• ☚ چینی فوج نے کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرلی
  • ☚ صوبائی حکومت کی بوکھلاہٹ کا شکار اور مکمل ناکام ہے:ملک نصیر
  • ☚ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت این سی سی اجلاس
  • ☚ گلیانہ ‘ ٹانڈہ کے دیہی علاقوں میں لڑائی مار کٹائی‘ نصف درجن افراد زخمی
  • ☚ گجرات‘ کھاریاں اور سرائے عالمگیر میں چوری کی پے در پے وارداتیں
  • ☚ پنجاب اسمبلی میں جنت البقیع کی تعمیر کی قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم
  • ☚ کالاشاہ کاکو: قومی تاجر اتحاد کے چیئرمین سمیت دوافراد قتل
  • ☚ گجرات:چوکیدار کو رسیوں سے باندھ کر ڈکیتی کرنیوالے ملزمان گرفتار
  • ☚ شہری کیساتھ بدسلوکی کرنیوالا پولیس اہلکار معطل ‘ تحقیقات شروع
  • ☚ ملک ارشد محمود کے ایصال ثواب کیلئے ملک یونس کی رہائشگاہ پر تقریب
  • ☚ پی آئی اے کا فضائی میزبان کینیڈا میں پرسرار طور پر لاپتہ
  • ☚ پاکستان میں تیار کردہ وینٹی لیٹرز کی پہلی کھیپ این ڈی ایم اے کے حوالے
  • ☚ بلدیہ فیکٹری واقعے میں حماد صدیقی اور رحمان بھولا کا ہاتھ تھا، جے آئی ٹی رپورٹ
  • ☚ پنجاب میں مویشی منڈیاں لگانے کے لیے قواعد و ضوابط جاری
  • ☚ نوازشریف کے خلاف فیصلہ دینے والے جج ارشد ملک ملازمت سے برطرف
  • ☚ نوازشریف کے خلاف فیصلہ دینے والے جج ارشد ملک ملازمت سے برطرف
  • ☚ ایل او سی اور گلگت میں فوج کی اضافی نفری کے بھارتی دعوے غلط ہیں، ترجمان پاک فوج
  • ☚ یورپی یونین کے بعد برطانیہ کی بھی پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی
  • ☚ اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں مارے گئے ایک دہشت گرد کی شناخت
  • ☚ متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کردی
  • ☚ کرونا لاک ڈاؤن، بے گھر افراد کی مدد کے لیے اٹلی کے شہریوں کی زبردست کاوش
  • ☚ ایران میں کورونا وائرس سے خاتون رکنِ اسمبلی ہلاک
  • ☚ کورونا وائرس کے متاثرین 1لاکھ 8 ہزار ہوگئے، اٹلی میں 24 گھنٹوں کے دوران 133ہلاکتیں
  • ☚ دبئی کے حکمراں اہلیہ کو دھمکیاں دینے اور بیٹیوں کے اغوا کے مرتکب ہوئے، برطانوی عدالت
  • ☚ ترکی اور روس کا شام میں جنگ بندی پر اتفاق
  • ☚ تیونس میں امریکی سفارت خانے پر خود کش حملہ
  • ☚ کورونا وائرس؛ سعودی شہریوں کے عمرہ ادائیگی پر بھی پابندی
  • ☚ امریکا میں چھوٹا طیارہ مرکزی شاہراہ پر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک
  • ☚ امریکا میں طوفانی بگولوں سے 24 افراد ہلاک
  • ☚ ایران نے کورونا وائرس سے 200 افراد کی ہلاکتوں کو جھوٹ قرار دیدیا
  • ☚ "ارطغرل غازی" کے اداکار کا طیارہ حادثے پر اظہار افسوس
  • ☚ کورونا وائرس؛ فنکاروں کی حکومت سے غریب طبقے کا خیال رکھنے کی درخواست
  • ☚ امریکی اداکارہ دیبی مزار کورونا میں مبتلا
  • ☚ احتیاط کیجیئے کورونا مذاق نہیں بلکہ سنگین وائرس ہے، شوبزفنکار
  • ☚ علی ظفر کی منفرد انداز میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی آگاہی مہم، ویڈیو وائرل
  • ☚ پی ایس ایل فائیو؛ کس نے کون سا ریکارڈ اپنے نام کیا ؟
  • ☚ پی ایس ایل فائیو کے سیمی فائنلز کل لاہور میں کھیلے جائیں گے
  • ☚ پاکستان اوربنگلا دیش کے درمیان ون ڈے اورٹیسٹ میچ ملتوی
  • ☚ پی سی بی کی کھلاڑیوں کو ہاتھ نہ ملانے کی ہدایت
  • ☚ کوروناوائرس کا خوف؛ آئی پی ایل خالی میدانوں میں کروانے کا فیصلہ
  • آج کا اخبار

    حکمرانو!خُدارا گھاٹے کا سودا مت کرو

    Published: 09-03-2018

    Cinque Terre

    ٹیلی فون کہ بہت بڑا محکمہ ہے کو اونے پونے داموں بیرون ملک کی کمپنی "اتصالات"کوبیچ ڈالا گیا تھا یہ وہ محکمہ تھاجس کا ریونیو ہمارے ملک کے سالانہ بجٹ کا بیشتر حصہ پورا کرتا تھاکمپنی نے پہلی قسط کے بعد سے آج تک بقیہ70ارب روپے ادا نہیں کیے جو بھی حکمران آیا وہ اپنا"حصہ"وصول کر لیتا ہے اور کمپنی اصل رقم دینے سے ٹالم مٹول کرتی رہتی ہے غرضیکہ انکار ہی سمجھیں بلڈنگز اور محکمہ کی تنصیبات جس ریٹ پر بکیں وہ حکمرانوں سمیت ہم سب کے لیے شرم کا مقام ہے یعنی اصل قیمت سے دسواں حصہ بھی قیمت نہ لگی راوی بتاتے ہیں کہ حکمرانوں کا اس میں ایک خاص تناسب سے حصہ ہے زرداری لیتے رہے اور شریفین بھی وصول کر رہے ہیں اب جب کہ موجودہ حکومت کے چل چلاؤ میں تقریباً تین ماہ رہ گئے ہیں تو گیس کمپنیوں ،واپڈا اور سٹیل ملز کی فروختگی کا ان پر بھوت سوار ہے اس کو بھی اونے پونے داموں نجکاری کے بہانے فروخت کرکے اربوں روپے نقد کسی بیرونی لیکس میں جمع کروالیں گے جو کہ آمدہ عام انتخابات2018میں ووٹوں کی خرید و فروخت کے کام آسکے گا ویسے تو کسانوں کو ادھار رقم دینے کی سکیم کے اربوں روپے بھی اپنے من پسند افراد کو اپنے ہی کارکنوں کے ذریعے "حلف نامہ برائے ووٹ " لیکر کسانوں کوادائیگی جاری ہے اس طرح سے اپوزیشن خواہ جتنا بھی چیخے چلائے الیکشن سے پہلے بھی پری پول دھاندلی تو ہو رہی ہے جسے روکنے کا کوئی طریقہ دیگر جماعتوں کے پاس نہ ہے پھر کئی سال سے تو ایم این ایز ،ایم پی ایز ووزراء کو منہ تک نہ لگا یا ہے اور اب انہیں فی ممبر عوامی سکیموں کے لیے کروڑوں روپے بانٹے جارہے ہیں تاکہ انتخابات کے دوران جس چک گوٹھ محلہ میں جائیں وہیں ان کی عوامی نام نہاد کمیٹیاں بنوا کر سکیموں کی رقوم ان کی نظر کردیں وہ سکیمیں کل کو مکمل ہوں یا نہ پیسے تو ووٹ ڈلوانے والی " مشینوں (کارکنوں)" کے پاس حصہ بقدر جسہ پہنچ جائیں گے ایسے جی حضوریے کارکنوں کو ووٹ بذریعہ نوٹ کا طریقہ پہلے ہی خوب آتا ہے سندھ میں پی پی پی کے پی کے میں پی ٹی آئی اور ن لیگ اب ایسے ہتھکنڈوں سے خوب واقف ہو چکی ہیں جس کا اظہار انہوں نے سینٹ کے انتخابات میں خوب کیا ہے ملکی عدالتیں ،الیکشن کمیشن ،کہاں کہاں ٹانگ پھنسائیں؟ کہ جب سبھی سیاسی افراد ٹھگ ڈکیت کا روپ دھار لیں تو وہ کس کس کو پکڑ سکتے ہیں؟کہ" جمع پونجی" سے اعلیٰ فیسیں وکلاء کی نظر کرکے بالآخر مقدمات ہی التوا میں چلے جائیں گے اور سزا تو ہو ہی نہیں سکتی کہ ساری عدلیہ کے ججز بھی تو دووھ دھلے نہ ہیں غرضیکہ ان کم قیمتوں پر گیس کمپنیوں سٹیل ملز اور واپڈا کی نجکار ی بھی کسی اپنے ہی "چیلے چانٹے " کے نام کردیں گے اور اس سے اصل رقم کا خاصا حصہ وصول بھی کر لیں تو کون پوچھتا ہے سارے الیکشن کا خرچہ گیس کمپنیوں واپڈا اورسٹیل ملز کی فروختگی /نجکاری سے حاصل ہو جائے گا اور ذاتی بیرونی ممالک کی مختلف لیکس میں پہلے سے جمع پونجی ویسے ہی ہنگامی حالات کے لیے محفوظ پڑی رہے گی زرادری صاحب کو بہرحال ذاتی جمع پونجی خرچ کرنا پڑے گی تبھی سندھ کے اندر سیاسی حالات جوں کے توں برقرار رہ سکیں گے جس کا انہیں سینٹ کے موجودہ انتخابات میں مکمل تجربہ حاصل ہو چکا ہے وہ جہاندیدہ سیاستدان ہیں اور زمانے کی سرد و گرم کو بخوبی سمجھتے ہیں اور سینٹ کے انتخابات کی طرح جہاں کے پی کے میں صرف سات ممبرز تھے وہاں سے بھی دو سینٹ کی سیٹیں اڑاکر لے گئے ہیں ان کے "فرستادہ فرشتے "قابل ہیں اور خرید و فروخت کے سبھی ہتھکنڈوں سے بخوبی واقف بھی۔ "مال لگاؤ اور "تگنا چوگنا" کماؤکے فارمولے سے بخوبی واقف ہیں آخر ملک کے دوسرے بڑے سرمایہ دار یوں ہی نہیں بن گئے وہ دوستوں کو بھی نوازتے رہتے ہیں اور اپنا گھر بھی پورا کر لیتے ہیں شریفین بھی اب ان سے کسی طرح کم نہ ہیں کہ وہ بھی تھوڑے ممبر رکھنے کے باوجود کے پی کے سے دو سینٹ کی سیٹیں "جیت" گئے اب ٹیلی فون کی طرح ہمارے مذکورہ قیمتی اثاثے بھی بک گئے تو ہمارے پلے کوئی اہم ادارہ باقی نہیں رہے گا پہلے ہی ائیر پورٹس اور سڑکیں تک قرضوں کی مد میں گروی پڑی ہیں عوام شک و شبہ میں مبتلا ہیں کہ کوئی پتہ نہیں پورا ملک ہی آہستہ آہستہ گروی رکھ کر کسی مودی نما دوست کے پاس انڈیایا دوسرے ملک کو نہ بھاگ جائیں مگر یاد رکھیں کہ شہنشائے ایران اربوں ڈالرز ،زیورات /نوادرات بھاگتے وقت ساتھ نہ لے جاسکا تھا بقیہ زندگی لوگوں کے ٹکڑوں پر گزاری اور موت پر کوئی ملک لاش دفنانے کو تیار نہ تھا اسی طرح صدام اور قذافی و دیگر آمروں کا حشر بھی ہمارے سامنے ہے کہ حرام ذرائع سے جمع پونجی بھی انہیں عبرتناک/ شرمناک موت سے نہ بچا سکی ۔"ہر کمالے رازوالے " کے مصداق اب بھی وقت ہے کے تاریک مستقبل سے بچنے کے لیے قیمتی اداروں کی اونے پونے داموں فروختگی/ نجکاری قطعاً بند کردو کہ یہی ہمارے بچوں اور نئی پود کے کام آئیں گے پھر یہ بھی تو سونچیں کہ بلیو لائن وزیر اعظم کی ملکیت میں منافع بخش ہے مگر پی آئی اے سرکاری ملکیت میں خسارے میں جارہی ہے شریفوں کی ذاتی سٹیل ملز منافع میں اور سرکاری ہاتھوں میں موجود سٹیل ملز خسارے میں ہیں محسوس یہی ہوتا ہے کہ کم از کم یہ دو ادرے خود ہی کسی جعلی نام سے حکمرانوں کے پالتو تابعدار افراد ہی خرید لیں گے اور ہم منہ دیکھتے رہ جائیں گے کہ ہم عوام بدھو جو ہوئے کہ ان کی تابعداریاں کرنے کے لیے زندہ ہیں خواہ حکمران ہماری کھالوں کے جوتے ہی کیوں نہ تیار کرکے پہن لیں خدا دیکھ رہا ہے!
    آخری فیصلہ وہیں سے آئے گا خدائے عز وجل اپنی نظر کرم کریں گے اور ملک کے تمام مسالک فرقوں ،برادریوں ،علاقائی گروہوں کی پسندیدہ اللہ اکبر تحریک چلے گی جو انتخابات میں سبھی جغادری سیاستدانوں کا پولنگ اسٹیشنوں پر تیا پانچا کرڈالے گی اور ملک خوشحال ہو کر رہے گا ۔انشاء اللہ۔