• ☚ آئی ایم ایف کا بجلی، گیس اور یوٹیلیٹی اسٹورز پر سبسڈیز ختم کرنے کا مطالبہ
  • ☚ وزیراعظم نے گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھادیا، اسلامو فوبیا کیخلاف یوم منانے کا مطالبہ
  • ☚ پیپلزپارٹی نے زیادتی کیس کے مجرم کو سرعام پھانسی دینے کی مخالفت کردی
  • ☚ وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں ہفتے کی چھٹی ختم کرنے کا فیصلہ
  • ☚ شمالی وزیرستان؛ سیکیورٹی فورسز پردہشت گردوں کے حملے میں افسر سمیت 3 اہلکارشہید
  • ☚ حکومت اسحاق ڈار کو واپس نہ لاسکی نواز شریف کو لانا تو اور مشکل ہے، شیخ رشید
  • ☚ حاجی ناصر محمود کو مسلم لیگ کا ضلعی جنرل سیکرٹری بننے پر مبارکباد
  • ☚ بیوروکریٹس کی جبری ریٹائرمنٹ کے حوالے سے نئی پالیسی تشکیل
  • ☚ عید سے قبل پلازے بند کرنیکی تجویز پر تاجر شدید پریشان
  • ☚ عید الاضحی سر پر آتے ہی ذخیرہ اندوز متحرک‘ عوام کو لوٹنے کی تیاریاں
  • ☚ ریڈیو پاکستان سے 749 ملازمین کو نکال دیا گیا
  • ☚ بلیک میل کرنے کی بجائے ہمت ہے تو مجھے گرفتار کرو، مریم نواز کا چیلنج
  • ☚ جو خوف تھا وہ بھی ختم ہوگیا وزیر اعظم دھمکیاں کسی اور کو دیں، مریم نواز
  • ☚ تربت میں سیکیورٹی فورسز پر دہشت گردوں کا حملہ،ایک اہلکار شہید 3 زخمی
  • ☚ عمران خان کی کرپشن کی داستانیں سامنے آئیں تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے، مریم نواز
  • ☚ او جی ڈی سی ایل کے قافلے پر حملہ، 7 ایف سی اہلکار اور 7 سیکیورٹی گارڈ شہید
  • ☚ ملک میں بڑھتی مہنگائی پر کابینہ ارکان ایک دوسرے پر برس پڑے
  • ☚ حکومتی قرضوں میں ایک سال کے دوران 3419 ارب کے اضافے کا انکشاف
  • ☚ کورونا؛ اسلام آباد میں متعدد گلیاں سیل کرنے کا حکم، شہریوں کو راشن خریدنے کی مہلت
  • ☚ ملک میں مہنگائی 3 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
  • ☚ کرونا لاک ڈاؤن، بے گھر افراد کی مدد کے لیے اٹلی کے شہریوں کی زبردست کاوش
  • ☚ ایران میں کورونا وائرس سے خاتون رکنِ اسمبلی ہلاک
  • ☚ کورونا وائرس کے متاثرین 1لاکھ 8 ہزار ہوگئے، اٹلی میں 24 گھنٹوں کے دوران 133ہلاکتیں
  • ☚ دبئی کے حکمراں اہلیہ کو دھمکیاں دینے اور بیٹیوں کے اغوا کے مرتکب ہوئے، برطانوی عدالت
  • ☚ ترکی اور روس کا شام میں جنگ بندی پر اتفاق
  • ☚ تیونس میں امریکی سفارت خانے پر خود کش حملہ
  • ☚ کورونا وائرس؛ سعودی شہریوں کے عمرہ ادائیگی پر بھی پابندی
  • ☚ امریکا میں چھوٹا طیارہ مرکزی شاہراہ پر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک
  • ☚ امریکا میں طوفانی بگولوں سے 24 افراد ہلاک
  • ☚ ایران نے کورونا وائرس سے 200 افراد کی ہلاکتوں کو جھوٹ قرار دیدیا
  • ☚ "ارطغرل غازی" کے اداکار کا طیارہ حادثے پر اظہار افسوس
  • ☚ کورونا وائرس؛ فنکاروں کی حکومت سے غریب طبقے کا خیال رکھنے کی درخواست
  • ☚ امریکی اداکارہ دیبی مزار کورونا میں مبتلا
  • ☚ احتیاط کیجیئے کورونا مذاق نہیں بلکہ سنگین وائرس ہے، شوبزفنکار
  • ☚ علی ظفر کی منفرد انداز میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی آگاہی مہم، ویڈیو وائرل
  • ☚ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پب جی گیم پر پابندی ختم کردی
  • ☚ روزانہ 22 گھنٹے گیم کھیلنے سے نوجوان کا بازو اور ہاتھ مفلوج
  • ☚ پی ایس ایل فائیو؛ کس نے کون سا ریکارڈ اپنے نام کیا ؟
  • ☚ پی ایس ایل فائیو کے سیمی فائنلز کل لاہور میں کھیلے جائیں گے
  • ☚ پاکستان اوربنگلا دیش کے درمیان ون ڈے اورٹیسٹ میچ ملتوی
  • آج کا اخبار

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پب جی گیم پر پابندی ختم کردی

    Published: 30-07-2020

    Cinque Terre

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پب جی گیم پر سے پابندی ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکام سے پب جی کے قانون نمائندوں کی ملاقات ہوئی جس میں گیم پر بندش کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ملاقات میں ہونے والی طویل مشاورت کے بعد پی ٹی اے نے آن لائن گیم ’پلیئرز ان نان بیٹل گراؤنڈ‘ (پب جی) پر عائد ہونے والی پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا۔
    خیال رہے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کی جانب سے 24 جولائی 2020 کو جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ آن لائن گیم ’پلیئرز ان نان بیٹل گراؤنڈ (پب جی) پر عائد ہونے والی پابندی برقرار رہے گی، لاہور ہائی کورٹ کی ہدایت پر 9 جولائی کو پی ٹی اے میں ہونے والی تفصیلی سماعت میں گیم کی بندش کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    پب جی گیم میں آخر ہے کیا

    ایس بی آئی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پب جی کھیلنے والے ایک صارف نے بتایا تھا کہ یہ گیم ایک مشن کے تحت کھیلی جاتی ہے جس میں دشمن سے مقابلہ ہوتا ہے اور اس کے لیے بندقوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

    صارف نے بتایا تھا کہ ’گیم ہم اکیلے بھی کھیل سکتے ہیں اور ایک سے زائد لوگ بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اپنے دفاع کے لیے ہمیں دشمن کو مار کر گیم جیتنی ہوتی ہے۔‘

    ان کا مزيد کہنا تھا کہ وہ کمپیوٹر پر یہ گیم کھیلتے ہیں اور ’کیونکہ یہ گیم آن لائن چل رہی ہوتی ہے اس لیے اس دوران آپ اس گیم کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر آپ کھانا کھانے جا رہے یا کسی بھی کام کے لیے اٹھیں گے تو دوسری پارٹی آپ کو مار دے گی۔‘

    صارف نے مزید بتایا کہ اس گیم کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ جو کمپیوٹر پر کھیلی جاتی ہے اور دوسری وہ جو موبائل پر لوگ کھیلتے ہیں۔

    موبائل پر کھیلی جانے والی پب جی گیم میں آپ کے پاس بہت سی آپشنز ہوتی ہیں جیسا کہ آپ کپڑے اور اپنا اسلحہ بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔

    دنیا بھر میں یہ گیم کھیلی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہر جگہ سے اس کے منفی اثرات کی شکایات آنے بعد گیم میں ایک اور فیچر متعارف کروایا گیا ہے جس کی مدد سے بتایا جاتا ہے کہ آپ کا سکرین ٹائم بہت زیادہ ہو گیا ہے اس لیے اب گیم کو بند کر دیں۔

    لیکن یہ اب یہ کھیلنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے وقت پر بند کرتا ہے یا پھر کھیلتا رہتا ہے۔