• ☚ ربیع الاول کا مہینہ اللہ کی رحمتیں سمیٹنے کا ذریعہ ہے :چوہدری راشد پنوں
  • ☚ لین دین کے معاملے میں تاجروں کو 7لاکھ کا جعلی چیک تھما دیا گیا
  • ☚ چوہدری مونس الٰہی عوامی توقعات پر پورا اتریں گے : محمد یونس قمر
  • ☚ چوہدری برادران عوامی مفادات کے بہترین محافظ ہیں:امیر حسن شاہ
  • ☚ ربیع الاول رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے: محمد افضل بٹ
  • ☚ ریونیو ٹیموں کے سموگ پھیلانے والے زمینداروں کیخلاف چھاپے
  • ☚ گجرات: لڑائی جھگڑے کے واقعات’ چھریاں چلنے سے متعدد افراد زخمی
  • ☚ چوہدری مظفر خالد کے صاحبزادے چوہدری اسامہ خالد کی دعوت ولیمہ
  • ☚ چوہدری برادران عوامی توقعات پر پورا اترینگے : چوہدری وسیم سہیل
  • ☚ کنجاہ: مرکزی میلاد کمیٹی کے زیر اہتمام20نومبر کومشعل بردار جلوس نکالا جائیگا
  • ☚ حکومت کا نواز، شہباز اور مریم کے خلاف مزید 4 کیس نیب کو بھجوانے کا اعلان
  • ☚ چیئرمین سینیٹ، وزیراطلاعات آمنے سامنے، معافی نہ مانگی تو فواد چوہدری سینیٹ کے موجودہ سیشن میں نہ آسکیں گے، سنجرانی
  • ☚ سپریم کورٹ کیساتھ کھڑے ہیں،عدالتی فیصلوں پر سمجھوتہ نہیں ہوگا،عمل نہ کیا جائے تو ریاست نہیںچل سکتی،آج ایسے انکشاف کروںگا میڈیابھی انجوائے
  • ☚ نیب کا چھاپہ،سابق سرکاری افسر کے گھر سے 33 کروڑ برآمد
  • ☚ ادائیگیوں کا بحران ختم، 12 ارب ڈالر کا خلا تھا، 6 ارب سعودیہ باقی رقم چین سے ملی، وزیرخزانہ
  • ☚ معاملات احتساب عدالت بھیجنا نہیں چاہئے تھا، چیف جسٹس، نوا زشریف فیملی کی رہائی کا فیصلہ ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، سپریم کورٹ
  • ☚ پاک روس اسٹریٹجک تعاون بڑھانے پر اتفاق، عمران خان کی روسی وزیراعظم سے ملاقات
  • ☚ نوشہرہ خوشحال ڈگری کالج میں مولانا سمیع الحق کی نمازجنازہ ادا کر دی گئی
  • ☚ لاہور کے مختلف علاقوں میں بوندا باندی، سردی میں اضافہ، سموگ میں کمی
  • ☚ سربراہ جمعیت علمائے اسلام (س) مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں شہید
  • ☚ خشوگی کیس،سعودی پبلک پراسیکیوٹر5مشتبہ ملزمان کیلئے سزائے موت کا خواہش مند
  • ☚ تھریسامے برطانیہ کیلئے بدترین ڈیل پر مذاکرات کر رہی ہیں، فیصل رشید
  • ☚ اخراج پلان منظوری، کابینہ میں بغاوت، بریگزٹ منسٹر سمیت 8 وزرا و معاونین مستعفی، وزارت عظمیٰ نہیں چھوڑ رہی، تھریسامے
  • ☚ بریگزٹ ڈیل برطانیہ کو تقسیم کردے گی، ڈی یوپی لیڈر ارلین فوسٹر
  • ☚ تھریسامے کے بریگزٹ پلان سے تمام کنٹرول یورپی یونین کے پاس رہے گا
  • ☚ برطانوی کابینہ کا 5 گھنٹے طویل اجلاس، بریگزٹ ڈیل کی منظوری دیدی گئی
  • ☚ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج نے مظالم کی انتہا کردی، راجہ فاروق حیدر
  • ☚ بریگزٹ پر ایک اور ریفرنڈم کرایا جانا چاہیے، جو جانسن
  • ☚ بریگزٹ کے بعد برطانوی معیشت میں تیز ی سے ترقی
  • ☚ لوٹن کونسل میں بن سروسز کا سابقہ شیڈول بحال کرنے کا مطالبہ مسترد، پاکستانیوں سمیت ایشیائی کمیونٹی کو مایوسی
  • ☚ شاہ رخ خان نے اپنی انتھک محنت کا سہرا سروج خان کے سر باندھ دیا
  • ☚ دپیکا پڈوکون کے شادی کے دوپٹے پرلکھا گیا پیغام سوشل میڈیا پروائرل
  • ☚ جسٹن بیبر نے امریکی ماڈل ہیلی بالڈوین سے شادی کی تصدیق کردی
  • ☚ برج عقرب سے تعلق رکھنے والے سپر اسٹارز
  • ☚ وِل اسمتھ‘‘ ہالی ووڈ کا لاجواب اداکار
  • ☚ ہاکی کھلاڑیوں کو بھارتی ویزے مل گئے،کوچز کو انتظار
  • ☚ بنگلہ دیش ڈھاکا ٹیسٹ میں 218 رنز سے کامیاب، سیریز برابر
  • ☚ زون اور ریجنز بتائیں کتنے کھلاڑی نکالے،پیسوں کا حساب دیں،میانداد
  • ☚ ڈھاکاٹیسٹ میچ فیصلہ کن مرحلے میں داخل
  • ☚ قائد اعظم ٹرافی،سوئی ناردرن نے لاہور کو ایک اننگز سےہرادیا
  • آج کا اخبار

    معاملات احتساب عدالت بھیجنا نہیں چاہئے تھا، چیف جسٹس، نوا زشریف فیملی کی رہائی کا فیصلہ ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، سپریم کورٹ

    Published: 07-11-2018

    Cinque Terre

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر ایون فیلڈ ریفرنس میں شریف خاندان کی رہائی ختم کرنے کے سواکوئی چارہ نہیں ہے، معطلی کے فیصلے نے ملک میں فقہ قانون تباہ کر دیا، ہائیکورٹ ضمانت کیس میں کیسے کہہ سکتی شواہد میں نقائص ہیں، ہائیکورٹ نے فیصلے میں سخت ترین الفاظ، قیاس آرائیوں اور شواہد کا ذکر کیا گیا، عدالت کو پہلے اپیل پر فیصلہ کرنا چاہیے تھا،جائزہ لینگے ہائیکورٹ کس حد تک جا سکتی ہے، یہ مقدمہ ایک فرد کا نہیں بلکہ عدالتی نظام میں بہتری کا معاملہ ہے، اسلئے آیا ہوں، یہ قانون کی تشریح کا معاملہ ہے ، اثاثے بنے کیسے،اڑ کر تو نہیں آگئے تھے، کہیں سے من و سلویٰ تو نہیں اتر آیا، پیسے درختوں پر تو نہیں اگتے، سپریم کورٹ نے تو بڑی مہربانی کی تھی کیس ٹرائل کورٹ بھیج دیا، معاملہ احتساب عدالت بھیجنا ہی نہیں چاہیے تھا، آپ نے قطری خط سمیت چار بار موقف تبدیل کیا،اثاثے جائز ثابت کرنا آپکی ذمہ داری ہے، ایون فیلڈ فلیٹس نواز شریف کے ہیں، کورٹ نے میرٹ پر فیصلہ دیا۔ خواجہ حارث نے بتایا کہ اثاثے نوازشریف کے بڑے بیٹے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملزم نے ثابت کرنا تھا اثاثے کس کے ہیں۔خواجہ حارث نے کہا سر ایسا نہیں ہے، یہ قانون نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا قانون وہ ہو گا جو ہم طے کرینگے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ یہ کیسے ثابت ہوگا کہ اثاثے درست طریقے سے بنائے گئے یا نہیں؟ یہ مقدمہ مکمل تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 ؍ رکنی خصوصی بنچ نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر)صفدر کی سزا معطلی کیخلاف نیب کی اپیل پر سماعت کی۔ نیب پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ ہائی کورٹ میں دائر آئینی درخواستوں پر اعتراض کیا تھا کہ آئینی درخواست پر زیر سماعت کیس کے میرٹ پر بحث نہیں ہو سکتی، ملزم کی زندگی خطرے میں ہوتو ہی سزا معطل ہو سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمے کے دوران کہا کہ آپ اپنے تحریری نکات پہلے دے چکے ہیں، آپ کے نکات مد نظر رکھ کر ہی فریقین کو نوٹس جاری کیا تھا، نیب مقدمات میں عام طور پر ضمانت نہیں ہوتی، سزا معطلی میں شواہد کو نہیں دیکھا جاتا، کورٹ نے میرٹ اور شواہد پر فیصلہ دیا، پہلے کبھی ایسا فیصلہ نہیں دیکھا، بہتر ہو گا۔ خواجہ حارث کا موقف پہلے سن لیں۔ خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ 47؍ نہیں صرف 10؍ صفحات پر مشتمل ہے اور ہائی کورٹ نے باقی فریقین کی گزارشات لکھی ہیں،خواجہ حارث نے بتایا کہ سب سے پہلے بینکنگ قانون کے تحت ضمانت ختم کی گئی جس پر چیف جسٹس نے کہا اس کیس میں اپیلیں ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں، سزا معطلی رٹ پٹیشن پر فیصلہ کردیا گیا، نیب نے یہ چیز چیلنج کی؟ چیف جسٹس نے کہا ہم نے صرف رحم دلی کے تحت نیب کی درخواست مسترد کی تھی، سپریم کورٹ نے تو بڑی مہربانی کی ہے، ہائی کورٹ ضمانت کی درخواست کا فیصلہ کرتے ہوئے کیسے کہہ سکتی ہے کہ شواہد میں نقائص ہیں، ہم کیوں نہ یہ فیصلہ کالعدم کردیں، کوئی ایک ایسا فیصلہ بتا دیں جو اس طرح کا ہو۔ چیف جسٹس نے خواجہ حارث کو کہا ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے تھے یا نہیں یہ تو آپ کے مؤکل نے ثابت کرنا تھا، آپ مقدمے کے حکم کے وہ نکات بتائیں جن پر اعتراض ہے۔ خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ ایون فیلڈ کی جائیداد میری ہے جو میرے معلوم ذرائع آمدن سے زائد ہے، فیصلے میں نہ تو ذرائع آمدن کی تفصیل ہے اور نہ ہی جائیداد کی مالیت بتائی گئی جس پر چیف جسٹس نے کہا یہ بات نہیں ہے۔ ذرائع آمدن تو آپ نے بتانے تھے۔ چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا اثاثے بنے کیسے کہیں سے اڑ کر تو نہیں آگئے تھے، کہیں سے من و سلویٰ تو نہیں اتر آیا، پیسے درختوں پر تو نہیں اگتے، قطری خط سمیت اثاثوں کی کئی کہانیاں سنائی گئیں، اصول قانون میں ملزم نے ثابت کرنا تھا کہ اثاثے کس کے ہیں۔ خواجہ حارث نے کہا یہ نواز شریف کے بڑے بیٹے کے اثاثے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا اس کیس میں آپ کے 4 مؤقف آئے ہیں، تو آپ نے ثابت کرنا تھا کہ کن ذرائع سے جائیداد بنائی، خواجہ حارث نے کہا سر ایسا نہیں ہے، یہ قانون نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا قانون وہ ہو گا جو ہم طے کرینگے۔چیف جسٹس نے کہا یہ نہ ٹرائل کورٹ ہے نہ ہائیکورٹ، یہ سپریم کورٹ ہے۔ خواجہ حارث نے کہا میں عدالت کو آپکی ججمنٹس بتاتا ہوں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا ʼکیا یہ میری ذاتی ججمنٹس ہیں، ججمنٹس سپریم کورٹ کی ہوتی ہیں کسی کی ذاتی نہیں، آپ اس معاملے پر زیادہ دلائل دینا چاہتے ہیں تو کوئی اور دن رکھ لیتے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا سزا معطلی کیلئے عدالتی فیصلوں میں کہاں لکھا ہے کہ فشنگ کریں، آپ کے خیال میں احتساب عدالت کے فیصلے میں کیا نقائص ہیں۔نواز شریف کے وکیل نے کہا آمدن سے زائد اثاثوں کی فرد جرم عائد کی گئی۔ دوران سماعت نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے چیف جسٹس کو مشورہ کیا دیا کہ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں، بہتر ہو گا آپ آرام کر لیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹرز نے آرام کا مشورہ دیاہے اور کام سے روکا لیکن عدالتی ذمہ داریوں سے کیسے بری ہو سکتا ہوں، اہم ترین معاملہ ہونے کے باعث سماعت کر رہا ہوں، عدالت نے فریقین وکلا کے دلائل سننے کے بعد شریف خاندان کی سزا معطلی کیخلاف نیب کی اپیل پر سماعت 12 نومبر تک کیلئے ملتوی کردی۔