• ☚ ماضی میں حکومتیں معاشی حب کراچی کو نظرانداز کرتی رہیں، وزیراعظم
  • ☚ اپوزیشن کے تیار ہوتے ہی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آئیں گے، بلاول
  • ☚ پی ڈی ایم کا پیپلز پارٹی اور اے این پی کے ساتھ مل کر بجٹ کی مخالفت کا فیصلہ
  • ☚ حکومت نے بجلی 1 روپے 72 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی
  • ☚ 9 ماہ کے دوران بیرونی قرضوں میں 7 ارب41 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے زائد کا اضافہ
  • ☚ پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں جنوبی افریقا کو شکست دیدی
  • ☚ حکومت نے ملک بھر میں جلسے جلوس پر پابندی عائد کردی
  • ☚ آئی ایم ایف کا بجلی، گیس اور یوٹیلیٹی اسٹورز پر سبسڈیز ختم کرنے کا مطالبہ
  • ☚ وزیراعظم نے گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھادیا، اسلامو فوبیا کیخلاف یوم منانے کا مطالبہ
  • ☚ پیپلزپارٹی نے زیادتی کیس کے مجرم کو سرعام پھانسی دینے کی مخالفت کردی
  • ☚ وزیر خارجہ کا ڈی جی آئی ایس آئی کے ہمراہ کابل کا اہم دورہ
  • ☚ ’’پینڈورا پیپرز‘‘ سامنے آگئے، 700 پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں نکل آئیں
  • ☚ شمالی وزیرستان میں فورسز کی گاڑی پر حملہ، 5 اہل کار شہید
  • ☚ کورونا وبا؛ مزید 33 افراد جاں بحق، ایک ہزار سے زائد مثبت کیسز رپورٹ
  • ☚ افغانستان میں امن کیلیے عالمی برادری کی امداد ضروری ہے، آرمی چیف
  • ☚ طالبان نے افغانستان میں نئی حکومت کی تشکیل کا اعلان کردیا
  • ☚ سید علی گیلانی سری نگر میں سپرد خاک، بھارت نے وادی میں غیر اعلانیہ کرفیو لگادیا
  • ☚ 90 کی دہائی کی صورتحال سے بچنے کیلئے افغانستان کو تنہا نہ چھوڑا جائے، وزیرخارجہ
  • ☚ ادویات کی قیمتوں میں 150 فیصد تک اضافہ کردیا گیا
  • ☚ اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم نہیں کریں گے:شہزادہ فیصل بن فرحان
  • ☚ اسلام پسندی سے مغرب کو اب بھی خطرہ موجود ہے، سابق برطانوی وزیراعظم
  • ☚ افغانستان کے نئے وزیراعظم ملا حسن اخوند کی زندگی پر ایک نظر
  • ☚ ایران پر حملے کے پلان پر تیزی سے کام جاری ہے، اسرائیلی آرمی چیف
  • ☚ کرونا لاک ڈاؤن، بے گھر افراد کی مدد کے لیے اٹلی کے شہریوں کی زبردست کاوش
  • ☚ ایران میں کورونا وائرس سے خاتون رکنِ اسمبلی ہلاک
  • ☚ کورونا وائرس کے متاثرین 1لاکھ 8 ہزار ہوگئے، اٹلی میں 24 گھنٹوں کے دوران 133ہلاکتیں
  • ☚ دبئی کے حکمراں اہلیہ کو دھمکیاں دینے اور بیٹیوں کے اغوا کے مرتکب ہوئے، برطانوی عدالت
  • ☚ ترکی اور روس کا شام میں جنگ بندی پر اتفاق
  • ☚ تیونس میں امریکی سفارت خانے پر خود کش حملہ
  • ☚ کورونا وائرس؛ سعودی شہریوں کے عمرہ ادائیگی پر بھی پابندی
  • ☚ عالیہ بھٹ کی شوٹنگ کے دوران طبیعت خراب، اسپتال منتقل
  • ☚ عالیہ بھٹ کی شوٹنگ کے دوران طبیعت خراب، اسپتال منتقل
  • ☚ حریم شاہ کی لیک ویڈیو نے مفتی قوی کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا
  • ☚ "ارطغرل غازی" کے اداکار کا طیارہ حادثے پر اظہار افسوس
  • ☚ کورونا وائرس؛ فنکاروں کی حکومت سے غریب طبقے کا خیال رکھنے کی درخواست
  • ☚ سری لنکا ٹیم حملے میں زخمی ہونے والے احسن رضا کا بطور ٹیسٹ امپائر ڈیبیو
  • ☚ محمد عامر کی قومی ٹیم میں واپسی کیلیے مشروط رضامندی
  • ☚ پی ایس ایل کا چھٹا ایڈیشن تماشائیوں کی موجودگی میں ہونے کا امکان
  • ☚ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پب جی گیم پر پابندی ختم کردی
  • ☚ روزانہ 22 گھنٹے گیم کھیلنے سے نوجوان کا بازو اور ہاتھ مفلوج
  • آج کا اخبار

    ملک شام میں قیامت صغریٰ

    Published: 28-02-2018

    Cinque Terre

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرہ عرب کے باہر اگر کسی ملک کا سفر کیا ہے تو وہ صرف ملک شام ہے۔ اسی سرزمین میں واقع مسجد اقصیٰ کی طرف ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے لے جایا گیا اوروہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیا کی امامت فرماکر نماز پڑھائی، پھر بعد میں اسی سرزمین سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں کے اوپر لے جایا گیا،جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ تبارک وتعالیٰ کے دربار میں حاضری ہوئی۔
    شام سریانی زبان کا لفظ ہے، جو حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت سام بن نوح کی طرف منسوب ہے۔ طوفان نوح کے بعد حضرت سام اسی علاقہ میں آباد ہوئے تھے133 ملک شام کے متعدد فضائل احادیث نبویہ میں مذکور ہیں، قرآن کریم میں بھی ملک شام کی سرزمین کا بابرکت ہونا متعدد آیات میں مذکور ہے۔ یہ مبارک سرزمین پہلی جنگ عظیم تک عثمانی حکومت کی سرپرستی میں ایک ہی خطہ تھی۔ بعد میں انگریزوں اوراہل فرانس کی پالیسیوں نے اس سرزمین کو چار ملکوں(سوریا، لبنان، فلسطین اور اردن) میں تقسیم کرادیا،لیکن قرآن وسنت میں جہاں بھی ملک شام کا تذکرہ وارد ہوا ہے اس سے یہ پورا خطہ مراد ہے، جو عصر حاضر کے چار ملکوں (سوریا، لبنان، فلسطین اور اردن)پر مشتمل ہے۔ اسی مبارک سرزمین کے متعلق نبی اکرم ﷺکے متعدد ارشادات احادیث کی کتابوں میں محفوظ ہیں، مثلاً اسی مبارک سرزمین کی طرف حضرت امام مہدی حجاز مقدس سے ہجرت فرماکر قیام فرمائیں گے اور مسلمانوں کی قیادت فرمائیں گے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول بھی اسی علاقہ یعنی دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر ہوگا۔ غرضیکہ یہ علاقہ قیامت سے قبل اسلام کا مضبوط قلعہ و مرکز بنے گا۔اسی مبارک سرزمین میں قبلہ اول واقع ہے، جس کی طرف نبی اکرم ﷺ اور صحابہ ا کرامؓ نے تقریباً 16 یا18 ماہ نمازیں ادا فرمائی ہیں۔ اس قبلہ اول کا قیام مسجد حرام (مکہ مکرمہ) کے چالیس سال بعد ہوا۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے بعد سب سے بابرکت وفضیلت کی جگہ مسجد اقصیٰ ہے۔ ۔ ا
    شامی تنازعہ، اور شام میں جاری خانہ جنگی میں لڑائی فقط بشارالاسد کی حامی فورسز اور باغی جنگجوؤں ہی کے درمیان نہیں بلکہ کئی غیرملکی طاقتیں بھی اپنے مفادات کے لیے اس تنازعے کا حصہ ہیں۔
    شام میں سن 2011ء سے جاری اس تنازعے میں اب تک کئی لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ دیگر لاکھوں گھر بار چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس تنازعے کی ابتدا پر بشارالاسد کی حامی فورسز کو متعدد مقامات پر پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی اور ملک کے ایک بڑے حصے کا قبضہ ان کے ہاتھوں سے جاتا رہا تھا، تاہم اس دوران غیرملکی طاقتیں بھی اس تنازعے میں کود پڑیں اور حتمی نتیجہ شامی شہریوں کی مشکلات میں اضافے کی صورت میں نکلا۔نمبر 1 : ایران :ایران اس لڑائی میں بشارالاسد کی حکومت کا ساتھ دے رہا ہے۔ اس تنازعے میں ایرانی فورسز بھی شامل ہیں جب کہ تہران حکومت سرمایے، ہتھیاروں اور خفیہ معلومات کے ذریعے بھی شامی فورسز کی مدد کر رہی ہے۔ شام میں ایران کے عسکری مشیر بھی موجود ہیں جب کہ تہران حکومت کی ایما پر لبنانی شیعہ عسکری تنظیم حزب اللہ کے جنگجو بھی شام میں بشارالاسد کے مخالفین کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔اس تنازعے میں ایرانی شمولیت شیعہ ازم کے محافظ کے طور پر دکھائی دیتی ہے۔ بشارالاسد کا تعلق اسی فرقے سے ہے اور ایران چاہتا ہے کہ بشارالاسد اقتدار پر براجمان رہیں۔نمبر 2 : اروس :روس نے سن 2015ء میں صدر بشارالاسد کی افواج کی مدد کے لیے شام میں عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا۔ ماسکو حکام کے مطابق روسی طیارے شام میں دہشت گرد تنظیموں کو نشانہ بنا رہے ہیں، تاہم روسی بمباری بشارالاسد کے مخالف دیگر گروہوں پر بھی دیکھی گئی ہے۔ روس چاہتا ہے کہ بشارالاسد اقتدار میں رہیں اور مشرق وسطیٰ میں اس کا اثرورسوخ قائم رہے۔
    نمبر3 : اسعودی عرب :ریاض حکومت شام میں اپوزیشن فورسز بہ شمول چند مسلم عسکریت پسند گروپوں کو ہتھیار اور سرمایہ فراہم کرتی رہی ہے۔ امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد میں شامل سعودی عرب نے اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فضائی کارروائیوں میں بھی حصہ لیا۔ سعودی عرب سنی اکثریتی آبادی کا حامل ملک ہے اور شام میں ایران مخالف اور سعودی عرب کی حامی حکومت کا قیام چاہتا ہے، جو بشارالاسد کی جگہ قائم ہو۔نمبر4 : اجرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں شام اور عراق کے کرد علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کرد فورسز کے خلاف ترکی کے عسکری آپریشن پر سراپا احتجاج ہیں۔ مظاہرین میں کردوں کی اپنی ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرنے والے بھی شامل ہیں۔نمبر5 : اترکی :ترکی اور شام کے درمیان حکومتی سطح پر تعلقات کچھ برس قبل تک نہایت اچھے تھے، تاہم شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد ترکی نے شام میں بشارالاسد کے مخالف باغیوں (سوائے کرد جنگجوؤں کے) ہتھیار فراہم کیے۔ ترکی نے بشارالاسد مخالف فورسز کو اپنی سرزمین پر بھی جگہ دی، تاکہ وہ شامی فورسز کو نشانہ بنا سکیں۔ ترکی کی کوشش ہے کہ شام میں کرد مخالف اپوزیشن فورسز کو طاقت ور کیا جائے اور دمشق میں ترکی کی حامی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے۔نمبر6 : ا اسرائیل :شامی تنازعے کے آغاز کے بعد سے اسرائیل وقفے وقفے سے حزب اللہ کے خلاف فضائی حملے کرتا رہا ہے۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ شام میں ایرانی اثرورسوخ قائم نہ ہو۔ ایرانی رہنما اسرائیل کے خلاف سخت ترین بیانات دیتے آئے ہیں۔ اسرائیل کی یہ کوشش بھی ہے کہ شام میں حزب اللہ مضبوط نہ ہو سکے۔ اس گروہ کی جانب سے ہم سایہ ملک لبنان سے اسرائیل پر راکٹ داغے جاتے رہے ہیں۔ اسرائیل کو خوف ہے کہ یہ عسکری گروہ گولان کے پہاڑی سلسلے سے بھی اسرائیل پر ایسے ہی حملے کر سکتا ہے۔نمبر7 : اامریکا: امریکا نے سن 2014ء میں عراق اور شام میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا۔ وہ شمالی شام میں کرد فورسز سمیت بشارالاسد کے مخالفین کو ہتھیار اور فضائی مدد فراہم کرتا رہا ہے۔ کرد فورسز کی یہی امداد اس وقت ترکی اور امریکا کے درمیان کشیدگی کی وجہ بھی ہے۔ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ شام میں اسلامک اسٹیٹ کو شکست دی جائے، تاہم بشارالاسد کے تیءں امریکا کی پالیسی بہت زیادہ واضح نہیں ہے۔ سابق صدر اوباما بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبات کرتے رہے تاہم ٹرمپ انتظامیہ اس بشارالاسد کے حوالے سے کسی حد تک نرم گوشہ رکھتی ہے۔
    نمبر 8 : اجرمنی :۔جرمنی شامی علاقوں پر اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فضائی نگرانی میں مدد دیتا رہا ہے، جب کہ برلن روس اور ایران سے بھی مطالبات کرتا رہا ہے کہ وہ بشارالاسد کو اقتدار چھوڑنے پر آمادہ کریں۔ برلن حکومت کی خواہش ہے کہ جرمنی میں متعدد دہشت گردانہ حملوں میں ملوث اسلامک اسٹیٹ کو شکست دی جائے، تاہم جرمنی اسد حکومت کا خاتمہ بھی چاہتا ہے۔ برلن حکومت کا موقف ہے کہ جب تک بشارالاسد اقتدار میں رہیں گے، شام میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔دعا ہے اللہ پاک اس مقدس سر زمین کو اسلام کے دشمنوں اور منافقوں سے بچا اور امت محمدیہ کو اتفاق و اتحاد دے ، اے اللہ پاک پیارے نبی ﷺ کی پیاری امت کی غائبانہ مدد فرما آمین