاسی جماعتوں کے ثقافتی ونگز اور دیگر شعبہ جات سے وابستہ رہے۔ اگر ماضی کے فنکاروں اور آج کے سینئرز کی بات کی جائے تو محمد علی، سنتوش، درپن، مصطفیٰ قریشی، شفیع محمد، کنول، غلام محی الدین، سدھیر، قوی خان، آصف خان اور دوسرے کئی اداکاروں نے سیاسی میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اگر موجودہ سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اداکار اور گلوکار اپنے تئیں اپنی پسندیدہ سیاسی جماعتوں کی سپورٹ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گلوکاروں کی اکثریت جو سیاسی حوالوں سے متحرک ہے اس نے ایسے نغمات کو ریکارڈ کیا ہے جس کے ذریعہ رائے عامہ کو ہموار کرنے کے علاوہ سیاسی جلسے اور جلوسوں میں سیاسی کارکنان کو سرگرم اور متحرک رکھنے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ کئی گلوکار سیاسی جلوس میں لائیو پرفارم بھی کرتے ہیں۔ ان گلوکاروں میں عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی، ابرار الحق، راحت فتح علی خان، وارث بیگ، سلمان احمد اور دوسرے گلوکار شامل ہیں۔ ابرار الحق تو سیاسی میدان میں باقاعدہ ایک جماعت کی جانب سے انتخابات میں حصہ بھی لے رہے ہیں۔ اسی طرح گلوکار جواد احمد نے اپنی سیاسی جماعت تشکیل دی ہے۔سوشل میڈیا کی مقبولیت کی وجہ سے فنکاروں کا سیاسی جماعتوں کو سپورٹ کرنے اور مخالفین پر تنقید کرنے کا انداز بھی بدل گیا ہے۔ اکثر اداکار اور اداکارائیں فیس بک، ٹویٹر، اور انسٹاگرام پر سیاسی موضوعات پر گفتگو کرتے اور اپنی آراء کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان فنکاروں کی سیاسی پوسٹس کو دیکھ کر اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے فنکار سماج کے ہر معاملہ پر اپنی رائے رکھتے ہیں اور اس کا برملا اظہار کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔فنکاروں کی سیاسی وابستگی ان کا بطور شہری ہونے کا حق ہے اور وہ اس حق کی بجا آوری بطریق احسن انجام دے رہے ہیں۔ لیکن سب سے اہم بات فنکاروں کا ملک میں جمہوریت کے سفر کے تسلسل پر مسرت کا اظہار کرنا اور اس حوالے سے اپنی سپورٹ کو شائقین تک پہنچانا ہے۔ اس حوالے سے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے اداکار و ہدایتکار شان کا کہنا تھا کہ ان کو ملک میں جاری سیاسی شعور کی بیداری کو دیکھ کر مسرت ہوتی ہے۔ شان نے کہا کہ پاکستان کے عوام باشعور ہیں اور ان کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ ملک کی ترقی کا اصل راز جمہوری سفر کے تسلسل میں پوشیدہ ہے۔ شان نے کہا کہ وہ ملک کے سیاسی حالات پر جلد ہی ایک فلم کا آغاز کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے والد ریاض شاہد کی فلمی روایت بھی سنجیدہ اور قومی ایشوز کو فلم کے میڈیم کے ذریعہ سے عوام تک پہنچانے کی ہے۔ شان نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ووٹرز الیکشن کے دن اپنے حق کا لازمی استعمال کریں۔ انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ ریما کا کہنا تھا کہ ان کو اس بات کی خوشی ہے کہ عام انتخابات کے حوالے سے عوام میں جوش و خروش موجود ہے۔ ریما نے کہا کہ وہ بھی انتخابات والے دن سب سے پہلے اپنے ووٹ کا استعمال کریں گی۔ ریما نے کہا کہ سب سے اہم بات پاکستانی نوجوانوں کا ملک کے سیاسی معاملات میں دلچسپی کا اظہار کرنا ہے۔ چونکہ ملک کے مستقبل کا انحصار نوجوانوں پر ہے اس لیے ان کا باشعور اور ذمہ دار ہونا ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اداکار ندیم کا کہنا تھا کہ ملک کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ عوام انتخابات میں کن کو ووٹ دیکر کامیاب کرتے ہیں۔ ندیم نے کہا کہ جب کسی ملک کے عوام ووٹ کی طاقت کے حقیقی استعمال کو جان لیں تو اس ملک کو ترقی کرنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ انتخابات کے حوالے سے اداکارہ ریشم کا کہنا تھا کہ ملک میں بیدار سیاسی شعور اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستانی اپنے حقوق سے آگاہ ہیں۔ نئی نسل کے فنکار احسن خان نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ انتخابات کے نتیجہ میں قائم ہونے والی حکومت عوام کے مسائل کو بہتر انداز سے حل کرنے میں کامیاب ہوگی تاکہ پاکستانی عوام کا معیار زندگی بلند ہو سکے۔اس وقت اگر فنکاروں کے سوشل میڈیا اکائونٹس کا جائزہ لیا جائے تو تمام فنکار سیاسی عمل کے تسلسل اور جمہوریت کے فروغ کے لیے ابلاغ کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کے ثقافتی شعبہ سے منسلک افراد کا سیاسی عمل میں حصہ لینا اور اپنے شائقین کو اپنے ووٹ کے حق کا درست استعمال کرنے کی ترغیب دینا ایک خوش آئند عمل ہے۔