• ☚ ماضی میں حکومتیں معاشی حب کراچی کو نظرانداز کرتی رہیں، وزیراعظم
  • ☚ اپوزیشن کے تیار ہوتے ہی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آئیں گے، بلاول
  • ☚ پی ڈی ایم کا پیپلز پارٹی اور اے این پی کے ساتھ مل کر بجٹ کی مخالفت کا فیصلہ
  • ☚ حکومت نے بجلی 1 روپے 72 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی
  • ☚ 9 ماہ کے دوران بیرونی قرضوں میں 7 ارب41 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے زائد کا اضافہ
  • ☚ پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں جنوبی افریقا کو شکست دیدی
  • ☚ حکومت نے ملک بھر میں جلسے جلوس پر پابندی عائد کردی
  • ☚ آئی ایم ایف کا بجلی، گیس اور یوٹیلیٹی اسٹورز پر سبسڈیز ختم کرنے کا مطالبہ
  • ☚ وزیراعظم نے گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھادیا، اسلامو فوبیا کیخلاف یوم منانے کا مطالبہ
  • ☚ پیپلزپارٹی نے زیادتی کیس کے مجرم کو سرعام پھانسی دینے کی مخالفت کردی
  • ☚ ملک ریاض کی آصف زرداری کو عمران خان کا مفاہمت کا پیغام پہنچانے کی مبینہ آڈیو سامنے آگئی
  • ☚ سمندر پار پاکستانی ’امپورٹڈ حکومت‘ کے خلاف مظاہرے اور سوشل میڈیا پر مہم چلائیں، عمران خان
  • ☚ پشاور قصہ خوانی بازار کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ، 57 افراد شہید
  • ☚ حکومت کا ملک میں بھارت اور بنگلا دیش سے زیادہ مہنگائی کا اعتراف
  • ☚ وزیر خارجہ کا ڈی جی آئی ایس آئی کے ہمراہ کابل کا اہم دورہ
  • ☚ ’’پینڈورا پیپرز‘‘ سامنے آگئے، 700 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں نکل آئیں
  • ☚ شمالی وزیرستان میں فورسز کی گاڑی پر حملہ، 5 اہل کار شہید
  • ☚ کورونا وبا؛ مزید 33 افراد جاں بحق، ایک ہزار سے زائد مثبت کیسز رپورٹ
  • ☚ افغانستان میں امن کیلیے عالمی برادری کی امداد ضروری ہے، آرمی چیف
  • ☚ طالبان نے افغانستان میں نئی حکومت کی تشکیل کا اعلان کردیا
  • ☚ اسلام پسندی سے مغرب کو اب بھی خطرہ موجود ہے، سابق برطانوی وزیراعظم
  • ☚ افغانستان کے نئے وزیراعظم ملا حسن اخوند کی زندگی پر ایک نظر
  • ☚ ایران پر حملے کے پلان پر تیزی سے کام جاری ہے، اسرائیلی آرمی چیف
  • ☚ کرونا لاک ڈاؤن، بے گھر افراد کی مدد کے لیے اٹلی کے شہریوں کی زبردست کاوش
  • ☚ ایران میں کورونا وائرس سے خاتون رکنِ اسمبلی ہلاک
  • ☚ کورونا وائرس کے متاثرین 1لاکھ 8 ہزار ہوگئے، اٹلی میں 24 گھنٹوں کے دوران 133ہلاکتیں
  • ☚ دبئی کے حکمراں اہلیہ کو دھمکیاں دینے اور بیٹیوں کے اغوا کے مرتکب ہوئے، برطانوی عدالت
  • ☚ ترکی اور روس کا شام میں جنگ بندی پر اتفاق
  • ☚ تیونس میں امریکی سفارت خانے پر خود کش حملہ
  • ☚ کورونا وائرس؛ سعودی شہریوں کے عمرہ ادائیگی پر بھی پابندی
  • ☚ عالیہ بھٹ کی شوٹنگ کے دوران طبیعت خراب، اسپتال منتقل
  • ☚ عالیہ بھٹ کی شوٹنگ کے دوران طبیعت خراب، اسپتال منتقل
  • ☚ حریم شاہ کی لیک ویڈیو نے مفتی قوی کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا
  • ☚ "ارطغرل غازی" کے اداکار کا طیارہ حادثے پر اظہار افسوس
  • ☚ کورونا وائرس؛ فنکاروں کی حکومت سے غریب طبقے کا خیال رکھنے کی درخواست
  • ☚ سری لنکا ٹیم حملے میں زخمی ہونے والے احسن رضا کا بطور ٹیسٹ امپائر ڈیبیو
  • ☚ محمد عامر کی قومی ٹیم میں واپسی کیلیے مشروط رضامندی
  • ☚ پی ایس ایل کا چھٹا ایڈیشن تماشائیوں کی موجودگی میں ہونے کا امکان
  • ☚ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پب جی گیم پر پابندی ختم کردی
  • ☚ روزانہ 22 گھنٹے گیم کھیلنے سے نوجوان کا بازو اور ہاتھ مفلوج
  • آج کا اخبار

    بدلتا ہوا عالمی منظر نامہ اور قومی بیانیہ

    Published: 27-02-2018

    Cinque Terre

    کوئی تووجہ ہے کہ موجودہ بیانیے طرز فکر اور طریقہ فکر اور طریقہ اظہار سے کوئی مطئمن نہیں ہے ریاست سیاستدان عسکری ادارے مذہبی علماء اور سیکولر زندگی یا مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے سب ہی شاکی نظر آتے ہیں کہ کوئی چیز ہے جو ہمارے رویوں اور سوچنے کے انداز کو اندر ہی اندر گھن کی طرح چاٹ رہی ہے یہ دیمک یہ گھن کیا ہے؟ اور اسکا علاج کیا ہے اس پر متعدد آراء موجود ہیں اور ظاہر ہے اسکا تعلق ہر فرد اور گوپ کے اپنے سماجی سیاسی ثقافتی نسلی، لسانی پس منظر سے ہے اور اسی تناظر میں حل پیش کرتے ہیں اکثر یہ آراء اور حل آپس میں متصادم لگتے ہیں اس کی وجہ مختلف طبقات کو آپس میں مکالمے کی کمی اور اپنے اپنے موقف پر اصرار ہے پاکستان کا قومی بیانیہ کیا ہونا چاہیے مدراس کا بیانیہ کیا ہے مغرب کے متعلق بیانیہ کیا ہے اس قسم کے لا تعداد سوالات نے قوم کو پریشان کر رکھا ہے جسکی وجہ سے اجتماعی اور قومی یکجہتی پر مبنی بیانیے کی تشکیل میں مشکل ہو رہی ہے اور دانشور حلقوں نے اس حوالہ سے ہمیشہ عجیب و غریب بحث میں الجھا رکھا ہے جس میں اب میڈیا میں بیٹھے ہوئے کالم نگار‘ اینکرزاور سول بیورو کریٹس زیادہ ہی سر گرم دکھائی دیتے ہیں اور اپنے ذہن میں موجود ذاتی خیالات کو عام کے ذہنوں میں ٹھونسنا چاہتے ہیں اس فکری انتشار کے پھیلاؤ کی وجہ سے پاکستان میں انتہا ء پسندی دہشت گردی سیاسی و سماجی عدم برداشت اور ریویوں کے بگاڑ میں اضافہ ہوا ہے جس کی نشور نما ریاست نے تعلیمی اداروں سیاسی و سماجی اصلاحات اندرونی اور خارجہ پالیسیوں کے بنیادی ہدف کے طور پر کی جسکے نتیجہ میں ایسا قومی بیانیہ آیا ہے مگر حالیہ نیشنل ایکشن کے حوالہ سے اعلیٰ سطح اجلاس سے معلوم ہوا ہے کہ ہم 2002سے دہشت گردی اور ان کے سہولت کاروں کے حوالہ سے ابھی تک وہیں کھڑے ہیں اور کچھ الہام اور مختلف اداروں کے درمیان تضادات موجود ہیں جو کہ اصلاحات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں رکاوٹ ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم نظام جمہوریت اور طرز حکمرانی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکے ہیں سرد جنگ کے درمیان نظریہ مذہب کی معاونت کرنے والی قوتیں اور گروہ ابھی تک توانا ہیں جنکا موجودہ معروضی عالمی حالات میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے یہی وجہ ہے عالمی سطح پر ہماری پالیسیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے حال ہی میں فری اینڈ فری الیکشن نیٹ ورک کے اسکے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ملک میں17فیصد لوگ آمریت کے حامی ہیں اور45فیصد جمہوریت کے حامی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے55فیصد لوگ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں بظاہر یہ ساری صورتحال گہری توجہ کی طالب ہے جمہوریت کے حوالے اور اکثریت سے منتخب ہونے والے وزیر اعظم کے بارے میں بھی ایک جماعت کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے او اب اسکو وزیر اعظم ماننے سے ہی انکار کیا جا رہا ہے سابق صدر رویز مشرف نے بھی جمہوریت کی افادیت سے انکار کرتے ہوئے اسکو پاکستان کیلئے بہتر نظام حکومت نہیں قرار دیا ہے جنرل ضیاء الحق کے بھی اس سے ملتے جلتے خیالات تھے اور اسکو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی گمشدہ ڈائری مل گئی تھی جس میں صدارتی نظام کو عظیم قائد کا پسندیدہ قرار دیا گیا اسی قسم کی کوشش میاں محمد نواز شریف نے کوشش کی تھی ،اس کا تجرہ شام اور عراق میں کیا ہے جسکے نتیجہ میں لاکھوں افراد مارے گئے یا مہاجرت پر مجبور ہوئے اور ان علاقے کے بے گناہ لوگوں پر امریکہ ، روس اور انکے اتحادیوں کے بمباری کرتے رہتے ہیں مگر ایسی صورتحال پاکستان میں نہیں ہے ہمارے اداروں نے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھا ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ مستقل دشمنی کی صورتحال میں ہمسایوں کے ساتھ تو امن سے نہیں رہا جا سکتا ہے جس سے بے پناہ مسائل اسلحہ کی خریداری پر خرچ ہوتے ہیں اور عوام کی تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے کچھ نہیں بچتا ہے ہمیں قومی بیاننے کی تشکیل کے حوالہ سے فکری چیلنج در پیش ہیں مذہب کی سیاسی تعبیر اور امت ریاست اور معاشرت کے تصورات پر از سراد غور کرنے کی ضرورت ہے عسکریت پسندوکے بیاننے کی قوت ان کی مذہبی دلیل میں پوشیدہ ہے ور اس کیلئے عسکریت پسندوں کے فکری تناظر کو سمجھ کر اس کا اہم ترین چیز ہے علماء اور ماہرین کے درمیان مذہبی مکالمہ تا کہ دور حاضر کے تقاضوں کو سمجھا جا سکے مذہبی فکر کی غیر متعصب تشکیل نو کی کاوشوں کی ضرورت ہے سماجی رویوں کی تہذیب کی ضرورت ہے نصاب مذہبی مکالمہ تا کہ دور حاضر کے تقاضوں کو سمجھا جا سکے مذہبی فکر کی غیر متعصب تشکیل نو کی کاوشوں کی ضرورت ہے، سماجی رویوں کی تہذیب کی ضرورت ہے نصاب تعلیم میں اہم تبدیلیوں کی ضرورت ہے، اور ماضی کی ضروریات کے تحت شامل و جانے والے موضوعات کو خارج کر دینا چاہیے بچوں کو تاریخ اور سیاست کو پڑھایا جا نا چاہیے، تا کہ وہ اچھے شہری کے حقوق و فرائض سے روشناس ہو سکیں آئین پاکستان کو تسلیم کرنے والا سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانی چاہیے خارجی امور کی پالیسی کے بارے میں صرف ریاست کی بیان دینے کا حق ہے ملک کی مذہبی جماعتوں کا اس حوالہ سے کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے تا کہ ہم خارجہ پالیسی کو جمہوری سوچوں کے ساتھ پروان چڑھا سکیں ریاست کالعدم تنظیموں کے بارے میں ابہام مکمل طور پر ختم کر ے اور ان تنظیموں کی تزویداتی استعمال پر پالیسی واضح کرے اس ابہام سے مختلف تنظیمیں تقویت حاصل کرتی ہیں ذرائع ابلاغ کو جمہوریت انسانی حقوق اور اظہار آزادی کے بنیادی فریم ورک میں رہتے ہوئے انتہا پسندوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگا ہمارا قوامی بیانیہ ملک کی سلامتی عوام کی فلاح بہبود اور رو داری اور انسانیت دوست رویوی پر مبنی ہونا چاہیے۔موجودہ سیاسی پس منظر میں اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کا ایک نیا بیانیہ آیا ہے جس کی نمائندگی مسلم لیگ ن کر رہی ہے کیونکہ عدالت عالیہ اور نیب سے ممکنہ کارروائیوں سے شاقی ہے تو دوسری طرف عمران خان ریاستی اداروں کے پیچھے کھڑے دیکھائی دیتے ہیں اس ساری صورتحال میں ملک بالخصوص پنجاب میں انتظامیہ ڈھانچہ بکھر چکا ہے جس سے ملک کی معیشت ثقافت اور سماجیت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ملک میں اداروں میں فکری یکجہتی اور یکسائی کی موجودگی وقت میں اہم ترین ضرورت ہے ورنہ موجودہ تضادات سے بحرانی کیفیات مزید گھمبیر ہو سکتی ہیں۔