• ☚ حکومت نے ملک بھر میں جلسے جلوس پر پابندی عائد کردی
  • ☚ آئی ایم ایف کا بجلی، گیس اور یوٹیلیٹی اسٹورز پر سبسڈیز ختم کرنے کا مطالبہ
  • ☚ وزیراعظم نے گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھادیا، اسلامو فوبیا کیخلاف یوم منانے کا مطالبہ
  • ☚ پیپلزپارٹی نے زیادتی کیس کے مجرم کو سرعام پھانسی دینے کی مخالفت کردی
  • ☚ وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں ہفتے کی چھٹی ختم کرنے کا فیصلہ
  • ☚ شمالی وزیرستان؛ سیکیورٹی فورسز پردہشت گردوں کے حملے میں افسر سمیت 3 اہلکارشہید
  • ☚ حکومت اسحاق ڈار کو واپس نہ لاسکی نواز شریف کو لانا تو اور مشکل ہے، شیخ رشید
  • ☚ حاجی ناصر محمود کو مسلم لیگ کا ضلعی جنرل سیکرٹری بننے پر مبارکباد
  • ☚ بیوروکریٹس کی جبری ریٹائرمنٹ کے حوالے سے نئی پالیسی تشکیل
  • ☚ عید سے قبل پلازے بند کرنیکی تجویز پر تاجر شدید پریشان
  • ☚ اداکارہ ریما کوکورونا ویکسین لگادی گئی
  • ☚ ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈ کا نام پی ٹی آئی فارن فنڈنگ ہے، مریم نواز
  • ☚ پاکستان میں چینی کورونا ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت دیدی گئی
  • ☚ پلواما فالس فلیگ آپریشن پر پاکستان کا عالمی برادری سے بھارت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
  • ☚ بلوچستان میں خسرہ کی وباء پھیل گئی، 4 بچے جاں بحق، درجنوں متاثر
  • ☚ وزیراعظم کی منظوری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا
  • ☚ برطانوی پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بے نقاب کردیے
  • ☚ یوٹیلیٹی اسٹورز پر مسالہ جات، اشیائے صرف اور برانڈڈ مصنوعات بھی مہنگی، فہرست جاری
  • ☚ پی ڈی ایم والے پنڈی آئے تو انہیں چائے پانی پلائیں گے، ترجمان پاک فوج
  • ☚ (ن) لیگ کا پی ٹی آئی فارن فنڈںگ کیس کا فیصلہ نہ ہونے پر احتجاج کا اعلان
  • ☚ کرونا لاک ڈاؤن، بے گھر افراد کی مدد کے لیے اٹلی کے شہریوں کی زبردست کاوش
  • ☚ ایران میں کورونا وائرس سے خاتون رکنِ اسمبلی ہلاک
  • ☚ کورونا وائرس کے متاثرین 1لاکھ 8 ہزار ہوگئے، اٹلی میں 24 گھنٹوں کے دوران 133ہلاکتیں
  • ☚ دبئی کے حکمراں اہلیہ کو دھمکیاں دینے اور بیٹیوں کے اغوا کے مرتکب ہوئے، برطانوی عدالت
  • ☚ ترکی اور روس کا شام میں جنگ بندی پر اتفاق
  • ☚ تیونس میں امریکی سفارت خانے پر خود کش حملہ
  • ☚ کورونا وائرس؛ سعودی شہریوں کے عمرہ ادائیگی پر بھی پابندی
  • ☚ امریکا میں چھوٹا طیارہ مرکزی شاہراہ پر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک
  • ☚ امریکا میں طوفانی بگولوں سے 24 افراد ہلاک
  • ☚ ایران نے کورونا وائرس سے 200 افراد کی ہلاکتوں کو جھوٹ قرار دیدیا
  • ☚ عالیہ بھٹ کی شوٹنگ کے دوران طبیعت خراب، اسپتال منتقل
  • ☚ عالیہ بھٹ کی شوٹنگ کے دوران طبیعت خراب، اسپتال منتقل
  • ☚ حریم شاہ کی لیک ویڈیو نے مفتی قوی کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا
  • ☚ "ارطغرل غازی" کے اداکار کا طیارہ حادثے پر اظہار افسوس
  • ☚ کورونا وائرس؛ فنکاروں کی حکومت سے غریب طبقے کا خیال رکھنے کی درخواست
  • ☚ سری لنکا ٹیم حملے میں زخمی ہونے والے احسن رضا کا بطور ٹیسٹ امپائر ڈیبیو
  • ☚ محمد عامر کی قومی ٹیم میں واپسی کیلیے مشروط رضامندی
  • ☚ پی ایس ایل کا چھٹا ایڈیشن تماشائیوں کی موجودگی میں ہونے کا امکان
  • ☚ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پب جی گیم پر پابندی ختم کردی
  • ☚ روزانہ 22 گھنٹے گیم کھیلنے سے نوجوان کا بازو اور ہاتھ مفلوج
  • آج کا اخبار

    کورونا وائرس کی نئی قسم بدترین وبائی لہر کا باعث بن سکتی ہے، ماہرین

    Published: 08-01-2021

    Cinque Terre

    لندن/ برلن:وبائی امراض کے یورپی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر احتیاط نہ برتی گئی تو ناول کورونا وائرس کی نئی قسم سے ایک اور عالمی وبا جنم لے سکتی ہے جو ممکنہ طور پر ’بہت زیادہ بُری‘ ہوگی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سے برطانیہ میں ناول کورونا وائرس کی ایک نئی قسم سامنے آچکی ہے جسے ماہرین نے B.1.1.7 کا نام دیا ہے۔

    اب تک کی معلومات کے مطابق، یہ کووِڈ 19 کی عالمی وبا کا باعث بننے والے کورونا وائرس کے مقابلے میں 50 سے 70 فیصد تک زیادہ پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    بی ون ون سیون (B.1.1.7) پہلے پہل دسمبر 2020ء میں برطانیہ کے جنوب مشرقی علاقوں میں سامنے آیا تھا اور صرف ایک ماہ میں اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد، کورونا وائرس کی دیگر اقسام (variants) کے نئے متاثرین سے زیادہ ہوچکی ہے۔

    وبائی امراض کے مشہور ماہر اور ویلکم ٹرسٹ برطانیہ کے سربراہ، ڈاکٹر جیریمی فارر نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’بی ون ون سیون‘ اپنے پھیلاؤ کی زیادہ صلاحیت کے ساتھ موجودہ سال 2021ء میں کورونا وائرس کی ’غالب قسم‘ اور ’بہت بری وبا‘ کا باعث بن سکتا ہے۔

    ’’اگرچہ 2020ء میں اس وبا (کووِڈ 19) کے پھیلاؤ کی پیش گوئی خاصی حد تک ممکن تھی لیکن میرا خیال ہے کہ وائرس میں مسلسل ارتقاء کے نتیجے میں اب ہم عالمی وبا کے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہونے والے ہیں جہاں اس کے آئندہ پھیلاؤ سے متعلق پیش گوئی کرنا ممکن نہیں رہے گا،‘‘ انہوں نے کہا۔

    ’بی ون ون سیون‘ کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا جینوم کووِڈ 19 والے کورونا وائرس کے مقابلے میں 15 مقامات پر تبدیل شدہ ہے۔

    ان میں سے 8 تبدیلیوں کا تعلق اس کی بیرونی سطح پر بننے والے اُن اُبھاروں (spikes) سے ہے جو خلوی سطح کو جکڑ کر، وائرس کو خلیے کے اندر داخل ہونے میں مدد دیتے ہیں۔

    ممکنہ طور پر اسی وجہ سے ’بی ون ون سیون‘ کے پھیلاؤ کی شرح، کووِڈ 19 والے کورونا وائرس سے زیادہ ہے۔

    البتہ یونیورسٹی آف بیسل میں وائرس کی ماہر ایما ہوڈکروفٹ کو امید ہے کہ ہم اس نئے وائرس سے بروقت خبردار ہوسکیں گے اور فوری تدابیر اختیار کرتے ہوئے اس کے پھیلاؤ کو بھی قابو میں رکھ سکیں گے۔

    ’بی ون ون سیون‘ کے معاملے میں ماہرین کو جو بات سب سے زیادہ خطرناک محسوس ہورہی ہے، وہ اس میں تیزی سے تبدیل ہونے کی صلاحیت ہے۔

    یورپی یونین میں ناول کورونا وائرس کے جینوم پر نظر رکھنے کے حوالے سے مرکزی ملک ڈنمارک کے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ ’بی ون ون سیون‘ جب دسمبر 2020 کے پہلے میں دریافت ہوا تو اس کا جینوم گزشتہ برس والے ناول کورونا وائرس کے مقابلے میں 0.2 فیصد مختلف تھا لیکن صرف تین ہفتے بعد ہی یہ 2.3 فیصد تک تبدیل ہوچکا تھا۔

    اس ضمن میں ایک اور اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ’بی ون ون سیون‘ کی ہلاکت خیزی میں پچھلے سال والے کورونا وائرس کی نسبت کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے، تاہم پھر بھی ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر اس نئے وائرس نے زیادہ لوگوں کو متاثر کردیا تو کم تر شرحِ اموات کے باوجود بھی مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی۔