• ☚ چینی فوج نے کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرلی
  • ☚ صوبائی حکومت کی بوکھلاہٹ کا شکار اور مکمل ناکام ہے:ملک نصیر
  • ☚ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت این سی سی اجلاس
  • ☚ گلیانہ ‘ ٹانڈہ کے دیہی علاقوں میں لڑائی مار کٹائی‘ نصف درجن افراد زخمی
  • ☚ گجرات‘ کھاریاں اور سرائے عالمگیر میں چوری کی پے در پے وارداتیں
  • ☚ پنجاب اسمبلی میں جنت البقیع کی تعمیر کی قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم
  • ☚ کالاشاہ کاکو: قومی تاجر اتحاد کے چیئرمین سمیت دوافراد قتل
  • ☚ گجرات:چوکیدار کو رسیوں سے باندھ کر ڈکیتی کرنیوالے ملزمان گرفتار
  • ☚ شہری کیساتھ بدسلوکی کرنیوالا پولیس اہلکار معطل ‘ تحقیقات شروع
  • ☚ ملک ارشد محمود کے ایصال ثواب کیلئے ملک یونس کی رہائشگاہ پر تقریب
  • ☚ یورپی یونین کے بعد برطانیہ کی بھی پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی
  • ☚ اسٹاک ایکسچینج پر حملے میں مارے گئے ایک دہشت گرد کی شناخت
  • ☚ متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کردی
  • ☚ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی ہے، رانا ثنا اللہ
  • ☚ ملک میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 95 ہزار سے زائد
  • ☚ اس وقت تک وزیر رہوں گا جب تک وزیر اعظم کا اعتماد حاصل ہے، فواد چوہدری
  • ☚ دورۂ انگلینڈ کیلیے اسکواڈ میں شامل مزید 7 کھلاڑی کورونا کا شکار
  • ☚ سعودی حکومت نے حج پالیسی کا اعلان کردیا
  • ☚ کورونا سےجاں بحق 75 فیصد افراد پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا تھے،ظفرمرزا
  • ☚ حکومتی وفد کی کوشش ناکام، اخترمینگل کا اتحاد میں واپسی سے انکار
  • ☚ کرونا لاک ڈاؤن، بے گھر افراد کی مدد کے لیے اٹلی کے شہریوں کی زبردست کاوش
  • ☚ ایران میں کورونا وائرس سے خاتون رکنِ اسمبلی ہلاک
  • ☚ کورونا وائرس کے متاثرین 1لاکھ 8 ہزار ہوگئے، اٹلی میں 24 گھنٹوں کے دوران 133ہلاکتیں
  • ☚ دبئی کے حکمراں اہلیہ کو دھمکیاں دینے اور بیٹیوں کے اغوا کے مرتکب ہوئے، برطانوی عدالت
  • ☚ ترکی اور روس کا شام میں جنگ بندی پر اتفاق
  • ☚ تیونس میں امریکی سفارت خانے پر خود کش حملہ
  • ☚ کورونا وائرس؛ سعودی شہریوں کے عمرہ ادائیگی پر بھی پابندی
  • ☚ امریکا میں چھوٹا طیارہ مرکزی شاہراہ پر گر کر تباہ، 3 افراد ہلاک
  • ☚ امریکا میں طوفانی بگولوں سے 24 افراد ہلاک
  • ☚ ایران نے کورونا وائرس سے 200 افراد کی ہلاکتوں کو جھوٹ قرار دیدیا
  • ☚ "ارطغرل غازی" کے اداکار کا طیارہ حادثے پر اظہار افسوس
  • ☚ کورونا وائرس؛ فنکاروں کی حکومت سے غریب طبقے کا خیال رکھنے کی درخواست
  • ☚ امریکی اداکارہ دیبی مزار کورونا میں مبتلا
  • ☚ احتیاط کیجیئے کورونا مذاق نہیں بلکہ سنگین وائرس ہے، شوبزفنکار
  • ☚ علی ظفر کی منفرد انداز میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی آگاہی مہم، ویڈیو وائرل
  • ☚ پی ایس ایل فائیو؛ کس نے کون سا ریکارڈ اپنے نام کیا ؟
  • ☚ پی ایس ایل فائیو کے سیمی فائنلز کل لاہور میں کھیلے جائیں گے
  • ☚ پاکستان اوربنگلا دیش کے درمیان ون ڈے اورٹیسٹ میچ ملتوی
  • ☚ پی سی بی کی کھلاڑیوں کو ہاتھ نہ ملانے کی ہدایت
  • ☚ کوروناوائرس کا خوف؛ آئی پی ایل خالی میدانوں میں کروانے کا فیصلہ
  • آج کا اخبار

    ج سے جمہوریت

    Published: 25-04-2018

    Cinque Terre

    جب ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں معاشرتی انصاف ہے تمام لوگ قانون کی نظر میں برابر ہیں جمہوریت میں اقتدار اعلیٰ اعوام کے ہاتھوں میں ہوتا ہے یعنی ایک ایسی حکومت جس میں ایک حکمران جماعت پوری قوم کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہوتی ہے ۔ لیکن جمہوریت کی کامیابی کی پہلی شرط بنیادی تعلیم ہے ۔ کیونکہ تعلیم ہی افراد میں سیاسی شعور پیدا کرتی ہے اور اسی کی بدولت وہ اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہ ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنماؤں کا قابل ، لائق، دوراندیش اور تعلیم یافتہ ہونا بھی نہایت ضروری ہے لیکن افسوناک پہلو یہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد صرف اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں اس کے ذریعے ایک اچھے اور قابل لیڈر کا انتخاب نہیں کرتے ۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت ہمیشہ خطرے میں ہی نظر آتی ہے ۔ اسی وجہ سے جمہوریت کے اصل ثمرات عوام تک نہیں پہنچتے جمہوریت کے حق میں عام طور رپ یہ نعرہ لگایا جاتا ہے کہ آج تک غور و فکر کے ذریعے انسان نے حکومت چلانے کے لیے جتنے نظام وضع کیے ہیں جمہوریت ان سب میں سے بہتر ہے اگر واقع جمہوریت اب تک وضع کردہ تمام نظاموں سے بہتر ہے تو ہمارے ملک میں اور تیسری دنیا کے بہت سے اور ملکوں میں یہ نظام وہ نتائج کیوں نہیں سامنے لاتا جس سے دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک بہرہ ور ہو رہے ہیں اس کا صرف کا ایک ہی جواب ہے جب کوئی نظام وہ بنیادی شرائط ہی پوری نہ کرتا ہو جس پر اس کی پرفارمنس اور ترقی کا انحصار ہو تو اس سے نتائج کس طرح برآمد ہو سکتے ہیں برادری سسٹم ، مذہبی عقائد ، فیوڈلزکے غلبے کی وجہ سے دیہی آبادی جو کل آبادی کا 60%ہے ۔ مجموعی طور پر اپنے ووٹ کا صحیح استعمال نہیں کر پاتی ۔ جمہوریت کی دو اقسام ہیں :


    بلاواسطہ جمہوریت، بالواسطہ جمہوریت


    1۔ بلاواسطہ جمہوریت کا آج کے دور میں تصور ممکن نہیں اس لیے کہ ریاستیں وسیع علاقے پر مشتمل ہوتی ہیں اور آبادی بھی زیادہ ہوتی ہے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ کسی ریاست کے تمام افراد ایک جگہ اکٹھے ہو کر ریاست کے معاملات میں حصہ لیں ایسا ممکن نہیں ۔

    2۔ بالواسطہ جمہوریت : اس قسم کی جمہوریت میں حکمران جماعت عوامکی رائے کے مطابق حکومت چلاتی ہے ۔ آج کل کی تمام جمہوری حکومتیں در حقیقت بالواسطہ جمہوری طرز کی ہیں اگرچہ ان دونوں اقسام میں عوام کی رائے کے مطابق طرز حکومت چلائی جاتی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود عوام کی ایک بڑی تعداد جمہوری حکومت سے نالاں نظر آتی ہے ۔ اس کی وجہ سے اس نظام میں پائی جانے والی دو خامیاں ہیں۔

    1۔ اس نظام کے تحت معاشرہ دو گروہوں امیر اور غریب میں تقسیم ہو کر رہ جاتا ہے اقتدار کو حاصل کرنے کے لیے سرمایہ دار لوگ پیسہ پانی کی طرح بہا کر اور ووٹروں کو مختلف قسم کے لالچ دے کر اقتدار حاصل کرلیتے ہیں اور قابل تعلیم یافتہ نوجوان کو صرف مالی حیثیت کی وجہ سے لیڈر بننے کے قابل نہیں سمجھا جاتا ۔ اس میں تمام تر فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ لہٰذا معاشرے کی اقلیتی لوگ ہمیشہ اکثریت کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اس نظام کی دوسری خامی جمہوریت قوم کو مختلف پارٹیوں میں تقسیم کرتی ہے ۔ جس کی وجہ سے ہر پارٹی اپنے مفاد کو مد نظر رکتھی ہے بجائے ملکی بقاء اور سا لمیت کے باقی رہی سہی کسرموروثی سیاست نکال دیتی ہے جمہوریت کا سیدھا سادھا فلسفہ ہے کہ نظام معاشرہ پر کسی طاقت ور فرد ، خاندان، قبیلے برادری طبقے ،علاقے کی اجارہ داری کو ختم کرکے اس اقتدار اور اختیار کو عوام الناس کی سطح تک کسی متفقہ معاہدہ کے تحت بانٹ دیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ جمہوری نظام میں موجود تضادات کو حل کیے بغیر اس نظام کو مؤثر، فعال اور تعمیری نہیں بنایا جاسکتا۔ ریاست آئین کی بالا دستی ، عدلیہ کی آزادی اور شفاف احتساب کو یقینی بنائیں۔ عوام کو صحت، تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور اس جمہوری نظام کو لاگو کیا جائے جسے عوامی ووٹ سے لایا جاتا ہے ۔ تاکہ جمہوریت ملک اور قوم کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ جمہوریت میں عوام کی حکمرانی ہوتی ہے مگر ہمارے جمہوری نظام میں عوام کی حیثیت صرف اس مہر کی ہے جس سے ووٹ کی پرچی پر نشان لگایا جاتا ہے ۔ شخصیت پرسی جمہوری اصولوں کے ہی منافی ہے ۔ مگر ہمارے سیاسی لیڈ ر تا حیات پارٹی کے چیئر مین بن جاتا ہیں۔ سیاسی اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تمام اداروں کا اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہے ہوئے کام کرنا ضروری ہے ۔ پاکستان میں جمہوریت کو پھلنے پھولنے کے لیے عوام کی زندگیوں میں ایک صاف ستھرے اور شفاف انداز میں تھوڑی سی بہتری لانے کی ضرورت ہے اور جب تک ایسا نہیں ہوتا لانگ مارچز اور انقلاب کے نعرے کے ذریعے نظام کو بدلنے کا مطالبہ بجائے ایسی اصطلاحات کے جو موجودہ جمہوری نظام میں زیادہ شفافیت اور احتساب کی روایات لائے۔ پاکستان میں جمہوریت کے لیے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ہے ۔